مشکوۃ

Mishkat

افعال حج کا بیان

حج سے منع کیے جانے اور حج کے فوت ہو جانے کا بیان

بَاب الْإِحْصَار وفوت الْحَج

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدْ أُحْصِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَلَقَ رَأَسَهُ وَجَامَعَ نِسَاءَهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ حَتَّى اعْتَمَرَ عَامًا قَابلا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، (صلح حدیبیہ کے سال) رسول اللہ ﷺ کو (عمرہ کرنے سے) روک دیا گیا تو آپ ﷺ نے اپنا سر منڈایا ، اپنی ازواج مطہرات سے جماع کیا اور قربانی کی ، اور پھر اگلے سال عمرہ کیا ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَالَ كَفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدَايَاهُ وَحَلَقَ وَقَصَّرَ أَصْحَابه. رَوَاهُ البُخَارِيّ

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (عمرہ کرنے کے لیے) روانہ ہوئے تو قریش بیت اللہ پہنچنے سے پہلے حائل ہو گئے تو نبی ﷺ نے اپنی قربانیاں ذبح کیں ، اور آپ نے اپنا سر منڈایا جبکہ آپ کے بعض صحابہ نے سر کے بال کترائے ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

مسور بن مخرمہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سر منڈانے سے پہلے قربانی کی اور آپ نے اپنے صحابہ کو بھی اس کا حکم فرمایا ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَن ابنِ عمَرَ أَنَّهُ قَالَ: أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ إِنْ حُبِسَ أَحَدُكُمْ عَنِ الْحَجِّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى يَحُجَّ عَامًا قَابِلًا فَيَهْدِيَ أَوْ يَصُومَ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَديا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : کیا تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی سنت کافی نہیں ! اگر تم میں سے کسی کو حج سے روک دیا جائے تو وہ بیت اللہ کا طواف کرے اور صفا مروہ کی سعی کرے ، پھر ہر چیز سے حلال ہو جائے (احرام کی پابندی ختم ہو جائے) حتی کہ اگلے سال حج کرے اور قربانی کرے ، اگر قربانی میسر نہ ہو تو پھر روزے رکھے ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ. قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ فَقَالَ لَهَا: «لَعَلَّكِ أَرَدْتِ الْحَجَّ؟» قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً. فَقَالَ لَهَا: حُجِّي وَاشْتَرِطِي وَقُولِي: اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حبستني

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ ضباعہ بنت زبیر ؓ کے پاس گئے تو ان سے فرمایا :’’ شاید کہ آپ نے حج کا ارادہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کی قسم ! مجھے کچھ تکلیف ہے ، آپ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ حج کریں اور شرط قائم کر لیں ، اس طرح کہیں : اے اللہ ! میرے حلال ہونے کی جگہ وہی ہو گی جہاں تو مجھے (تکلیف کی وجہ سے آگے جانے سے) روک لے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُبَدِّلُوا الْهَدْيَ الَّذِي نَحَرُوا عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِيهِ قِصَّةٌ وَفِي سَنَدِهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کو حکم فرمایا کہ انہوں نے حدیبیہ کے سال جو قربانی کی تھی اس کے بدلے میں اب عمرۃ القضاء میں قربانی کریں ۔ ابوداؤد ۔ اس میں قصہ ہے اور اس کی سند میں محمد بن اسحاق (مدلس) ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من كُسِرَ أَوْ عَرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ من قَابل» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دواد وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: «أَوْ مَرِضَ» . وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن. وَفِي المصابيح: ضَعِيف

حجاج بن عمرو انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو گیا اور وہ اگلے سال حج کرے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی ۔ اور ابوداؤد نے ایک دوسری روایت میں اضافہ نقل کیا ہے :’’ یا وہ بیمار ہو جائے ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے ۔ اور مصابیح میں ضعیف ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی وابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

وَعَن عبدِ الرَّحمنِ بنِ يَعمُرَ الدَّيْلي قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحَجُّ عَرَفَةُ مَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ أيَّامُ مِنىً ثلاثةَ أيَّامٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ هَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّالِثِ

عبدالرحمن بن یعمر دیلی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ حج وقوفِ عرفات ہی ہے ، جو شخص مزدلفہ کی رات طلوع فجر سے پہلے عرفہ میں قیام کر لے تو اس نے حج پا لیا ، اور منیٰ کے ایام تین ہیں ، جو شخص دو دن میں جلدی کر کے فارغ ہو جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو شخص تاخیر کرے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔