مشکوۃ

Mishkat

افعال حج کا بیان

حرمتِ مدینہ کا بیان ، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے

بَابُ حَرَمِ الْمَدِينَةِ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى

وَعَنْ صَالِحٍ مَوْلًى لِسَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا وَجَدَ عَبِيدًا مِنْ عَبِيدِ الْمَدِينَةِ يَقْطَعُونَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ فَأَخَذَ مَتَاعَهُمْ وَقَالَ يَعْنِي لِمَوَالِيهِمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ينْهَى أَنْ يُقْطَعَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ شَيْءٌ وَقَالَ: «مَنْ قَطَعَ مِنْهُ شَيْئًا فَلِمَنْ أَخَذَهُ سَلَبُهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

سعد ؓ کے آزاد کردہ غلام صالح سے روایت ہے کہ سعد ؓ نے مدینہ کے کچھ غلاموں کو مدینہ کے درخت کاٹتے ہوئے پایا تو انہوں نے ان کا سامان لے لیا ، اور ان کے مالکوں سے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ کے درخت سے کوئی چیز کاٹنے سے منع کرتے ہوئے سنا ، اور آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اس کی کوئی چیز کاٹے تو جو شخص اسے پکڑے تو اس کا سامان اسی (پکڑنے والے) کو ملے گا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ صَيْدَ وَجٍّ وَعِضَاهَهُ حِرْمٌ مُحَرَّمٌ لِلَّهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ مُحْيِي السُّنَّةِ: «وَجٌّ» ذَكَرُوا أَنَّهَا مِنْ نَاحِيَةِ الطَّائِف وَقَالَ الْخطابِيّ: «إِنَّه» بدل «إِنَّهَا»

زبیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وج (طائف طائف کا کچھ علاقہ) کا شکار کرنا اور اس کے خاردار درختوں کا کاٹنا حرام ہے ، اللہ کے لیے حرام کیا گیا ہے ۔‘‘ ابوداؤد ۔ اور امام محی السنہ نے بیان کیا :’’وج‘‘ کے بارے میں علما نے فرمایا ہے کہ وہ طائف کا ایک علاقہ ہے ، اور خطابی ؒ نے : اَنَّھَا کی جگہ اَنَّہ کہا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوت بالمدية فليمت لَهَا فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ يَمُوتُ بِهَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح غَرِيب إِسْنَادًا

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص مدینہ میں فوت ہو سکتا ہو تو اسے اسی میں فوت ہونا چاہیے ، کیونکہ جو شخص اسی ہی میں فوت ہو گا میں اس کی شفاعت کروں گا ۔‘‘ احمد ، ترمذی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس کی اسناد غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «آخِرُ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْإِسْلَامِ خَرَابًا الْمَدِينَةُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسلامی بستیوں میں سے مدینہ ایسی بستی ہے جو سب سے آخر میں ویران ہو گی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ: أَيَّ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ نَزَلْتَ فَهِيَ دَارُ هِجْرَتِكَ الْمَدِينَةِ أَوِ الْبَحْرَيْنِ أَوْ قِنَّسْرِينَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

جریر بن عبداللہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی کہ آپ ان تینوں ، مدینہ یا بحرین یا قنسرین ، میں سے جہاں بھی قیام فرمائیں وہ آپ کا دار ہجرت ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ لَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ عَلَى كُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابوبکرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مسیح دجال کا رعب مدینہ میں داخل نہیں ہو گا ، اس روز اس کے سات دروازے ہوں گے ، اور ہر دروازے پر دو فرشتے ہوں گے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعفَي مَا جعلت بِمَكَّة من الْبركَة»

انس ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے دعا فرمائی :’’ اے اللہ ! تو نے جتنی برکت مکہ کو دی ہے اس سے دگنی مدینہ کو عطا فرما ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ الْخَطَّابِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ زَارَنِي مُتَعَمِّدًا كَانَ فِي جِوَارِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَكَنَ الْمَدِينَةَ وَصَبَرَ عَلَى بَلَائِهَا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا وَشَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ مَاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَيْنِ بَعَثَهُ اللَّهُ مِنَ الْآمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَة»

آل خطاب میں سے ایک آدمی نے نبی ﷺ سے روایت کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص قصداً میری زیارت کے لیے آئے تو روز قیامت وہ میرے پڑوس میں ہو گا ، جو شخص مدینہ میں سکونت اختیار کرے اور اس کی مشکلات پر صبر کرے تو روز قیامت میں اس کے لیے گواہ بنوں گا یا سفارشی ہوں گا ، اور جو حرمین (مکہ ، مدینہ) میں کسی جگہ فوت ہوا تو روز قیامت وہ امن والوں میں سے ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا: «مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِي بَعْدَ مَوْتِي كَانَ كَمَنْ زَارَنِي فِي حَياتِي» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان

ابن عمر ؓ مرفوع روایت بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص حج کرے اور میری موت کے بعد میری قبر کی زیارت کرے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے میری زندگی میں میری زیارت کی ۔‘‘ امام بیہقی نے دونوں روایتیں شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

لإرساله وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا وَقَبْرٌ يُحْفَرُ بِالْمَدِينَةِ فَاطَّلَعَ رَجُلٌ فِي الْقَبْرِ فَقَالَ: بِئْسَ مَضْجَعِ الْمُؤْمِنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بئس مَا قُلْتَ» قَالَ الرَّجُلُ إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا إِنَّمَا أَرَدْتُ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا مِثْلَ الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ بُقْعَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَكُونَ قَبْرِي بِهَا مِنْهَا» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسَلًا

یحیی بن سعید ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے جبکہ مدینہ میں ایک قبر کھودی جا رہی تھی ، ایک آدمی نے قبر میں جھانکا تو کہا : مومن کی بہت بُری جگہ ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے بہت بُری بات کی ہے ۔‘‘ اس آدمی نے عرض کیا : میرا یہ ارادہ نہیں تھا ، میں نے تو یہ ارادہ کیا کہ اللہ کی راہ میں شہادت (بستر پر مرنے سے) افضل ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں شہادت جیسی تو کوئی چیز ہی نہیں اور مجھے اپنی قبر کے لیے یہ خطۂ زمین پوری زمین میں سب سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔‘‘ آپ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی ۔ امام مالک نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِوَادِي الْعَقِيقِ يَقُولُ: أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي فَقَالَ: صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ وَقُلْ: عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ . وَفِي رِوَايَة: «قل عُمرةٌ وحِجّةٌ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب ؓ نے بیان فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو وادی عقیق میں فرماتے ہوئے سنا :’’ آج رات میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا میرے پاس آیا تو اس نے کہا : اس مبارک وادی میں نماز پڑھیں ، اور کہیں : عمرہ حج میں داخل ہو گیا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ آپ (ﷺ) فرمائیں : عمرہ اور حج کی ایک ساتھ نیت کی ۔‘‘ رواہ البخاری ۔