مشکوۃ

Mishkat

خرید و فروخت کا بیان

ممنوعہ بیوع (تجارت) کا بیان

بَابُ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا مِنَ الْبُيُوعِ


وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِي. مُتَّفِقٌ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ وَعَنِ السنبل حَتَّى يبيض ويأمن العاهة

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ ان کی صلاحیت ظاہر ہو جائے ، اور آپ ﷺ نے بائع اور مشتری دونوں کو منع فرمایا ۔ بخاری ، مسلم ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے آپ ﷺ نے کھجوروں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ سرخ ہو جائیں اور آپ ﷺ نے سنبل (بالیوں) کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ سفید ہو جائیں اور آفت سے بچ جائیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
Conclusion
تخریج
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۱۹۴) و مسلم (۴۹ / ۱۵۳۴ ، ۵۰ / ۱۵۳۵) ۔ 3892