مشکوۃ

Mishkat

خرید و فروخت کا بیان

ممنوعہ بیوع (تجارت) کا بیان

بَابُ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا مِنَ الْبُيُوعِ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عنْ بيعِ الحصاةِ وعنْ بيعِ الغَرَرِ. رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے کنکری پھینک کر بیع کرنے اور دھوکے کی بیع کرنے سے منع فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ وَكَانَ بَيْعًا يَتَبَايَعُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ الرَّجُلُ يَبْتَاعُ الْجَزُورَ إِلَى أَنْ تُنتَجَ النَّاقةُ ثمَّ تُنتَجُ الَّتِي فِي بطنِها

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ’’ حبل الحبلۃ ‘‘ کی بیع سے منع فرمایا ، اور اہل جاہلیت اس طرح کی بیع کیا کرتے تھے ، اور وہ اس طرح کہ آدمی اس اقرار پر اونٹنی خریدتا کہ یہ اونٹنی بچہ جنے گی اور پھر جب وہ بچہ ، بچہ جنے گا تب اس کی قیمت ادا کروں گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے نرسے جفتی کرانے پر اجرت لینے سے منع فرمایا ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ جَابِرٍ: قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ ضِرَابِ الْجَمَلِ وَعَنْ بَيْعِ الْمَاءِ وَالْأَرْضِ لِتُحْرَثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے اونٹ سے اونٹنی پر جفتی کروانے پر اجرت لینے اور کھیتی باڑی کے لیے دی جانے والی زمین اور پانی پر اجرت لینے سے منع فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔

وَعنهُ قَالَ: نهى رَسُول الله عَن بيع فضل المَاء. رَوَاهُ مُسلم

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے زائد از ضرورت پانی فروخت کرنے سے منع فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُبَاع فضل المَاء ليباع بِهِ الْكلأ»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ زائد از ضرورت پانی فروخت نہ کیا جائے تاکہ اس کے ذریعے گھاس فروخت کی جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟» قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ؟ مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مني» . رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اناج کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے تو آپ نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا تو آپ کی انگلیاں نم ہو گئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اناج والے ! یہ کیا ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس پر بارش ہو گئی تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے اسے اناج کے اوپر کیوں نہ کیا تاکہ لوگ جان لیتے ، (جان لو) جس شخص نے دھوکہ دیا وہ مجھ سے نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الثُّنْيَا إِلَّا أنْ يُعلمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے (غیر معین اشیاء میں) استثنا کرنے سے منع فرمایا ، البتہ اگر وہ (مستثنیٰ چیز) معلوم ہو تو جائز ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ هَكَذَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ أَنَسٍ. وَالزِّيَادَة الَّتِي فِي المصابيح وَهُوَ قولُه: نهى عَن بيْعِ التَمْرِ حَتَّى تزهوَ إِنَّما ثبتَ فِي رِوَايَتِهِمَا: عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے انگوروں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ (پک کر) سیاہ ہو جائیں اور دانوں (غلہ اناج وغیرہ) کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ (پک کر) سخت ہو جائیں ۔‘‘ امام ترمذی اور ابوداؤد نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے ، ان دونوں کے ہاں (انس ؓ) سے مروی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں : آپ ﷺ نے کھجوروں کی بیع سے منع فرمایا : حتی کہ وہ سرخ ہو جائیں ۔ البتہ ابن عمر ؓ سے مروی روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ ﷺ نے کھجوروں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ سرخ ہو جائیں ۔ اور یہ اضافہ جو مصابیح میں ہے وہ یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے کھجوروں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ سرخ ہو جائیں ۔ البتہ ان دونوں کی ابن عمر ؓ سے مروی روایت میں مذکورہ الفاظ موجود ہیں :’’ آپ ﷺ نے کھجوروں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ سرخ ہو جائیں ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ سندہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم نهى عَن بيع الكالئ بالكالئ. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ

ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے قرض کے ساتھ قرض کی بیع کو ممنوع قرار دیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارقطنی ۔

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے بیعانہ لے کر بیع کرنے سے منع فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ امالک و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن بيْعِ المضطرِّ وعنْ بيْعِ الغَرَرِ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِكَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجبورو بے بس شخص کی بیع سے ، دھوکے کی بیع سے اور پھلوں کی بیع سے اس سے پہلے کہ وہ پک جائیں منع فرمایا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِلَابٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ فَنَهَاهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُطْرِقُ الْفَحْلَ فَنُكْرَمُ فَرَخَّصَ لَهُ فِي الْكَرَامَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

انس ؓ بیان کرتے ہیں کلاب قبیلے کے ایک آدمی نے نر سے جفتی کرانے کی اجرت کے بارے میں نبی ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے اسے منع کیا ، تو اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم تو جفتی کراتے ہیں لیکن (بن مانگے) ہدیہ کے طور پر ہمیں نوازا جاتا ہے ، آپ ﷺ نے اسے ہدیۃً رکھنے کی اجازت دے دی ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيعَ مَا ليسَ عندِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ فِي رِوَايَةٍ لَهُ وَلِأَبِي دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ: قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيُرِيدُ مِنِّي الْبَيْعَ وَلَيْسَ عِنْدِي فَأَبْتَاعُ لَهُ مِنَ السُّوقِ قَالَ: «لَا تبِعْ مَا ليسَ عندَكَ»

حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ایسی چیز بیچنے سے مجھے منع فرمایا جو میرے پاس موجود نہ ہو ۔ ترمذی ۔ ترمذی کی ایک دوسری روایت اور ابوداؤد اور نسائی کی ایک روایت میں ہے ، وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کوئی آدمی میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے ، لیکن وہ میرے پاس نہیں ہوتی تو میں اسے بازار سے خرید دیتا ہوں ، (تو کیا یہ جائز ہے ؟) آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو چیز تیرے پاس نہ ہو اسے نہ بیچ ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بيعةٍ. رَوَاهُ مَالك وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ایک بیع میں دو بیع سے منع فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ. رَوَاهُ فِي شرح السّنة

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ایک ہی مرتبہ دو بیع سے منع فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ البغوی فی شرح السنہ ۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ يضمن وَلَا بيع مَا لَيْسَ عِنْدَكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا صَحِيح

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قرض اور بیع (ایک ساتھ) جائز ہے نہ ایک بیع میں دو شرطیں ، اور نہ ہی اس چیز کا منافع جائز ہے جس کا ضامن نہیں اور اس چیز کی بیع بھی جائز نہیں جو تیرے پاس نہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤ ، نسائی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بالنقيع بِالدَّنَانِيرِ فآخذ مَكَانهَا الدارهم وأبيع بِالدَّرَاهِمِ فَآخُذُ مَكَانَهَا الدَّنَانِيرَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ والدارمي

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مقام نقیع پر اونٹوں کو دیناروں کے بدلے بیچا کرتا تھا اور ان کی جگہ درہم وصول کرتا تھا ، اور کبھی درہموں میں بیچتا اور ان کی جگہ دینار وصول کرتا تھا ، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم اسی روز کی قیمت وصول کرو ، اور جب تم دونوں جدا ہو تو تمہارے درمیان لین دین باقی نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔

وَعَنِ الْعَدَّاءِ بْنِ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ أَخْرَجَ كِتَابًا: هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْترى مِنْهُ عبدا أَو أمة لَا دَاءَ وَلَا غَائِلَةَ وَلَا خِبْثَةَ بَيْعَ الْمُسْلِمِ الْمُسْلِمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

عدّاء بن خالد بن ہوذہ ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے ایک تحریر نکالی ، (جس کی عبارت یوں تھی) یہ تحریر اس چیز سے متعلق ہے جو عداء بن خالد بن ہوذہ نے اللہ کے رسول ، محمد ﷺ سے غلام یا لونڈی خریدی ، اس میں کوئی بیماری ہے نہ اسے کوئی بُری عادت ہے اور نہ کوئی اخلاقی برائی ، اور یہ مسلمان کی مسلمان سے بیع ہے ۔‘‘ ترمذی ۔ اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَ حِلْسًا وَقَدَحًا فَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِي هَذَا الحلس والقدح؟» فَقَالَ رجل: آخذهما بِدِرْهَمٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ؟» فَأَعْطَاهُ رَجُلٌ دِرْهَمَيْنِ فَبَاعَهُمَا مِنْهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کمبل اور پیالہ بیچنے کا ارادہ کیا تو فرمایا :’’ اس کمبل اور پیالے کو کون خریدتا ہے ؟‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا ، میں ان دونوں کو ایک درہم میں خریدتا ہوں ، تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ایک درہم سے زیادہ کون دیتا ہے ؟‘‘ چنانچہ ایک آدمی نے دو درہم کے عوض انہیں آپ ﷺ سے خرید لیا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔