مشکوۃ

Mishkat

خرید و فروخت کا بیان

شراکت اور وکالت کا بیان

بَاب الشّركَة وَالْوكَالَة

عَن زهرَة بن معبد: أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ بِهِ جَدُّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامٍ إِلَى السُّوقِ فَيَشْتَرِيَ الطَّعَامَ فَيَلْقَاهُ ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ الزُّبَيْرِ فَيَقُولَانِ لَهُ: أَشْرِكْنَا فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَعَا لَكَ بِالْبَرَكَةِ فَيُشْرِكُهُمْ فَرُبَّمَا أَصَابَ الرَّاحِلَةَ كَمَا هِيَ فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى الْمَنْزِلِ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامٍ ذَهَبَتْ بِهِ أُمُّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ رَأسه ودعا لَهُ بِالْبركَةِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

زہرہ بن معبد سے روایت ہے کہ ان کے دادا عبداللہ بن ہشام ؓ انہیں بازار لے جاتے اور غلہ خریدتے ، پھر ابن عمر ؓ اور ابن زبیر ؓ انہیں ملتے تو وہ انہیں (عبداللہ بن ہشام ؓ سے) کہتے : ہمیں بھی شریک کر لو ، کیونکہ نبی ﷺ نے آپ کے لیے برکت کی دعا فرمائی ہے ، وہ انہیں شریک کر لیتے ، بسا اوقات انہیں پورے اونٹ کے سامان کا نفع ہو جاتا تو وہ اسے اپنے گھر کی طرف بھیج دیتے ، اور عبداللہ بن ہشام ؓ کو ان کی والدہ نبی ﷺ کے پاس لے کر گئی تھیں تو آپ نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا ، اور اس کے لیے برکت کی دعا کی تھی ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَتِ الْأَنْصَارُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْسِمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ إِخْوَاننَا النخيل قَالَ: «لَا تكفوننا المؤونة وَنَشْرَكْكُمْ فِي الثَّمَرَةِ» . قَالُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، انصار نے نبی ﷺ سے عرض کیا ، آپ ہمارے اور ہمارے (مہاجر) بھائیوں کے درمیان کھجوروں کے درخت تقسیم فرما دیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، (انہوں نے مہاجرین سے کہا) تم محنت کرو ، ہم تمہیں پیداوار میں شریک کر لیں گے ۔ انہوں (مہاجرین) نے کہا : ہم نے سن لیا اور ہم نے مان لیا ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَن عُرْوَة بن أبي الْجَعْد الْبَارِقي: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ دِينَارًا لِيَشْتَرِيَ بِهِ شَاةً فَاشْتَرَى لَهُ شَاتين فَبَاعَ إِحْدَاهمَا بِدِينَار وَأَتَاهُ بِشَاة ودينار فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِهِ بِالْبَرَكَةِ فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى تُرَابا لربح فِيهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

عروہ بن ابی جعد البارقی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک دینار دیا تاکہ وہ آپ ﷺ کے لیے ایک بکری خریدے ۔ اس نے آپ ﷺ کے لیے دو بکریاں خریدیں ، اور پھر ان میں سے ایک بکری ایک دینار میں فروخت کر دی ، اور ایک بکری اور ایک دینار آپ کی خدمت میں پیش کر دیا ، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی بیع میں برکت کی دعا فرمائی ، پس اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں نفع کماتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔

عَن أبي هُرَيْرَة رَفَعَهُ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: أَنا ثَالِث الشَّرِيكَيْنِ مَا لم يخن صَاحِبَهُ فَإِذَا خَانَهُ خَرَجْتُ مِنْ بَيْنِهِمَا . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَزَاد رزين: «وَجَاء الشَّيْطَان»

ابوہریرہ ؓ مرفوع روایت بیان کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے :’’ جب دو شراکت داروں میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی سے خیانت نہیں کرتا تو میں ان کا تیسرا ہوتا ہوں ، جب وہ اس سے خیانت کرتا ہے تو میں ان دونوں میں سے نکل جاتا ہوں ۔‘‘ ابوداؤد ۔ اور رزین نے یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ اور شیطان آ جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و رزین ۔

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص تمہارے پاس امانت رکھے تو تم امانت واپس کر دو ، اور جو شخص تم سے خیانت کرے تو تم اس سے خیانت نہ کرو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ: إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ فَقَالَ: «إِذَا أَتَيْتَ وَكِيلِي فَخُذْ مِنْهُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَسْقًا فَإِنِ ابْتَغَى مِنْكَ آيَةً فَضَعْ يدك على ترقوته» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے خیبر جانے کا ارادہ کیا تو میں نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام کیا اور عرض کیا میں خیبر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میرے وکیل کے پاس جاؤ تو اس سے پندرہ وسق کھجوریں لے لینا ، اور اگر وہ تجھ سے کوئی نشانی طلب کرے تو اپنا ہاتھ اس کے حلق پر رکھ دینا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

عَن صُهَيْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثٌ فِيهِنَّ الْبَرَكَةُ: الْبَيْعُ إِلَى أَجَلٍ والمقارضة واخلاط الْبُرِّ بِالشَّعِيرِ لِلْبَيْتِ لَا لِلْبَيْعِ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

صہیب ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین چیزوں میں برکت ہے ، ایک مدت تک (ادھار) بیع کرنا ، مضاربت کرنا ، اور گندم میں جو ملانا گھر میں استعمال کے لیے ، تجارت کے لیے نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔

وَعَن حَكِيم بن حزَام أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِدِينَارٍ لِيَشْتَرِيَ لَهُ بِهِ أُضْحِيَّةً فَاشْتَرَى كَبْشًا بِدِينَارٍ وَبَاعَهُ بِدِينَارَيْنِ فَرَجَعَ فَاشْتَرَى أُضْحِيَّةً بِدِينَارٍ فَجَاءَ بِهَا وَبِالدِّينَارِ الَّذِي اسْتَفْضَلَ من الْأُخْرَى فَتصدق رَسُول الله صلى بِالدِّينَارِ فَدَعَا لَهُ أَنْ يُبَارَكَ لَهُ فِي تِجَارَته. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

حکیم بن حزام ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے ایک دینار دے کر بھیجا تاکہ وہ اس سے آپ کے لیے قربانی خریدے ، اس نے ایک دینار کا مینڈھا خریدا اور دو دینار میں بیچ دیا ، وہ پھر واپس گیا اور ایک دینار کی قربانی خریدی ، اور وہ قربانی کا جانور اور وہ دینار جو منافع ہوا تھا لے کر حاضر ہوا ، تو رسول اللہ ﷺ نے وہ دینار صدقہ کر دیا اور اس کے لیے دعا فرمائی ، کہ اس کی تجارت میں برکت ڈال دی جائے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔