مشکوۃ

Mishkat

خرید و فروخت کا بیان

غصب کرنے اور مستعار لینے کا بیان

بَاب الْغَصْب وَالْعَارِية

عَن سَالم عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى سبع أَرضين» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص تھوڑی سی بھی زمین ناحق وصول کرے گا تو روزِ قیامت اسے سات زمینوں تک دھنسا دیا جائے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

وَعَن يعلى بن مرّة قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِغَيْرِ حَقِّهَا كُلِّفَ أَنْ يَحْمِلَ تُرَابَهَا الْمَحْشَرَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ

یعلی بن مُرّہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص ناحق کچھ زمین حاصل کرتا ہے تو اسے حکم دیا جائے گا کہ وہ حشر کے میدان میں اس کی مٹی اٹھائے رکھے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيُّمَا رَجُلٍ ظَلَمَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ كَلَّفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَحْفِرَهُ حَتَّى يَبْلُغَ آخِرَ سَبْعِ أَرَضِينَ ثُمَّ يُطَوَّقَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاس» . رَوَاهُ أَحْمد

یعلی بن مُرّہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص نے ناحق بالشت برابر زمین پر قبضہ کیا تو اللہ عزوجل اسے حکم دے گا کہ ساتوں زمینوں تک اسے کھودے ، پھر روزِ قیامت تک ، حتی کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جانے تک ، اسے اس کا طوق پہنا دیا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔