مشکوۃ

Mishkat

خرید و فروخت کا بیان

عطیات کا بیان

بَاب العطايا

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تهادوا فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ وَلَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لجارتها وَلَا شقّ فرسن شَاة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ باہم تحائف دیا کرو ، کیونکہ تحفہ سینے کا کینہ دور کر دیتا ہے ، اور پڑوسن اپنی پڑوسن کے ہدیہ کو معمولی نہ سمجھے خواہ بکری کے کھر کا ایک حصہ ہی ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثٌ لَا تُرَدُّ الْوَسَائِدُ وَالدُّهْنُ وَاللَّبَنُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ قِيلَ: أَرَادَ بالدهن الطّيب

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین چیزیں واپس نہیں کی جانی چاہییں ، تکیہ ، تیل اور دودھ ۔ ترمذی اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ کہا گیا کہ تیل سے خوشبو مراد ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَن أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدَيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذا أعْطى أحدكُم الرَّيْحَانَ فَلَا يَرُدُّهُ فَإِنَّهُ خَرَجَ مِنَ الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ مُرْسلا

ابوعثمان نہدی ؒ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی شخص کو خوشبو پیش کی جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے ، کیونکہ وہ جنت سے آئی ہے ۔‘‘ ترمذی ، روایت مرسل ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ: انْحَلِ ابْنِي غُلَامَكَ وَأَشْهِدْ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامِي وَقَالَتْ: أَشْهِدْ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَلَهُ إِخْوَةٌ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «أَفَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَهُمْ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا على حق» . رَوَاهُ مُسلم

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، بشیر ؓ کی اہلیہ نے کہا : میرے بیٹے کو اپنا غلام ہبہ کر دو اور رسول اللہ ﷺ کو اس پر گواہ بناؤ ۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تو عرض کیا : فلاں کی بیٹی (یعنی میری اہلیہ) نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو اپنا غلام ہبہ کروں اور اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اس پر رسول اللہ ﷺ کو گواہ بناؤں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کے اور بھی بھائی ہیں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم نے جو اس لڑکے کو دیا ہے وہ ان سب کو بھی دیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ تو مناسب نہیں ، اور میں تو صرف حق بات پر ہی گواہی دیتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِبَاكُورَةِ الْفَاكِهَةِ وَضَعَهَا عَلَى عَيْنَيْهِ وَعَلَى شَفَتَيْهِ وَقَالَ: «اللَّهُمَّ كَمَا أَرَيْتَنَا أَوَّلَهُ فَأَرِنَا آخِرَهُ» ثُمَّ يُعْطِيهَا مَنْ يَكُونُ عِنْدَهُ مِنَ الصِّبْيَانِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب پہلا پہلا پھل آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا تو آپ ﷺ اسے اپنی آنکھوں اور ہونٹوں پر لگاتے اور دعا فرماتے :’’ اے اللہ ! جس طرح تو نے ہمیں اس کا آغاز دکھایا ہے اسی طرح ہمیں اس کا اختتام بھی دکھانا ۔ پھر آپ اسے اپنے پاس بیٹھے ہوئے کسی بچے کو دے دیتے ۔ ضعیف ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر ۔