مشکوۃ

Mishkat

نکاح کا بیان

جس کو پیغامِ نکاح دیا جائے اسے دیکھنے اور پردہ کی چیزوں کا بیان

بَاب النّظر إِلَى المخطوبة وَبَيَان العورات

وَعَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا كَانَ ثالثهما الشَّيْطَان» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

عمر ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب کوئی آدمی کسی (اجنبی) عورت کے ساتھ علیحدگی میں ہوتا ہے تو ان دونوں کا تیسرا شیطان ہوتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَلِجُوا عَلَى الْمُغَيَّبَاتِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ أَحَدِكُمْ مَجْرَى الدَّمِ» قُلْنَا: وَمِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَمِنِّي وَلَكِنَّ الله أعانني عَلَيْهِ فَأسلم» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

جابر ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جن (اجنبی) عورتوں کے خاوند موجود نہ ہوں تم ان کے پاس نہ جاؤ ، کیونکہ شیطان تم میں دورانِ خون کی طرح گردش کرتا ہے ۔‘‘ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ میں بھی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ (ہاں) اور مجھ میں بھی ، لیکن اللہ نے اس کے خلاف میری مدد فرمائی تو وہ مطیع ہو گیا / میں محفوظ رہتا ہوں ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى فَاطِمَةَ بِعَبْدٍ قَدْ وَهَبَهُ لَهَا وَعَلَى فَاطِمَةَ ثَوْبٌ إِذَا قَنَّعَتْ بِهِ رَأْسَهَا لَمْ يَبْلُغْ رِجْلَيْهَا وَإِذَا غَطَّتْ بِهِ رِجْلَيْهَا لَمْ يَبْلُغْ رَأْسَهَا فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَلْقَى قَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكِ بَأْسٌ إِنَّمَا هُوَ أَبُوكِ وغلامك» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک غلام لے کر فاطمہ ؓ کے پاس تشریف لائے جسے آپ نے انہیں ہبہ کر دیا تھا ، فاطمہ ؓ پر ایک کپڑا تھا ، جب فاطمہ ؓ اس سے اپنا سر ڈھانپتیں تو وہ آپ کے پاؤں تک نہ پہنچتا ، اور جب وہ اس سے اپنے پاؤں ڈھانپتیں تو وہ ان کے سر تک نہ پہنچتا ، جب رسول اللہ ﷺ نے ان کی اس پریشانی اور تکلیف کو دیکھا تو فرمایا :’’ تم پر کوئی حرج نہیں ، ان ، میں سے ایک تمہارے والد ہیں اور دوسرا تمہارا غلام ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَفِي الْبَيْتِ مُخَنَّثٌ فَقَالَ: لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ لَكُمْ غَدًا الطَّائِفَ فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى ابْنَةِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يدخلن هَؤُلَاءِ عَلَيْكُم»

ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ان کے پاس تشریف فرما تھے جبکہ گھر میں ایک مخنث تھا ، اس نے ام سلمہ ؓ کے بھائی عبداللہ بن ابی امیہ ؓ سے کہا : عبداللہ ! اگر اللہ نے کل تمہیں طائف میں فتح عطا کی تو میں تمہیں غیلان کی ایک لڑکی بتاؤں گا وہ جب سامنے آتی ہے تو اس کے پیٹ پر چار بل پڑتے ہیں اور جب مڑتی ہے تو اس پر آٹھ بل پڑتے ہیں ۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا :’’ یہ (مخنث) لوگ تمہارے پاس نہ آیا کریں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ حَمَلْتُ حَجَرًا ثقيلاً فَبينا أَنَا أَمْشِي سَقَطَ عَنِّي ثَوْبِي فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَخْذَهُ فَرَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: «خُذْ عَلَيْكَ ثَوْبَكَ وَلَا تَمْشُوا عُرَاة» . رَوَاهُ مُسلم

مسور بن مخرمہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے ایک بھاری پتھر اٹھایا ہوا تھا اور اسی حالت میں مَیں چل رہا تھا کہ میرا کپڑا گر گیا (جس سے ستر کھل گیا) ، میں اسے اٹھا نہ سکا ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا :’’ اپنے اوپر کپڑا لو اور عریاں حالت میں نہ چلو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا نَظَرْتُ أَوْ مَا رَأَيْتُ فَرْجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قطّ. رَوَاهُ ابْن مَاجَه

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کی شرم گاہ کبھی نہیں دیکھی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَنْظُرُ إِلَى مَحَاسِنِ امْرَأَةٍ أَوَّلَ مَرَّةٍ ثُمَّ يَغُضُّ بَصَرَهُ إِلَّا أَحْدَثَ اللَّهُ لَهُ عِبَادَةً يَجِدُ حلاوتها» . رَوَاهُ أَحْمد

ابوامامہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو مسلمان پہلی مرتبہ کسی عورت کے حسن و جمال پر نظر ڈالتا ہے اور پھر وہ اپنی نظر جھکا لیتا ہے تو اللہ اسے ایک ایسی عبادت کی توفیق عطا فرماتا ہے جس کی وہ حلاوت محسوس کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ احمد ۔

وَعَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ النَّاظِرَ وَالْمَنْظُورَ إِلَيْهِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

حسن بصری ؒ مرسل روایت کرتے ہیں کہ مجھے روایت پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ ستر دیکھنے والے اور ستر دکھانے والے پر لعنت فرمائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔