مشکوۃ

Mishkat

نکاح کا بیان

نکاح میں ’’ولی‘‘ ہونے اور عورت سے اجازت طلب کرنے کا بیان

بَابُ الْوَلِيِّ فِي النِّكَاحِ وَاسْتِئْذَانِ الْمَرْأَةِ


وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلَيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ من لَا ولي لَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر اپنا نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے ۔ اگر اس (مرد) نے اس سے جماع کیا ہے تو وہ مہر کی حق دار ہے کیونکہ اس نے اس سے مباشرت کی ہے ، اگر وہ (ولی) اختلاف کریں تو جس کا ولی نہ ہو تو سلطان (بادشاہ) اس کا ولی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۶ / ۶۶ ح ۲۴۸۷۶) و الترمذی (۱۱۰۲ وقال : حسن) و ابوداؤد (۲۰۸۳) و ابن ماجہ (۱۸۷۹) و الدارمی (۱ / ۱۳۷ ح ۲۱۹۰) ۔