مشکوۃ

Mishkat

نکاح کا بیان

نکاح میں ’’ولی‘‘ ہونے اور عورت سے اجازت طلب کرنے کا بیان

بَابُ الْوَلِيِّ فِي النِّكَاحِ وَاسْتِئْذَانِ الْمَرْأَةِ


وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا فَإِنْ صَمَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یتیم لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں اجازت لی جائے گی ، اگر وہ خاموش رہے تو پھر یہی اس کی اجازت ہے ، اور اگر وہ انکار کر دے تو پھر اس پر زیادتی نہ کی جائے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
صحیح ، رواہ الترمذی (۱۱۰۹ ، وقال : حسن) و ابوداؤد (۲۰۹۳) و النسائی (۶ / ۸۷ ح ۳۲۷۲ و سندہ حسن) ولہ شواھد صحیحۃ ۔