TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3133 مشکوۃ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 8 of 14 in this chapter
بَابُ الْوَلِيِّ فِي النِّكَاحِ وَاسْتِئْذَانِ الْمَرْأَةِ
نکاح میں ’’ولی‘‘ ہونے اور عورت سے اجازت طلب کرنے کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا فَإِنْ صَمَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یتیم لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں اجازت لی جائے گی ، اگر وہ خاموش رہے تو پھر یہی اس کی اجازت ہے ، اور اگر وہ انکار کر دے تو پھر اس پر زیادتی نہ کی جائے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
3133
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
صحیح ، رواہ الترمذی (۱۱۰۹ ، وقال : حسن) و ابوداؤد (۲۰۹۳) و النسائی (۶ / ۸۷ ح ۳۲۷۲ و سندہ حسن) ولہ شواھد صحیحۃ ۔

Related Chapters

1,036
1
ولی کے بغیر نکاح کے منعقد نہ ہونے اور غلام کا آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
2
(38) CHAPTER. If the guardian himself is the suitor (of the lady in his charge) (can he marry her to himself or should another guardian marry her to him)?
اگر عورت کا ولی خود اس سے نکاح کرنا چاہے ۔
Sahih Bukhari
3
(42) CHAPTER. The father or the guardian cannot give a virgin or matron in marriage without her consent.
باپ یا کوئی دوسراولیٰ کنواری یا بیوہ عورت کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر نہ کرے ۔
Sahih Bukhari
4
CHAPTER: If Two Guardians Marry Her Off.
باب: جب دو ولی ایک عورت کا نکاح کر دیں تو اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
5
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For A Woman To Fast Except With The Permission Of Her Husband
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے نفل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About: One Who Is Married For Three Things
باب: عورت سے عام طور پر تین باتوں کے سبب نکاح کیا جاتا ہے
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Marriage Except With A Wali
باب: ولی کے بغیر نکاح صحیح نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Marriage Except With A Wali
باب: ولی کے بغیر نکاح نہ ہونے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About A Slave Marrying Without The Permission Of His Owner
باب: مالک کی اجازت کے بغیر غلام کے نکاح کر لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر ان کی عورتوں کے پاس جانے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
11
بَاب الاسْتِئْذَان
اجازت طلب کرنے کا بیان
Mishkat
12
عورتوں کو مسجد میں جانے کے لیے اجازت کا بیان
Musnad Ahmad
13
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
Musnad Ahmad
14
بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
15
کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
16
نکاح میںیتیم بچی کو مجبور نہ کرنے اور اس کی اجازت اور رضامندی سے اس کی شادی کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
17
عورت اور اس کی پھوپھی کو اور اس قسم کی محرم خواتین کو ایک نکاح میںجمع کرنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
18
اجازت طلب کرنے کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس سے پہلے سلام کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
19
اس چیز کا بیان کہ تین بار اجازت طلب کی جائے، اگر اجازت نہ دی جائے تو آدمی واپس چلا جائے
Musnad Ahmad
20
بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کی مخالفت میں بنوکنانہ اور قریش کا ان امور پر باہمی معاہدہ کہ وہ ان سے نکاح کا معاملہ کریں گے نہ خرید و فروخت کا، نیز اُن کا اِن کو شعب ِ ابی طالب میں محصور کر دینا
Musnad Ahmad
21
بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
Musnad Ahmad
22
(166) CHAPTER. A woman shall ask her husband's permission (on wishing) to go to the mosque.
عورت مسجد جانے کے لیے اپنے خاوند سے اجازت لے
Sahih Bukhari
23
(9) CHAPTER. A woman can depute the ruler in the matter of marriage.
کسی عورت کا اپنا نکاح کرنے کے لیے بادشاہ کو وکیل بنانا
Sahih Bukhari
24
(12) CHAPTER. What type of women should one seek in marriage?
کس طرح کی عورت سے نکاح کیا جائے اور کون سی عورت بہتر ہے ؟
Sahih Bukhari
25
(17) CHAPTER. Equality in wealth (is not essential for the marriage). And the marriage of a poor man with a well-to-do lady.
کفائت میں مالدار ی کا لحاظ ہونا اور غریب مرد کا مالدار عورت سے نکاح کرنا ۔
Sahih Bukhari
26
(19) CHAPTER. (About) a free lady as the wife of a slave.
آزاد عورت کا غلام مرد کے نکاح میں ہونا جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
27
(30) CHAPTER. Is it permissible for a woman to present herself for marriage to somebody?
کیا کوئی عورت کسی سے نکاح کے لئے اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے ؟
Sahih Bukhari
28
(33) CHAPTER. A woman can present herself to a righteous man (for marriage).
عورت کا اپنے آپ کو کسی صالح مرد کے نکاح کے لئے پیش کرنا ۔
Sahih Bukhari
29
(36) CHAPTER. (It is permissible) to look at a woman before marrying her.
نکاح سے پہلے عورت کو دیکھنا ۔
Sahih Bukhari
30
(37) CHAPTER. Whoever said, A marriage is not valid except through the Wali (i.e., her father or her brother or her relative etc.)
بغیر ولی کے نکاح صحیح نہیں ہوتا ۔
Sahih Bukhari
31
(45) CHAPTER. If the suitor says (to the guardian of a woman), “Marry me to so-and-so,” and the guardian says, “I have married her to you for such and such Mahr,” then the marriage is valid even if he does not ask the husband, Have you agreed or have you accepted (her)?
اگر کسی مردنے لڑکی کے ولی سے کہا میرا نکاح اس لڑکی سے کر دو ، اس نے کہامیں نے اتنے مہر پر تیرا نکاح اس سے کر دیا تو نکاح ہو گیا گو وہ مرد سے یہ نہ پوچھے کہ تم اس پر رضی ہو یا تم نے قبول کیا یا نہیں ؟
Sahih Bukhari
32
(46) CHAPTER. None should ask for the hand of a lady who is already engaged to his brother (Muslim), but one should wait till the first suitor marries her or leaves her.
کسی مسلمان بھائی نے ایک عورت کو پیغام بھیجا ہو تو دوسرا شخص اس کو پیغام نہ بھیجے جب تک وہ اس سے نکاح نہ کرے یا پیام نہ چھوڑ دے یعنی منگنی توڑ دے ۔
Sahih Bukhari
33
(49) CHAPTER. Beating the tambourine during the Nikah (marriage ceremony) and the Walima (wedding banquet).
نکاح اور ولیمہ کی دعوت میں دف بجانا ۔
Sahih Bukhari
34
(85) CHAPTER. A woman should not observe Saum (fast) (optional ones) except with the permission of her husband.
شوہر کی اجازت سے عورت کو نفلی روزہ رکھنا جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
35
(87) CHAPTER. A woman should not allow anyone to enter her husband's house except with his consent.
عورت اپنے شوہر کے گھر میں آنے کی کسی غیر مرد کو اس کی اجازت کے بغیر اجازت نہ دے ۔
Sahih Bukhari
36
(101) CHAPTER. If somebody marries a virgin and he has already a matron wife (with him).
اگر کسی کے پاس ایک بیوہ عورت اس کے نکاح میں ہو پھر ایک کنواری سے بھی نکاح کرے تو جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
37
(117) CHAPTER. The permission taken by a woman from her husband to go to the mosque.
مسجد وغیرہ میں جانے کے لئے عورت کا اپنے شوہر سے اجازت لینا ۔
Sahih Bukhari
38
(18) CHAPTER. The Statement of Allah: “Do not marry Al-Mushrikat (idolatresses) till they believe (i.e., worship Allah Alone). And indeed a slave woman who believes is better than a (free) Mushrikah (idolatress) even though she pleases you. (V.2:221)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یوں فرمانا کہ اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور یقیناً مومنہ لونڈی مشرکہ عورت سے بہتر ہے گو مشرک عورت تم کو بھلی لگے ۔
Sahih Bukhari
39
(19) CHAPTER. Marrying Al-Mushrikat (pagan ladies) who had embraced Islam; and their Idda.
اسلام قبول کرنے والی مشرک عورتوں سے نکاح اور ان کی عدت کا بیان ۔
Sahih Bukhari
40
(20) CHAPTER. (What) if an idolatress (Al-Mushrikah) or a Christian woman becomes a Muslim while she is the wife of a Dhimmi (i.e., a non-Muslim under the protection of a Muslim government), or Mushrik at war with the Muslims?
اس بیان میں کہ جب مشرک یا نصرانی عورت جو معاہد مشرک یا حربی مشرک کے نکاح میں ہواسلام لائے ۔
Sahih Bukhari
41
(9) CHAPTER. If a man does not provide for his family, then the wife can take of his wealth what is sufficient for her needs and the needs of her children and the amount should be just and reasonable.
اگر مرد خرچ نہ کرے تو عورت اس کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں سے اتنے لے سکتی ہے جو دستور کے مطابق اس کے لیے اور اس کے بچوں کے لیے کافی ہو ۔
Sahih Bukhari
42
(7) CHAPTER. What is forbidden as regards Cheating in bargains.
یتیم لڑکی سے جو مرغوبہ ہو اس کے ولی فریب دے کر یعنی مہر مثل سے کم مہر مقرر کر کے نکاح کرے تو یہ منع ہے ۔
Sahih Bukhari
43
Chapter: The prohibition of being married to a woman and her paternal aunt or maternal aunt at the same time
نکاح میں عورت اور اس کے ساتھ اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کو جمع کرنا حرام ہے
Sahih Muslim
44
Chapter: The prohibition of proposing marriage when one's brother has already proposed, unless he gives permission or gives up the idea
: اپنے مسلمان بھائی کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجا حرام ہے، یہاں تک کہ وہ اجازت دے یا (ارادہ) ترک کر دے
Sahih Muslim
45
Chapter: Seeking permission of a previously-married woman in words, and of a virgin by silence
نکاح میں ثیبہ (جس کی پہلے بھی شادی ہوئی تھی) سے اس کے بولنے اور باکرہ سے اس کی خاموشی (عدمِ انکار) کے ذریعے سے اجازت لینا
Sahih Muslim
46
Chapter: The Marriage of Zainab Bint Jahsh, The Revelation of (the verse of) Hijab, and confirmation of the importance of the wedding feast.
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنھما کا نکاح ئپردے (کے حکم )کا نزول اور شادی کے لیے ولیمے کا ثبوت
Sahih Muslim
47
Chapter: It is not permissible for a woman who has been thrice-divorced to return to the one who divorced her until she marries another husband who has intercourse with her, then divorces her, and she completes the 'Iddah
جس عورت کو تین طلاقیں دے دی گئی ہوں وہ طلاق دینے والے کے لیے حلال نہیں حتی کہ وہ اس کے سوا کسی اور خاوند سے نکاح کرے اور وہ اس سے مباشرت کرے ‘پھر وہ اس سے علیحدگی اختیار کرے اور اس کی عادت پور ی ہو جائے
Sahih Muslim
48
Chapter: It is recommended to marry one who is religiously committed
دیندار عورت سے نکاح کرنا پسندیدہ ہے
Sahih Muslim
49
Chapter: Seeking Permission To Enter A House
اجازت طلب کرنا
Sahih Muslim
50
Chapter: It Is Disliked For The Person Who Is Seeking Permission To Say Me When Asked Who Is It?
اجازت طلب کرنے والے سے جب پوچھا جا ئے کون ہے تو جواب میں (صرف) میں کہنا مکروہ ہے
Sahih Muslim
No related chapter matched that.

Related Hadith

371
Jam e Tirmazi
1109
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ صَمَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا . يَعْنِي:‏‏‏‏ إِذَا أَدْرَكَتْ فَرَدَّتْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي تَزْوِيجِ الْيَتِيمَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْيَتِيمَةَ إِذَا زُوِّجَتْ فَالنِّكَاحُ مَوْقُوفٌ حَتَّى تَبْلُغَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا بَلَغَتْ فَلَهَا الْخِيَارُ فِي إِجَازَةِ النِّكَاحِ أَوْ فَسْخِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ بَعْضِ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ لَا يَجُوزُ نِكَاحُ الْيَتِيمَةِ حَتَّى تَبْلُغَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَجُوزُ الْخِيَارُ فِي النِّكَاحِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرِهِمَا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ إِذَا بَلَغَتِ الْيَتِيمَةُ تِسْعَ سَنِينَ فَزُوِّجَتْ فَرَضِيَتْ فَالنِّكَاحُ جَائِزٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا خِيَارَ لَهَا إِذَا أَدْرَكَتْ، ‏‏‏‏‏‏وَاحْتَجَّا بِحَدِيثِ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ إِذَا بَلَغَتِ الْجَارِيَةُ تِسْعَ سِنِينَ فَهِيَ امْرَأَةٌ.
Abu Hurairah narrated that: The Messenger of Allah said: An orphan is to be consulted about herself, then if she is silent that is her permission, and if she refuses, then do not authorize it (the marriage) for her (meaning: when she attains the age of puberty and refuses it.)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یتیم لڑکی سے اس کی رضا مندی حاصل کی جائے گی، اگر وہ خاموش رہی تو یہی اس کی رضا مندی ہے، اور اگر اس نے انکار کیا تو اس پر ( زبردستی کرنے کا ) کوئی جواز نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوموسیٰ، ابن عمر، اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یتیم لڑکی کی شادی کے سلسلے میں اہل علم نے اختلاف کیا ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے: یتیم لڑکی کی جب شادی کر دی جائے تو نکاح موقوف رہے گا۔ یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے۔ جب وہ بالغ ہو جائے گی، تو اسے نکاح کو باقی رکھنے یا اسے فسخ کر دینے کا اختیار ہو گا۔ یہی بعض تابعین اور دیگر علماء کا بھی قول ہے، ۴- اور بعض کہتے ہیں: یتیم لڑکی کا نکاح جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے، درست نہیں اور نکاح میں «خیار» جائز نہیں، اور اہل علم میں سے سفیان ثوری، شافعی وغیرہم کا یہی قول ہے، ۵- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جب یتیم لڑکی نو سال کی ہو جائے اور اس کا نکاح کر دیا جائے، اور وہ اس پر راضی ہو تو نکاح درست ہے اور بالغ ہونے کے بعد اسے اختیار نہیں ہو گا۔ ان دونوں نے عائشہ کی اس حدیث سے دلیل لی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے ساتھ شب زفاف منائی، تو وہ نو برس کی تھیں۔ اور عائشہ رضی الله عنہا کا قول ہے کہ لڑکی جب نو برس کی ہو جائے تو وہ عورت ہے۔
Sunnan Abu Dawood
2093
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادٌ الْمَعْنَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ سَكَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا . وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ. قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو خَالِدٍ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ومُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو.
Narrated Abu Hurairah: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: An orphan virgin girl should be consulted about herself; if she says nothing that indicates her permission, but if she refuses, the authority of the guardian cannot be exercised against her will. The full information rest with the tradition narrated by Yazid. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted in a similar way by Abu Khalid Sulaiman bin Hayyan and Muadh bin Muadh on the authority of Muhammad bin Amr.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یتیم لڑکی سے اس کے نکاح کے لیے اجازت لی جائے گی، اگر وہ خاموشی اختیار کرے تو یہی اس کی اجازت ہے اور اگر انکار کر دے تو اس پر زبردستی نہیں ۔
Sunnan Nisai
3272
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ سَكَتَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَهُوَ إِذْنُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا .
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said: 'An orphan girl should be consulted with regard to marriage, and if she remains silent, that is her permission. If she refuses then she is not to be forced.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «یتیمہ» کنواری لڑکی کی شادی کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا اگر وہ چپ رہے تو یہی ( اس کا چپ رہنا ہی ) اس کی جانب سے اجازت ہے، اور اگر وہ انکار کر دے تو اس پر کوئی زور ( زور و دباؤ ) نہیں ہے“ ۱؎۔
Mishkat
33
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں ۔ اور مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں اور مالوں کے بارے میں بے خوف اور پر امن ہوں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی (۲۶۲۷) و النسائی (۸/ ۱۰۴ ، ۱۰۵ ح ۴۹۹۸) و صحیحہ ابن حبان (الاحسان : ۱۸۰) و الحاکم (۱ / ۱۰) ۔
Mishkat
320
وَعَن طلق بن عَليّ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَمَا يَتَوَضَّأُ. قَالَ: «وَهَلْ هُوَ إِلَّا بَضْعَةٌ مِنْهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ نَحوه قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ مُحْيِي السُّنَّةِ رَحِمَهُ اللَّهُ: هَذَا مَنْسُوخٌ لِأَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَسْلَمَ بَعْدَ قدوم طلق
طلق بن علی ؓ بیان کرتے ہیں ، آدمی کے وضو کر لینے کے بعد اپنی شرم گاہ کو ہاتھ لگانے کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا گیا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ (شرم گاہ) بھی اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا ہے ۔‘‘ الشیخ الامام محی السنہ ؒ نے فرمایا : یہ منسوخ ہے ، کیونکہ ابوہریرہ ؓ طلق ؓ کی آمد کے بعد مسلمان ہوئے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۱۸۲) و الترمذی (۸۵) و النسائی (۱ / ۱۰۱ ح ۱۶۵) و ابن ماجہ (۴۸۳) ۔
Mishkat
855
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ: «هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا؟» فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: إِنِّي أَقُولُ: مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟ «. قَالَ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ بِالْقِرَاءَةِ مِنَ الصَّلَوَاتِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ نَحْوَهُ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی کسی جہری قراءت والی نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ کیا تم میں سے کسی شخص نے ابھی ابھی میرے ساتھ قراءت کی ہے ؟‘‘ تو ایک آدمی نے عرض کیا ، جی ہاں ، اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں بھی (دل میں) کہتا تھا ، مجھے کیا ہوا ہے کہ مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے ‘‘ روای بیان کرتے ہیں : صحابہ کرام ؓ نے جب رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سنی تو وہ جہری قراءت والی نمازوں میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قراءت کرنے سے رک گئے ۔ مالک ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
Mishkat
1359
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ فَجَلَسْتُ مَعَهُ فَحَدَّثَنِي عَنِ التَّوْرَاةِ وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثْتُهُ أَنْ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُهْبِطَ وَفَيْهِ تِيبَ عَلَيْهِ وَفِيهِ مَاتَ وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ وَمَا من دَابَّة إِلَّا وَهِي مسيخة يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ وفيهَا سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يسْأَل الله شَيْئا إِلَّا أعطَاهُ إِيَّاهَا. قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ. فَقلت: بل فِي كل جُمُعَة قَالَ فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ. فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْب وَمَا حَدَّثْتُهُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقُلْتُ لَهُ: قَالَ كَعْب: ذَلِك كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: كَذَبَ كَعْبٌ. فَقُلْتُ لَهُ ثُمَّ قَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ. فَقَالَ: بَلْ هِيَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: صَدَقَ كَعْبٌ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَة فَقلت لَهُ: فَأَخْبرنِي بهَا. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: وَكَيْفَ تَكُونُ آخِرَ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي وَتلك السَّاعَة لَا يُصَلِّي فِيهَا؟» فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ؟» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقلت: بلَى. قَالَ: فَهُوَ ذَاك. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَى أَحْمد إِلَى قَوْله: صدق كَعْب
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں طور کی طرف گیا تو میں کعب احبار سے ملا ، میں اس کے ساتھ بیٹھ گیا ۔ اس نے مجھے تورات کے بارے میں بتایا اور میں نے اسے رسول اللہ ﷺ کی احادیث سنائیں ، میں نے اسے جو کچھ بتایا وہ وہی کچھ تھا جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمام ایام سے بہتر دن ، جمعہ کا دن ہے ۔ اس میں آدم ؑ کی تخلیق ہوئی ، اسی روز زمین پر اتارے گئے اسی روز ان کی توبہ قبول کی گئی ، اسی روز فوت ہوئے ، اسی روز قیامت قائم ہو گی ، جن و انس کے سوا تمام جانور جمعہ کے دن طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک قیامت قائم ہونے کے خوف سے چیختے رہتے ہیں ، اس میں ایک گھڑی ہے کہ جب مسلمان بندہ عین اس گھڑی میں دوران نماز اللہ سے جو مانگتا ہے تو اللہ اسے وہی چیز عطا کر دیتا ہے ۔‘‘ کعب نے کہا : پورے سال میں ایک دن ایسا ہوتا ہے ۔ میں نے کہا ، نہیں بلکہ ہر جمعہ کے روز ہوتا ہے ۔ کعب نے تورات پڑھی تو اس نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا ۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں عبداللہ بن سلام ؓ سے ملا تو میں نے کعب احبار کے ساتھ اپنی مجلس کے بارے میں اور میں نے جمعہ کے متعلق جو اسے بتایا تھا اس کے متعلق انہیں بتایا ، کہ کعب نے کہا : وہ پورے سال میں ایک دن ہوتا ہے ۔ عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا ، کعب نے جھوٹ بولا ، میں نے انہیں بتایا کہ کعب نے پھر تورات پڑھی تو اس نے کہا : بلکہ وہ ہر جمعہ کے روز ہوتا ہے ۔ پھر عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا : کعب نے سچ کہا ۔ پھر عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا مجھے معلوم ہے کہ وہ کون سی گھڑی ہے ۔ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا میں نے کہا ، مجھے اس کے متعلق خبر دینے میں بخل نہ کریں ۔ عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا وہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے ۔ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا میں نے کہا وہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی کیسے ہو سکتی ہے ۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے :’’ کوئی مسلمان بندہ نماز میں اسے پاتا ہے ۔‘‘ تو عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا :’’ جو شخص کسی جگہ بیٹھ کر نماز کا انتظار کرتا ہے تو وہ نماز پڑھنے تک (حکماً) نماز ہی میں ہوتا ہے ۔‘‘ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں میں نے کہا کیوں نہیں ۔ انہوں نے فرمایا ، بس ! یہ وہی ہے ۔ مالک ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، اور امام احمد نے ’’ کعب نے سچ کہا ‘‘ تک روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
Mishkat
1607
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لذتوں کو کاٹ دینے والی ، موت کو کثرت سے یاد کیا کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
Mishkat
2153
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ سُورَةً فِي الْقُرْآنِ ثَلَاثُونَ آيَةً شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتَّى غُفِرَ لَهُ وَهِيَ: (تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ) رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قرآن میں تیس آیات کی ایک سورت ہے اس نے ایک آدمی کے بارے میں سفارش کی حتیٰ کہ اسے بخش دیا گیا اور وہ سورۃ الملک ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔