ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عورت اور اس کی پھوپھی نیز عورت اور اس کی خالہ کو نکاح میں اکٹھا نہ کیا جائے ۔‘‘ (یعنی پھوپھی ، بھتیجی اور خالہ بھانجی ، ایک وقت میں ایک آدمی کی بیویاں نہیں ہو سکتیں) متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دودھ پینے سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں ، جو نسب سے حرام ہوتے ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میرے رضاعی چچا آئے ، انہوں نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا حتی کہ میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کر لوں ، رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ، میں نے آپ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے لہذا اسے اجازت دے دو ۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے ، مرد نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا ! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے ۔ لہذا وہ تمہارے پاس آ سکتا ہے ۔‘‘ اور یہ ہم پر پردہ کے احکام نازل ہونے سے بعد کا واقعہ ہے ۔ متفق علیہ ۔
علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ اپنے چچا حمزہ ؓ کی بیٹی کے بارے میں رغبت رکھتے ہیں ؟ وہ قریش کی سب سے زیادہ حسین و جمیل لڑکی ہے ۔ آپ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حمزہ میرے رضاعی بھائی ہیں ، اور اللہ نے رضاعت کی وجہ سے وہ رشتے حرام کیے ہیں ، جو اس نے نسب کی وجہ سے حرام کیے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ام فضل ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ایک مرتبہ یا دو مرتبہ دودھ پینا حرمت ثابت نہیں کرتا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَفِي رِوَايَةِ عَائِشَةَ قَالَ: «لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ والمصتان»
اور عائشہ ؓ سے مروی حدیث میں ہے :’’ ایک مرتبہ اور دو مرتبہ دودھ چوسنے سے حرمت واقع نہیں ہوتی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَفِي أُخْرَى لِأُمِّ الْفَضْلِ قَالَ: «لَا تُحَرِّمُ الإملاجة والإملاجتان» . هَذِه رِوَايَات لمُسلم
اور ام فضل ؓ سے مروی دوسری حدیث میں ہے :’’ ایک یا دو مرتبہ دودھ پینے سے حرمت واقع نہیں ہوتی ۔‘‘ تینوں روایات صحیح مسلم کی ہیں ۔ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، قرآن میں یہ حکم نازل ہوا تھا کہ دس مرتبہ دودھ پینے سے حرمت واقع ہوتی ہے ۔ پھر وہ حکم پانچ مرتبہ پینے کی قید کے ساتھ منسوخ کر دیا گیا ، رسول اللہ ﷺ نے جس وقت وفات پائی تو اس وقت تک (پانچ مرتبہ دودھ پینے والی آیت) قرآن میں پڑھی جاتی تھی ۔ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میرے پاس ایک آدمی تھا ، گویا آپ نے اسے ناپسند فرمایا ، عائشہ ؓ نے عرض کیا ، یہ تو میرا بھائی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دیکھو کہ تمہارے بھائی کون ہیں ، رضاعت تو صرف وہ دودھ ہے جسے بھوک دور کرنے کے لیے پیا گیا ہو ۔‘‘ (بچے کو صغر سنی کی عمر میں بھوک لگی ہو اور وہ کسی عورت کا دودھ پی لے) متفق علیہ ۔
عقبہ بن حارث ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابواہاب بن عزیز کی بیٹی سے شادی کر لی تو ایک عورت آئی ، اس نے کہا : میں نے عقبہ اور اس کی بیوی کو دودھ پلایا ہے ۔ (یعنی یہ آپس میں رضاعی بہن بھائی ہیں) عقبہ نے اس عورت سے کہا : مجھے تو معلوم نہیں کہ تم نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ ہی تم نے مجھے بتایا ہے ۔ انہوں نے ابواہاب کے گھر والوں کے پاس کسی آدمی کو بھیجا تو اس نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا : ہمیں تو معلوم نہیں کہ اس نے ہماری اس لڑکی کو دودھ پلایا ہے ، وہ مدینہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ (تم اس کے ساتھ) کس طرح (تعلق زن و شو قائم کر سکتے ہو) حالانکہ یہ کہہ دیا گیا (کہ تم اس کے رضاعی بھائی ہو) ۔‘‘ عقبہ ؓ نے اسے الگ کر دیا اور اس نے ان کے علاوہ کسی اور سے نکاح کیا ۔ رواہ البخاری ۔
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حنین کے دن اوطاس کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تو ان کا دشمن سے آمنا سامنا ہوا ، انہوں نے ان سے قتال کیا اور وہ ان پر غالب آ گئے اور انہوں نے کچھ خواتین گرفتار کر لیں ، نبی ﷺ کے بعض صحابہ نے ان لونڈیوں سے ان کے مشرک خاوندوں کے موجود ہونے کی وجہ سے ، جماع کرنے میں حرج محسوس کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی :’’ اور شادی شدہ عورتیں (تم پر حرام کی گئی ہیں) مگر تمہاری لونڈیاں ۔‘‘ یعنی جب ان کی عدت مکمل ہو جائے تو پھر وہ تمہارے لیے حلال ہیں ۔ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ایسی عورت سے نکاح کیا جائے جس کی پھوپھی اس کے نکاح میں پہلے سے ہو یا پھوپھی سے اس کی بھتیجی کے ہوتے ہوئے نکاح نہ کیا جائے ، اسی طرح خالہ اور بھانجی کو یا بھانجی اور خالہ کو ایک ساتھ ایک مرد کے نکاح میں جمع نہ کیا جائے نیز (رشتے میں) چھوٹی (مثلاً : بھتیجی ، بھانجی) کا بڑی پر اور اور بڑی کا چھوٹی پر نکاح کرنے سے منع فرمایا ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، دارمی ، نسائی ۔ اور ان کی روایت ((بنت اختھا)) تک ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی و النسائی ۔
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، میرے ماموں ابوبُردہ بن نیار ؓ پرچم اٹھائے میرے پاس سے گزرے تو میں نے کہا : آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا : مجھے نبی ﷺ نے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے ، جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کی ہے ، تاکہ میں اس کا سر آپ کی خدمت میں پیش کروں ۔ اسے ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ اور دارمی کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں اسے قتل کر دوں اور اس کا مال لے لوں ۔ اور اس روایت میں ’’میرے ماموں‘‘ کے بجائے ’’میرے چچا‘‘ کا لفظ ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و نسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ رضاعت باعث حرمت ہے ، جو براہ راست چھاتیوں سے دودھ پی کر (بھوک مٹا کر) انتڑیاں کھول دے ، اور یہ (رضاعت) دودھ چھڑانے سے پہلے ہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
حجاج بن حجاج اسلمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھ سے کس طرح حقِ رضاعت ادا ہو سکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ رضاعی ماں کو غلام یا لونڈی دینے سے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔
ابوطفیل غنوی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک عورت آئی ۔ نبی ﷺ نے اپنی چادر بچھائی حتی کہ وہ اس پر بیٹھ گئی ، جب وہ چلی گئی تو بتایا گیا کہ اس خاتون نے نبی ﷺ کو دودھ پلایا تھا (آپ ﷺ کی رضاعی والدہ ہیں) ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی ؓ نے اسلام قبول کیا اور ان کی دور جاہلیت میں دس بیویاں تھیں ، وہ بھی ان کے ساتھ ہی مسلمان ہو گئیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ چار رکھ لو اور باقی فارغ کر دو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
نوفل بن معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے اسلام قبول کیا تو اس وقت میری پانچ بیویاں تھیں ، میں نے نبی ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک کو چھوڑ دو اور چار رکھ لو ۔‘‘ میں نے ان میں سے اپنی سب سے پہلی بیوی کو ، جو بانجھ تھی اور ساٹھ سال سے میری رفیقہ حیات تھی ، خود سے جدا کر دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ضحاک بن فیروز دیلمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور دو بہنیں میرے نکاح میں ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ان دونوں میں سے جسے چاہو اختیار کر لو (دوسری چھوڑ دو) ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک عورت نے اسلام قبول کیا اور اس نے شادی کر لی ، اتنے میں اس کا (پہلا) خاوند نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں اسلام قبول کر چکا ہوں اور اس (عورت) کو میرے اسلام قبول کرنے کا علم ہے ، رسول اللہ ﷺ نے اس (عورت) کو اس کے دوسرے خاوند سے لے کر اس کے پہلے خاوند کو واپس کر دیا ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اس نے عرض کیا : اس (عورت) نے میرے ساتھ ہی اسلام قبول کیا ہے ، آپ ﷺ نے اس (عورت) کو اس کے حوالے کر دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔