مشکوۃ

Mishkat

نکاح کا بیان

مباشرت کا بیان

بَاب الْمُبَاشرَة

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَتِ الْيَهُودُ تَقُولُ: إِذَا أَتَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ مِنْ دُبُرِهَا فِي قُبُلِهَا كَانَ الْوَلَد أَحول فَنزلت: (نساوكم حرث لكم فَأتوا حَرْثكُمْ أَنى شِئْتُم)

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، یہود کہا کرتے تھے ، جب آدمی اپنی بیوی سے اس کی پچھلی جانب سے اس کی اندام نہانی میں جماع کرے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی :’’ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں ، تم جیسے چاہو اپنی کھیتی کو آؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعنهُ كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَزَادَ مُسْلِمٌ: فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلم ينهنا

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم عزل کیا کرتے تھے جبکہ قرآن نازل ہو رہا تھا ۔ بخاری ، مسلم ۔ اور امام مسلم نے مزید یہ بھی روایت کیا ہے کہ یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ نے ہمیں منع نہیں فرمایا ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِن لي جَارِيَةً هِيَ خَادِمَتُنَا وَأَنَا أَطُوفُ عَلَيْهَا وَأَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ فَقَالَ: «اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا» . فَلَبِثَ الرَّجُلُ ثمَّ أَتَاهُ فَقَالَ: إِن الْجَارِيَة قد حبلت فَقَالَ: «قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا» . رَوَاهُ مُسلم

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : میری ایک لونڈی ہے وہ ہماری خادمہ ہے اور میں اس سے جماع کرتا ہوں جبکہ میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ حاملہ ہو ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم چاہو تو اس سے عزل کرو ، کیونکہ جو اس کے مقدر میں ہے وہ اسے مل کر رہے گا ۔‘‘ کچھ مدت گزری تو وہ آدمی پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : لونڈی تو حاملہ ہو گئی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے تمہیں بتا دیا تھا کہ اس کے مقدر میں جو کچھ ہے وہ اسے مل کر رہے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الْعَرَب فاشتهينا النِّسَاء واشتدت عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَأَحْبَبْنَا الْعَزْلَ فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ وَقُلْنَا: نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ؟ فَسَأَلْنَاهُ عَن ذَلِك فَقَالَ: «مَا عَلَيْكُمْ أَلَّا تَفْعَلُوا مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ»

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم غزوہ بنی مصطلق میں رسول اللہ ﷺ کی معیت میں روانہ ہوئے تو کچھ عرب لونڈیاں ہمارے ہاتھ لگیں ، ہمیں عورتوں کی رغبت ہوئی اور عورتوں سے الگ رہنا ہمارے لیے دشوار ہو گیا اور ہم نے عزل کرنا پسند کیا ، ہم نے عزل کرنے کا ارادہ کیا اور ہم نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ سے دریافت کئے بغیر عزل کرتے ہیں جبکہ رسول اللہ ﷺ ہم میں موجود ہیں ، ہم نے اس کے متعلق آپ سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا حرج ہے ! اگر تم ایسے نہ کرو ؟ کیونکہ جس جان نے قیامت تک آنا ہے اس نے آنا ہی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ: «مَا مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ خَلْقَ شَيْءٍ لَمْ يَمْنَعْهُ شَيْءٌ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے عزل کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر پانی (منی) سے بچہ نہیں ہوتا ، اور جب اللہ کسی چیز کی تخلیق کا ارادہ فرماتا ہے تو پھر کوئی چیز اسے روک نہیں سکتی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أعزل عَن امْرَأَتي. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لم تفعل ذَلِك؟» فَقَالَ الرَّجُلُ: أَشْفِقُ عَلَى وَلَدِهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كَانَ ذَلِكَ ضاراً ضرّ فَارس وَالروم» . رَوَاهُ مُسلم

سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اس نے عرض کیا : میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا :’’ تم یہ کیوں کرتے ہو ؟‘‘ اس آدمی نے عرض کیا : مجھے اس کے بچے (حمل یا شیر خوار) کے متعلق اندیشہ ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر یہ (جماع) مضر ہوتا تو یہ فارسیوں اور رومیوں کے لیے مضر ہوتا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَن جذامة بِنْتِ وَهْبٍ قَالَتْ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ وَهُوَ يَقُولُ: «لقد هَمَمْت أَن أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ فَنَظَرْتُ فِي الرُّومِ وَفَارِسَ فَإِذَا هُمْ يُغِيلُونَ أَوْلَادَهُمْ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ ذَلِكَ شَيْئًا» . ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَلِكَ الوأد الْخَفي وَهِي (وَإِذا الموؤودة سُئِلت) رَوَاهُ مُسلم

جُذامہ بنت وہب ؓ بیان کرتی ہیں ، میں کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس وقت آپ ﷺ فرما رہے تھے ۔’’’ میں نے ’’غیلہ‘‘ (حالت حمل میں دودھ پلانے) نے منع کرنے کا ارادہ کیا ، پھر میں نے رومیوں اور فارسیوں کو دیکھا کہ وہ اپنی اولاد کو حالت حمل میں دودھ پلاتے رہتے ہیں ، اور یہ ان کی اولاد کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاتا ۔‘‘ پھر انہوں نے آپ سے عزل کے متعلق دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ (عزل کرنا) انسان کو زندہ درگور کرنا ہے ۔ اور یہ (عزل کرنا) اللہ کے اس فرمان :’’ جب زندہ درگور کی گئی بچی سے پوچھا جائے گا ۔‘‘ کے زمرہ میں آتا ہے ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَعْظَمَ الْأَمَانَةِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلُ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ثمَّ ينشر سرها . رَوَاهُ مُسلم

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت اللہ کے ہاں سب سے بڑی امانت ‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ روز قیامت اللہ کے نزدیک اس آدمی کا مقام سب سے بُرا ہو گا جو اپنی اہلیہ کے پاس جاتا ہے اور وہ اس کے پاس جاتی ہے ، پھر وہ آدمی اس (اہلیہ) کے راز افشاں کر دیتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (نساوكم حرث لكم فَأتوا حَرْثكُمْ) الْآيَةَ: «أَقْبِلْ وَأَدْبِرْ وَاتَّقِ الدُّبُرَ وَالْحَيْضَةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کی گئی :’’ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں ، تم اپنی کھیتی کو آؤ ۔‘‘ ’’سامنے سے آؤ یا پچھلی طرف سے آؤ لیکن پیٹھ میں (لواطت) اور حالت حیض میں جماع کرنے سے بچو ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يستحيي مِنَ الْحَقِّ لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه. والدارمي

خزیمہ بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ بیانِ حق سے نہیں شرماتا ، تم عورتوں سے ان کی پیٹھ میں مباشرت نہ کرو ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اپنی اہلیہ کے پاس مقعد میں آئے وہ ملعون ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اپنی اہلیہ سے اس کی دُبر سے آتا ہے تو اللہ اس کی طرف نظر (رحمت) نہیں فرمائے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى رَجُلٍ أَتَى رَجُلًا أَوِ امْرَأَةً فِي الدبر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ اس شخص کی طرف نظر (رحمت) نہیں فرمائے گا جو کسی مرد یا کسی عورت سے لواطت کرتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا فَإِنَّ الْغَيْلَ يُدْرِكُ الْفَارِسَ فيدعثره عَن فرسه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اسماء بنت یزید ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اپنی اولاد کو پوشیدہ طور پر قتل نہ کرو ، کیونکہ ’’ حاملہ عورت کا دودھ اچھا گھوڑ سوار نہیں بننے دیتا اور اسے اس کے گھوڑے سے پچھاڑ دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن يعْزل عَن الْحرَّة إِلَّا بِإِذْنِهَا. رَوَاهُ ابْن مَاجَه

عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے آزاد عورت سے اس کی اجازت کے بغیر عزل کرنے سے منع فرمایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔

عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا فِي بَرِيرَةَ: «خُذِيهَا فَأَعْتِقِيهَا» . وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَارَتْ نَفسهَا وَلَو كَانَ حرا لم يخيرها

عروہ ، عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ ؓ کے بارے میں انہیں فرمایا :’’ اسے (اس کے مالکوں سے) لے کر آزاد کر دو ۔‘‘ اور اس کا خاوند غلام تھا لہذا رسول اللہ ﷺ نے (نکاح برقرار رکھنے یا فسخ کرنے کا) اسے اختیار دیا تو اس نے اپنے نکاح کو فسخ کر دیا ، اور اگر وہ (بریرہ ؓ کا خاوند) آزاد ہوتا تو آپ ﷺ اس کو اختیار نہ دیتے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عبدا أسود يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خلفهَا فِي سِكَك الْمَدِينَة يبكي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَىَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: «يَا عَبَّاسُ أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ؟ وَمِنْ بُغْضٍ بَرِيرَة مغيثاً؟» فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ راجعته» فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: «إِنَّمَا أَشْفَعُ» قَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، بریرہ ؓ کے خاوند سیاہ فام غلام تھے انہیں مغیث کے نام سے یاد کیا جاتا تھا ، اب بھی مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں اسے مدینہ کی گلیوں میں اس (بریرہ) کے پیچھے پیچھے چکر کاٹتا دیکھ رہا ہوں ، اس کے آنسو اس کی داڑھی پر رواں ہیں ، (یہ صورتحال دیکھ کر) نبی ﷺ نے عباس ؓ سے فرمایا :’’ عباس ! کیا تمہیں مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت سے تعجب نہیں ہو رہا ؟‘‘ نبی ﷺ نے (بریرہ سے) فرمایا :’’ اگر تم اس کے نکاح میں رہنے کا دوبارہ فیصلہ کر لو ؟‘‘ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ مجھے حکم فرما رہے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں تو محض سفارش کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے کہا : مجھے اس میں کوئی رغبت نہیں ۔ رواہ البخاری ۔

عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ مَمْلُوكَيْنِ لَهَا زَوْجٌ فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَبْدَأَ بِالرَّجُلِ قَبْلَ الْمَرْأَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے دو غلام ، جو کہ میاں بیوی تھے ، آزاد کرنے کا ارادہ کیا اور انہوں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا ، آپ ﷺ نے انہیں حکم فرمایا کہ مرد کو عورت سے پہلے آزاد کرو ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

وَعَنْهَا: أَنْ بَرِيرَةَ عَتَقَتْ وَهِيَ عِنْدَ مُغِيثٍ فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهَا: «إِنْ قَرِبَكِ فَلَا خِيَارَ لَكِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّالِثِ

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ بریرہ ؓ آزاد کی گئی تو وہ اس وقت مغیث ؓ کے نکاح میں تھیں ، رسول اللہ ﷺ نے اسے اختیار دیا اور اسے فرمایا :’’ اگر اس نے تم سے (آزادی کے دوران) جماع کر لیا تو پھر تیرا اختیار ختم ہو جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

عَن مُعَاوِيَة بنِ الحكمِ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ جَارِيَةً كَانَتْ لِي تَرْعَى غَنَمًا لِي فَجِئْتُهَا وَقَدْ فَقَدَتْ شَاةً مِنَ الْغَنَمِ فَسَأَلْتُهَا عَنْهَا فَقَالَتْ: أَكَلَهَا الذِّئْبُ فَأَسِفْتُ عَلَيْهَا وَكُنْتُ مَنْ بَنِي آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْهَهَا وَعَلَيَّ رَقَبَةٌ أَفَأُعْتِقُهَا؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ اللَّهُ؟» فَقَالَتْ: فِي السَّمَاءِ فَقَالَ: «مَنْ أَنَا؟» فَقَالَتْ: أَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْتِقْهَا» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ قَالَ: كَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِنَا وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ لَكِنْ صَكَكْتُهَا صَكَّةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أفَلا أُعتِقُها؟ قَالَ: «ائتِني بهَا؟» فأتيتُه بِهَا فَقَالَ لَهَا: «أَيْنَ اللَّهُ؟» قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ قَالَ: «مَنْ أَنَا؟» قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ الله قَالَ: «أعتِقْها فإنَّها مؤْمنةٌ»

معاویہ بن حکم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میری ایک لونڈی میری بکریاں چراتی تھی ، میں اس کے پاس آیا تو میں نے ایک بکری نہ پائی ، میں نے اس کے متعلق اس سے پوچھا تو اس نے کہا : اسے بھیڑیے نے کھا لیا ہے ، میں اس سے ناراض ہوا ، چونکہ میں اولاد آدم سے ہوں ، میں نے اس کے چہرے پر تھپڑ مار دیا ، (اور کسی وجہ سے) غلام آزاد کرنا مجھ پر واجب ہے ، کیا میں اسے آزاد کر دوں ؟ رسول اللہ ﷺ نے اس لونڈی سے پوچھا :’’ اللہ کہاں ہے ؟‘‘ اس نے کہا : آسمان میں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں کون ہوں ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، آپ اللہ کے رسول ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے آزاد کر دو ۔‘‘ یہ مالک کی روایت ہے ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے : انہوں (معاویہ بن حکم ؓ) نے کہا : میری ایک لونڈی تھی جو اُحد اور جوانیہ کی طرف میری بکریاں چرایا کرتی تھی ، ایک روز میں نے دیکھا کہ بھیڑیا ہماری بکریوں میں سے ایک بکری لے گیا ، چونکہ میں آدم کی اولاد سے ہوں ، میں بھی ناراض ہوتا ہوں جیسے وہ ناراض ہوتے ہیں ، اس لیے میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا (اور سارا واقعہ سنایا) آپ نے میری اس حرکت کو بڑا جرم قرار دیا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے میرے پاس لاؤ ۔‘‘ میں اسے آپ کے پاس لے آیا تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا :’’ اللہ کہاں ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : آسمان میں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں کون ہوں ؟‘‘ اس نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے آزاد کر دو کیونکہ یہ مسلمان ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و مسلم ۔