معاذ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کوئی عورت اپنے شوہر کو دنیا میں تکلیف پہنچاتی ہے تو اس کی بڑی بڑی آنکھوں والی جنتی بیوی کہتی ہے : اللہ تجھے ہلاک کرے ، اسے تکلیف نہ پہنچا ، وہ تو تیرے پاس بس مہمان ہے ، وہ عنقریب تجھے چھوڑ کر ہماری طرف چلا آئے گا ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
حکیم بن معاویہ قشیری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! بیوی کا خاوند پر کیا حق ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ ، جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ ، اس کے چہرے پر مارو نہ اسے بُرا بھلا کہو اور (ناراضی پر) صرف گھر میں اس سے علیحدگی اختیار کرو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
لقیط بن صبرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میری ایک بیوی ہے اس کی زبان میں کچھ (نقص) ہے یعنی وہ فحش گو ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے طلاق دے دو ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، میری اس سے اولاد ہے اور اس کے ساتھ ایک تعلق ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے وعظ و نصیحت کرو ، اگر اس میں کوئی خیر و بھلائی ہوئی تو وہ نصیحت قبول کر لے گی ، اور اپنی اہلیہ کو لونڈی کی طرح نہ مارو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ایاس بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی لونڈیوں (اپنی بیویوں) کو نہ مارو ۔‘‘ عمر ؓ ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : عورتیں اپنے خاوندوں پر جرأت کرنے لگی ہیں ، تب آپ نے انہیں مارنے کے متعلق رخصت عطا فرمائی تو بہت سی عورتیں محمد ﷺ کی ازواج مطہرات کے پاس اپنے خاوندوں کی شکایت لے کر آئیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بہت سی عورتیں اپنے خاوندوں کی شکایت لے کر محمد (ﷺ) کی ازواج کے پاس آئیں ہیں ، ایسے لوگ (جو اپنی ازواج کو مارتے ہیں) تم میں سے بہتر نہیں ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی عورت کو اس کے خاوند کے خلاف یا غلام کو اس کے آقا کے خلاف بھڑکائے وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومنوں میں سے کامل ایمان والا شخص وہ ہے جو ان میں سے اچھے اخلاق والا اور اپنے گھر والوں کے ساتھ زیادہ مہربان ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومنوں میں سے کامل ایمان والا وہ شخص ہے جو اِن میں سے اچھے اخلاق والا ہے ، اور تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لیے بہتر ہے ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اور امام ابوداؤد نے اسے ((خُلُقًا)) تک روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک یا غزوہ حنین سے واپس تشریف لائے ، اور ان (عائشہ ؓ) کی الماری پر پردہ تھا ، ہوا چلی تو اس نے عائشہ ؓ کی گڑیوں اور کھلونوں سے پردہ ہٹا دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عائشہ ! یہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میری گڑیاں ہیں ، آپ نے ان میں ایک گھوڑا دیکھا جس کے کپڑے سے بنے ہوئے دو پَر تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں ان کے درمیان میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : گھوڑا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اور جو اِس کے اُوپر ہے ، وہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : دو پَر ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ گھوڑا اور اس کے دو پَر !‘‘ انہوں نے عرض کیا : کیا آپ نے نہیں سنا کہ سلیمان ؑ کا ایک گھوڑا تھا جس کے پر تھے ۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں ، یہ سن کر آپ مسکرا دیے حتی کہ میں نے آپ ﷺ کی داڑھیں دیکھیں ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
قیس بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں حیرہ پہنچا تو میں نے وہاں کے باشندوں کو اپنے سپہ سالار کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کا زیادہ حق ہے کہ انہیں سجدہ کیا جائے ۔ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرض کیا : میں حیرہ گیا تھا میں نے وہاں کے باشندوں کو اپنے سپہ سالار کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ، آپ زیادہ حق دار ہیں کہ آپ کو سجدہ کیا جائے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے بتاؤ اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو تو کیا تم اسے سجدہ کرو گے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مت کرو ، اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوندوں کو سجدہ کریں اس لیے کہ اللہ نے انہیں ان پر حق عطا کیا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
وَرَوَاهُ أَحْمد عَن معَاذ بن جبل
امام احمد نے اسے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ احمد ۔
عمر ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ خاوند سے دریافت نہ کیا جائے کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا ہے ؟‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک عورت آپ کے پاس آئی تو اس نے عرض کیا : میرا خاوند صفوان بن معطل ، جب میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ مجھے مارتا ہے ، جب میں (نفلی) روزہ رکھتی ہوں تو وہ مجھے افطار کرنے کا حکم دیتا ہے ، اور وہ سورج طلوع ہونے پر نماز فجر پڑھتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، صفوان آپ ﷺ کے پاس ہی تھا ، راوی نے کہا : آپ نے اس چیز کے متعلق جو اس (عورت) نے کہا تھا صفوان سے دریافت کیا ، تو اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! رہا اس کا یہ کہنا کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ مجھے مارتا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دو سورتیں پڑھتی ہے ۔ حالانکہ میں نے اسے منع کیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے صفوان سے فرمایا :’’ اگر ایک ہی سورت ہوتی وہ لوگوں کے لیے کافی ہوتی ۔ صفوان نے کہا : رہا اس کا یہ کہنا کہ جب میں روزہ رکھتی ہوں تو وہ مجھے افطار کرا دیتا ہے ۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ روزے رکھتی چلی جاتی ہے جبکہ میں نوجوان آدمی ہوں ، میں (جماع سے) رُک نہیں سکتا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزے نہ رکھے ۔‘‘ اور اس کا یہ کہنا کہ میں سورج طلوع ہونے پر نماز پڑھتا ہوں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے گھرانے کے متعلق مشہور ہے کہ ہم سورج طلوع ہونے پر ہی بیدار ہوتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ صفوان ! جب تم بیدار ہو تب نماز پڑھ لیا کرو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مہاجرین و انصار کی جماعت میں تھے کہ اتنے میں ایک اونٹ آیا اور اس نے آپ کو سجدہ کیا ۔ آپ کے صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! چوپائے اور درخت آپ کو سجدہ کرتے ہیں ، جبکہ ہم تو زیادہ حق دار میں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے رب کی عبادت کرو اور اپنے بھائی کی عزت کرو ، اگر میں کسی کو حکم کرتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے ، اور اگر وہ اسے حکم دے کہ وہ جبلِ اصفر (زرد پہاڑ) سے جبلِ اسود (کالے پہاڑ) کی طرف اور جبلِ اسود کو جبلِ ابیض کی طرف پتھر منتقل کر دے تو اسے چاہیے کہ وہ ایسا ہی کرے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کی نہ نماز قبول ہوتی ہے اور نہ کوئی نیکی اوپر چڑھتی ہے : مفرور غلام حتی کہ وہ اپنے مالکوں کے پاس واپس آ جائے اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دے ، وہ عورت جس پر اس کا خاوند ناراض ہو ، اور نشے والا حتی کہ وہ ہوش میں آ جائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا : کون سی عورت بہتر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ جو اپنے خاوند کو خوش کر دے جب وہ اسے دیکھے ، اور جب اسے حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور اپنے مال و جان میں خاوند کی مرضی کے خلاف ایسا کام نہ کرے جو اسے ناپسند ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ چار چیزیں ایسی ہیں جسے مل جائیں تو اسے دنیا و آخرت کی بھلائی مل گئی ، شکر گزار دل ، ذکر کرنے والی زبان ، تکلیفوں میں صبر کرنے والا بدن اور ایسی عورت جو اپنے خاوند سے اپنی ذات کے بارے میں اور اس کے مال کے بارے میں خیانت کی طالب نہ ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔