مشکوۃ

Mishkat

نکاح کا بیان

نان نفقہ اور حق مملوک کا بیان

بَاب النَّفَقَات وَحقّ الْمَمْلُوك

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَهَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غلامين أَخَوَيْنِ فَبعث أَحدهمَا فَقَالَ لي رَسُول صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ مَا فَعَلَ غُلَامُكَ؟» فَأَخْبَرْتُهُ. فَقَالَ: «رُدُّهُ رُدُّهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے دو غلام بھائی مجھے ہبہ کیے تو میں نے ان میں سے ایک بیچ دیا ، رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا :’’ تیرا غلام کہاں گیا ؟‘‘ میں نے آپ کو بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے واپس لاؤ ، اسے واپس لاؤ ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

وَعَنْهُ أَنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ جَارِيَةٍ وَوَلَدِهَا فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فردَّ البَيعَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد مُنْقَطِعًا

علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک لونڈی اور اس کے بچے کے درمیان جدائی ڈال دی تو نبی ﷺ نے انہیں اس سے منع فرمایا اور بیع کو فسخ کر دیا ۔ ابوداؤد نے اسے منقطع روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ يَسَّرَ اللَّهُ حَتْفَهُ وَأَدْخَلَهُ جَنَّتَهُ: رِفْقٌ بِالضَّعِيفِ وَشَفَقَةٌ عَلَى الْوَالِدَيْنِ وَإِحْسَانٌ إِلَى الْمَمْلُوكِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

جابر ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص میں تین صفات ہوں گی اللہ اس کی موت آسان فرما دے گا اور اسے جنت میں داخل فرمائے گا : کمزور سے نرمی کرنا ، والدین پر شفقت کرنا اور مملوک سے احسان کرنا ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے کہا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم وَهَبَ لِعَلِيٍّ غُلَامًا فَقَالَ: «لَا تَضْرِبْهُ فَإِنِّي نُهِيتُ عَنْ ضَرْبِ أَهْلِ الصَّلَاةِ وَقَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي» . هَذَا لفظ المصابيح

ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ کو ایک غلام ہبہ کیا تو فرمایا :’’ اسے مارنا نہیں ، کیونکہ نمازیوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے اور میں نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔‘‘ یہ مصابیح کے الفاظ ہیں ۔ حسن ، رواہ البغوی فی المصابیح و احمد و الطبرانی ۔

وَفِي «الْمُجْتَبَى» لِلدَّارَقُطْنِيِّ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَرْبِ الْمُصَلِّينَ

اور امام دارقطنی کی روایت المجتبی میں ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نمازیوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے ۔ حسن ، رواہ الدارقطنی ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كم نَعْفُو عَنِ الْخَادِمِ؟ فَسَكَتَ ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ الْكَلَامَ فصمتَ فلمَّا كانتِ الثَّالثةُ قَالَ: «اعفُوا عَنْهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم خادم کو کتنی بار معاف کریں ؟ آپ ﷺ خاموش رہے ، اس شخص نے پھر یہی کہا ، آپ پھر خاموش رہے ، جب تیسری بار دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس سے دن میں ستر بار درگزر کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو

امام ترمذی نے اسے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَاءَمَكُمْ مِنْ مَمْلُوكِيكُمْ فَأَطْعِمُوهُ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَاكْسُوهُ مِمَّا تَكْسُونَ وَمَنْ لَا يُلَائِمُكُمْ مِنْهُمْ فَبِيعُوهُ وَلَا تُعَذِّبُوا خَلَقَ اللَّهِ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے غلاموں میں سے جو غلام تمہاری معاونت کرے تو جو تم کھاتے ہو اسے بھی وہی کھلاؤ اور جو تم پہنتے ہو اسے بھی وہی پہناؤ ، اور ان میں سے جو تمہاری معاونت نہ کرے اسے بیچ دو اور اللہ کی مخلوق کو سزا نہ دو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

وَعَن سهلِ بنِ الحَنظلِيَّةِ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعِيرٍ قَدْ لَحِقَ ظَهْرُهُ بِبَطْنِهِ فَقَالَ: «اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ الْمُعْجَمَةِ فَارْكَبُوهَا صَالِحَة واترُكوها صَالِحَة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

سہل بن حنظلیہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ایک لاغر اونٹ کے پاس سے گزرے تو فرمایا :’’ ان بے زبان جانوروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، ان پر اس حال میں سواری کرو کہ وہ سواری کے قابل ہوں ، اور انہیں اس حال میں چھوڑو کہ وہ اچھے ہوں (ابھی تھکے نہ ہوں) ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ قَوْلُهُ تَعَالَى (وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أحسن) وَقَوْلُهُ تَعَالَى: (إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا) الْآيَةَ انْطَلَقَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ يَتِيمٌ فَعَزَلَ طَعَامه من طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ شَرَابِهِ فَإِذَا فَضَلَ مِنْ طَعَامِ الْيَتِيمِ وَشَرَابِهِ شَيْءٌ حُبِسَ لَهُ حَتَّى يَأْكُلَهُ أَوْ يَفْسُدَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: (وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ: إصْلَاح لَهُم خير وَإِن تخالطوهم فإخوانكم) فَخَلَطُوا طَعَامَهُمْ بِطَعَامِهِمْ وَشَرَابَهُمْ بِشَرَابِهِمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’ تم یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اسی کے ساتھ کہ وہ احسن ہو ۔‘‘ اس کا فرمان :’’ بے شک جو لوگ یتیموں کا مال از راہِ ظلم کھاتے ہیں ۔‘‘ نازل ہوا تو پھر جس شخص کے پاس یتیم تھا اس نے اس کا کھانا اپنے کھانے سے ، اس کا پینا اپنے پینے سے الگ کر دیا ، اور جب یتیم کے کھانے پینے سے کچھ بچ جاتا تو وہ اسی کے لیے رکھ دیتے حتی کہ وہ اسے کھا لیتا یا وہ خراب ہو جاتا ، یہ چیز ان پر بہت دشوار گزری تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ وہ آپ سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ، فرما دیجئے ان کے لیے اصلاح کرنا بہتر ہے ، اور اگر تم ان کو اپنے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں ۔‘‘ انہوں نے ان کا کھانا اپنے کھانے کے ساتھ اور پینا اپنے پینے کے ساتھ ملا لیا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

وَعَن أبي مُوسَى قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِهِ وَبَيْنَ الْأَخِ وَبَيْنَ أَخِيهِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارَقُطْنِيُّ

ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے والد اور اس کے بچے کے درمیان ، نیز بھائیوں کے درمیان جدائی ڈالنے والے پر لعنت فرمائی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و الدارقطنی ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالسَّبْيِ أَعْطَى أَهْلَ الْبَيْتِ جَمِيعًا كَرَاهِيَةَ أَنْ يفرق بَينهم. رَوَاهُ ابْن مَاجَه

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ کے پاس قیدی لائے جاتے تو آپ ایک گھر کے تمام افراد کسی ایک کو عطا فرما دیتے کیونکہ آپ کو ان میں جدائی ڈالنا ناپسند تھا ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشِرَارِكُمُ؟ الَّذِي يَأْكُلُ وَحْدَهُ وَيَجْلِدُ عَبْدَهُ وَيَمْنَعُ رِفْدَهُ» . رَوَاهُ رزين

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں تمہارے بُرے لوگوں کے متعلق نہ بتاؤں ، وہ شخص ہے جو (بخل و تکبر کی وجہ سے) اکیلا کھاتا ہے ، اپنے غلام کو مارتا ہے اور اپنا عطیہ اس کے مستحق کو نہیں دیتا ۔‘‘ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ أَكْثَرُ الْأُمَمِ مَمْلُوكِينَ وَيَتَامَى؟ قَالَ: «نَعَمْ فَأَكْرِمُوهُمْ كَكَرَامَةِ أَوْلَادِكُمْ وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ» . قَالُوا: فَمَا تنفعنا الدُّنْيَا؟ قَالَ: «فَرَسٌ تَرْتَبِطُهُ تُقَاتِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَمْلُوكٌ يَكْفِيكَ فَإِذَا صَلَّى فَهُوَ أَخُوكَ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ

ابوبکر صدیق ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ (مملوکوں سے) بُرا سلوک کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا ۔‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ نے ہمیں نہیں بتایا کہ اس امت میں تمام امتوں سے زیادہ مملوک اور یتیم ہوں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، تم ان کی اپنی اولاد کی طرح تکریم کرو اور جو خود کھاؤ وہی انہیں کھلاؤ ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہمیں دنیا میں کون سی چیز فائدہ دے گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ گھوڑا جسے تو تیار رکھے تاکہ تو اس پر اللہ کی راہ میں جہاد کرے ، اور مملوک جو تجھے کفایت کرے ، جب وہ نماز پڑھے تو وہ تمہارا بھائی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔