مشکوۃ

Mishkat

نکاح کا بیان

چھوٹے لڑکے کی عمر بلوغت اور کم سنی میں اس کی تربیت کا بیان

بَابُ بُلُوغِ الصَّغِيرِ وَحَضَانَتِهِ فِي الصِّغَرِ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَرَدَّنِي ثُمَّ عُرِضْتُ عَلَيْهِ عَامَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَنِي فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: هَذَا فَرْقُ مَا بَين الْمُقَاتلَة والذرية

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوہ احد کے موقع پر چودہ سال کی عمر میں مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے مجھے واپس کر دیا ، پھر غزوہ خندق کے موقع پر پندرہ سال کی عمر میں مجھے پیش کیا گیا تو آپ نے مجھے (جہاد کرنے کی) اجازت مرحمت فرما دی ۔ عمر بن عبدالعزیز ؒ نے فرمایا : یہی عمر (پندرہ سال) لڑنے والے جوانوں اور لڑکوں (نابالغ) میں فرق کرنے والی ہے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: صَالَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ: عَلَى أَنَّ مَنْ أَتَاهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ رَدَّهُ إِلَيْهِمْ وَمَنْ أَتَاهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَرُدُّوهُ وَعَلَى أَنْ يَدْخُلَهَا مِنْ قَابِلٍ وَيُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الْأَجَلُ خَرَجَ فَتَبِعَتْهُ ابْنَةُ حَمْزَةَ تُنَادِي: يَا عَمِّ يَا عَمِّ فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِيَدِهَا فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَزَيْدٌ وَجَعْفَرٌ قَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ بِنْتُ عَمِّي. وَقَالَ جَعْفَرٌ: بِنْتُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي وَقَالَ زَيْدٌ: بِنْتُ أَخِي فَقَضَى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا وَقَالَ: «الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ» . وَقَالَ لَعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ» وَقَالَ لِجَعْفَرٍ: «أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي» . وَقَالَ لزيد: «أَنْت أخونا ومولانا»

براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے حدیبیہ کے موقع پر تین اشیاء پر صلح فرمائی ، کہ مشرکین میں سے جو شخص ان کی طرف آئے گا اسے ان (مشرکین) کی طرف واپس کیا جائے گا ۔ اور جو مسلمانوں کی طرف سے ان کے پاس چلا جائے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا ، اور آپ ﷺ آئندہ سال مکہ میں داخل ہوں گے ۔ اور وہاں تین روز قیام کریں گے ، جب آپ اس (مکہ) میں داخل ہوئے اور مدت پوری ہو گئی اور آپ نے واپسی کا ارادہ فرمایا تو حمزہ ؓ کی بیٹی آپ ﷺ کے پیچھے چچا جان ! چچا جان ! کہہ کر آوازیں دینے لگی تو علی ؓ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ کر لیا اس کے ساتھ ہی حضرت علی ؓ ، حضرت جعفر ؓ ، اور حضرت زید ؓ کے درمیان حمزہ کی بیٹی کے بارے میں تنازع شروع ہو گیا : علی ؓ نے فرمایا : میں نے اسے پکڑا ہے اور وہ میرے چچا کی بیٹی ہے ، جعفر ؓ نے فرمایا : وہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے ، اور زید ؓ نے فرمایا : میرے بھائی کی بیٹی ہے ، نبی ﷺ نے اس کے متعلق اس کی خالہ کے حق میں فیصلہ کیا اور فرمایا :’’ خالہ ماں کی جگہ پر ہے ۔‘‘ اور علی ؓ سے فرمایا :’’ تم مجھ سے ہو اور میں تجھ سے ہوں ۔‘‘ جعفر ؓ سے فرمایا :’’ تم خَلق و خُلق (سیرت و صورت) میں مجھ سے مشابہ ہو ۔‘‘ اور زید ؓ سے فرمایا :’’ تم ہمارے بھائی اور ہمارے چہیتے ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً وَإِنَّ أَبَاهُ طَلَّقَنِي وَأَرَادَ أَنْ يَنْزِعَهُ مِنِّي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لم تنكحي» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرا یہ بیٹا (کہ دوران حمل) میرا پیٹ اس کے لیے ظرف تھا ، (دورانِ رضاعت) میری چھاتی اس کے لیے مشکیزہ (دودھ پینے کی جگہ) تھی ۔ اور میری گود اس کے لیے ٹھکانا تھی ، اور (اب) اس کے والد نے مجھے طلاق دے دی ہے اور وہ اسے مجھ سے چھیننا چاہتا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تک تو (نئے خاوند سے) نکاح نہ کرے ، اس وقت تک تم اس کی زیادہ حق دار ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ غُلَامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأمه. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بالغ لڑکے کو اس کے والد اور اس کی والدہ کے درمیان اختیار دیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

وَعنهُ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي وَقَدْ سَقَانِي وَنَفَعَنِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ» . فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ فَانْطَلَقَتْ بِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا ، میرا خاوند میرے اس بیٹے کو لے جانا چاہتا ہے ، جبکہ وہ میرے لیے پانی لاتا ہے اور مجھے فائدہ پہنچاتا ہے ، تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ یہ تمہارا والد ہے اور یہ تمہاری والدہ ہے ، تم ان دونوں میں سے جس کا چاہو ہاتھ تھام لو ۔‘‘ اس نے اپنی والدہ کا ہاتھ تھام لیا تو وہ اسے لے کر چلی گئی ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔

عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ سُلَيْمَانَ مَوْلًى لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَارِسِيَّةٌ مَعَهَا ابْنٌ لَهَا وَقَدْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا فَادَّعَيَاهُ فَرَطَنَتْ لَهُ تَقُولُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي. فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اسْتهمَا رَطَنَ لَهَا بِذَلِكَ. فَجَاءَ زَوْجُهَا وَقَالَ: مَنْ يُحَاقُّنِي فِي ابْنِي؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أَقُولُ هَذَا إِلَّا أَنِّي كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي وَقَدْ نَفَعَنِي وَسَقَانِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ وَعِنْدَ النَّسَائِيِّ: مِنْ عَذْبِ الْمَاءُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَهِمَا عَلَيْهِ» . فَقَالَ زَوْجُهَا مَنْ يُحَاقُّنِي فِي وَلَدِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ» فَأَخَذَ بيد أمه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد. وَالنَّسَائِيّ لكنه ذكر الْمسند. وَرَوَاهُ الدَّارمِيّ عَن هِلَال بن أُسَامَة

ہلال بن اسامہ اہل مدینہ کے آزاد کردہ غلام ابومیمونہ سلیمان سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : اس دوران کہ میں ابوہریرہ ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک فارسی (عجمی) عورت ، جس کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی تھی ، اپنے بیٹے کو لے کر ابوہریرہ ؓ کے پاس آئی اور وہ دونوں (والد اور والدہ) اس کا دعویٰ کرتے تھے ، اس عورت نے ابوہریرہ ؓ سے فارسی میں بات کرتے ہوئے کہا : ابوہریرہ ! میرا خاوند میرے اس بیٹے کو لے جانا چاہتا ہے ۔ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : تم دونوں اس کے متعلق قرعہ اندازی کرو ۔ ابوہریرہ ؓ نے بھی اس کے متعلق اسے فارسی میں بتایا ، جب اس کا خاوند آیا تو اس نے کہا : میرے بیٹے کے متعلق کون مجھ سے جھگڑتا ہے ؟ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : اے اللہ ! میں یہ فیصلہ اس لیے دے رہا ہوں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرا خاوند میرے اس بیٹے کو لے جانا چاہتا ہے ، جبکہ وہ مجھے فائدہ پہنچاتا ہے اور ابوعنبہ کے کنویں سے پانی لا کر مجھے پلاتا ہے ، اور نسائی کی روایت میں ہے : میٹھا پانی ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کے متعلق قرعہ اندازی کرو ۔‘‘ تو اس کے خاوند نے کہا : میرے بچے کے بارے میں مجھ سے کون جھگڑتا ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ تیرا والد ہے اور یہ تیری والدہ ہے ، لہذا تم ان میں سے جس کا چاہو ہاتھ پکڑ لو ،‘‘ اس نے اپنی والدہ کا ہاتھ پکڑ لیا ۔ ابوداؤد ، نسائی ، لیکن انہوں نے اسے مسند روایت کیا ہے ۔ اور دارمی نے اسے ہلال بن اسامہ سے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔