مشکوۃ

Mishkat

غلام کو آزاد کرنے کا بیان

مشترک غلام کو آزاد کرنے ، قریبی شخص کو خریدنے اور مرض میں آزاد کرنے کا بیان

بَابُ إِعْتَاقِ الْعَبْدِ الْمُشْتَرَكِ وَشِرَاءِ الْقَرِيبِ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ وَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ فَأُعْطِيَ شُرَكَاؤُهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ»

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا اور اس کے پاس اتنا مال ہے جو غلام کی قیمت کو پہنچتا ہے ، تو غلام کی منصفانہ قیمت مقرر کی جائے گی اور وہ اس کے شرکاء کو ان کے حصوں کے مطابق دی جائے گی اور غلام آزاد ہو جائے گا ، ورنہ جتنا آزاد ہو گیا سو ہو گیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا فِي عَبْدٍ أُعْتِقَ كُلُّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى الْبعد غير مشقوق عَلَيْهِ»

ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے کسی غلام میں موجود اپنا حصہ آزاد کر دیا اور اگر وہ شخص مال دار ہے تو غلام کو مکمل طور پر آزاد کر دیا جائے گا ، اور اگر اس شخص کے پاس مال نہیں تو غلام سے مال کمانے کے لیے کہا جائے گا لیکن اس پر مشقت نہیں ڈالی جائے گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَن عمرَان بن حُصَيْن: أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَدَعَا بهم رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزَّأَهُمْ أَثْلَاثًا ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً وَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْهُ وَذَكَرَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ» بَدَلَ: وَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ: قَالَ: «لَوْ شَهِدْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُدْفَنَ لَمْ يُدْفَنْ فِي مَقَابِر الْمُسلمين»

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے قریب اپنے چھ غلام آزاد کر دیئے ، اور اس کے پاس ان کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے غلاموں کو بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کر دیا ، پھر ان کے مابین قرعہ اندازی کی تو دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام رکھا ، اور آپ ﷺ نے اس کے متعلق سخت الفاظ فرمائے ۔ انہی سے مروی نسائی کی ایک روایت میں ’’ اس کے متعلق سخت الفاظ فرمائے ‘‘ کی بجائے یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھوں ۔‘‘ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے فرمایا :’’ اگر میں اس کی تدفین سے پہلے موجود ہوتا تو اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جاتا ۔‘‘ رواہ مسلم ، و النسائی و ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِده إِلَّا أَن يجده مَمْلُوكا فيشتر بِهِ فيعتقه» . رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بیٹا اپنے والد کے احسانات کا بدلہ صرف اس صورت میں ادا کر سکتا ہے کہ اگر وہ باپ کو مملوک پائے تو اسے خرید کر آزاد کر دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ دَبَّرَ مَمْلُوكًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَبَلَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِيهِ مني؟» فَاشْتَرَاهُ نعيم بن النَّحَّامِ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ بثمانمائة دِرْهَم فجَاء بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ أَهْلِكَ شَيْءٌ فَلِذِي قَرَابَتِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِكَ شَيْءٌ فَهَكَذَا وَهَكَذَا» يَقُولُ: فَبين يَديك وَعَن يَمِينك وَعَن شمالك

جابر ؓ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی نے ایک غلام مدّبر کیا (یوں کہا کہ میری موت کے بعد یہ غلام آزاد ہو گا) ، اور اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہیں تھا ، نبی ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھ سے اسے کون خریدتا ہے ؟‘‘ تو نعیم بن نحام ؓ نے آٹھ سو درہم کے بدلے میں اسے خرید لیا ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے کہ نعیم بن عبداللہ عدوی نے آٹھ سو درہم کے عوض اسے خرید لیا ۔ اور اس آدمی نے یہ رقم نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کی تو آپ ﷺ نے وہ اسے دے دی ، پھر فرمایا :’’ پہلے اپنی جان سے شروع کرو اور اس پر صدقہ کرو ۔ اگر کچھ بچ جائے تو پھر تیرے گھر والوں کے لیے ، اگر تیرے گھر والوں سے بچ جائے تو تیرے رشتہ داروں کے لیے ، اگر تیرے رشتہ داروں سے بچ جائے تو پھر اس طرح اور اس طرح ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، اپنے سامنے اور اپنے دائیں بائیں تقسیم کر ۔ متفق علیہ ۔

عَن الْحسن عَن سَمُرَة عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «من ملك ذَا رحم محرم فَهُوَ حُرٌّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

حسن ، سمرہ کی سند سے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص قرابت دار محرم کا مالک ہو جائے تو وہ (غلام) آزاد ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَلَدَتْ أَمَةُ الرَّجُلِ مِنْهُ فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ أَوْ بَعْدَهُ» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

ابن عباس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب آدمی کی لونڈی اس کے بچے کو جنم دے تو وہ اس کی موت کے بعد آزاد ہو جائے گی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: بِعْنَا أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ نَهَانَا عَنْهُ فَانْتَهَيْنَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ کے دور میں ام ولد (وہ لونڈی جس کے ساتھ اس کا مالک ہم بستر ہوا اور اس سے اولاد پیدا ہو گئی) کی بیع کیا کرتے تھے ۔ جب عمر ؓ کا دور آیا تو انہوں نے ہمیں اس سے منع کیا تو ہم رک گئے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُ الْعَبْدِ لَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ السَّيِّدُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص غلام آزاد کرے اور اس (غلام) کا مال ہو تو غلام کا مال غلام ہی کا ہے مگر یہ کہ آقا کوئی شرط طے کر لے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

وَعَن الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا مِنْ غُلَامٍ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَيْسَ لِلَّهِ شَرِيكٌ» فَأَجَازَ عتقه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابوملیح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، کہ کسی آدمی نے غلام میں موجود اپنے حصے کو آزاد کیا تو نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کے لیے کوئی شریک نہیں ۔‘‘ آپ ﷺ نے اسے مکمل طور پر آزاد کرنے کی ترغیب دلائی ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَن سفينة قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا لِأُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ: أُعْتِقُكَ وَأَشْتَرِطُ عَلَيْكَ أَنْ تَخْدُمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتَ فَقُلْتُ: إِنْ لَمْ تَشْتَرِطِي عَلَيَّ مَا فَارَقْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتُ فَأَعْتَقَتْنِي وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

سفینہ بیان کرتے ہیں ، میں ام سلمہ ؓ کا غلام تھا ، انہوں نے فرمایا : میں تمہیں آزاد کرتی ہوں اور تم پر شرط عائد کرتی ہوں کہ تم زندگی بھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت کرو گے ، میں نے کہا : اگر آپ مجھ پر شرط نہ بھی عائد کریں تب بھی میں زندگی بھر رسول اللہ ﷺ سے الگ نہ ہوتا ۔ انہوں نے مجھے آزاد کر دیا اور مجھ پر شرط عائد کر دی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ مُكَاتبَته دِرْهَم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مکاتب پر جب تک مکاتبت کا ایک درہم بھی باقی رہتا ہے تو وہ غلام ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ عِنْدَ مكَاتب إحداكن وَفَاء فلنحتجب مِنْهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تمہارے کسی مکاتب کے پاس اس قدر رقم ہو کہ وہ ادا کر سکے تو وہ (مالکہ) اس سے پردہ کرے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ كَاتَبَ عَبْدَهُ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أَوَاقٍ أَوْ قَالَ: عَشْرَةَ دَنَانِيرَ ثُمَّ عَجَزَ فَهُوَ رَقِيقٌ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے اپنے غلام سے سو اوقیہ پر مکاتبت کی ، اس کے ذمے صرف دس اوقیہ یا فرمایا : دس دینار باقی رہ گئے اور وہ انہیں ادا نہ کر سکا تو وہ غلام ہی ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَصَابَ الْمُكَاتَبُ حَدًّا أَوْ مِيرَاثًا وَرِثَ بِحِسَابِ مَا عَتَقَ مِنْهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ قَالَ: «يُودَى الْمُكَاتَبُ بِحِصَّةِ مَا أَدَّى دِيَةَ حر وَمَا بَقِي دِيَة عبد» . وَضَعفه الفص الثَّالِث

ابن عباس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب مکاتب دیت یا میراث کا مستحق بنتا ہے تو وہ اپنی آزادی کے حساب سے وارث بنے گا ۔‘‘ اور ترمذی کی روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مکاتب کو اس حصہ کے مطابق دیت دی جائے گی جو اس نے دیت حر ادا کی ہے اور جو بچ جائے وہ دیت عبد ہے ۔‘‘ اور امام ترمذی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ: أَنَّ أُمَّهُ أَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ فَأَخَّرَتْ ذَلِكَ إِلَى أَنْ تُصْبِحَ فَمَاتَتْ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: أَيَنْفَعُهَا أَنْ أَعْتِقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ الْقَاسِمُ: أَتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي هَلَكَتْ فَهَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أَعْتِقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نعم» . رَوَاهُ مَالك

عبدالرحمن بن ابی عمرہ انصاری سے روایت ہے کہ ان کی والدہ نے غلام آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اسے صبح تک مؤخر کر دیا ، سو وہ فوت ہو گئیں ، عبدالرحمن بیان کرتے ہیں ، میں نے قاسم بن محمد سے کہا : اگر میں ان کی طرف سے غلام آزاد کر دوں تو کیا انہیں فائدہ ہو گا ؟ قاسم نے کہا : سعد بن عبادہ ؓ ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا : میری والدہ فوت ہو گئیں ہیں ، اگر میں ان کی طرف سے غلام آزاد کروں تو کیا انہیں فائدہ ہو گا ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ حسن ، رواہ مالک ۔

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: تُوُفِّيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فِي نَوْمٍ نَامَهُ فَأَعْتَقَتْ عَنْهُ عَائِشَةُ أُخْتُهُ رِقَابًا كَثِيرَةً. رَوَاهُ مَالك

یحیی بن سعید بیان کرتے ہیں ، عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ حالت نیند ہی میں وفات پا گئے تو ان کی بہن عائشہ ؓ نے ان کی طرف سے بہت سے غلام آزاد کیے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اشْتَرَى عَبْدًا فَلَمْ يَشْتَرِطْ مَاله فَلَا شَيْء لَهُ» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے کوئی غلام خریدا اس (غلام) کے مال کی شرط قائم نہ کی تو اس (خریدنے والے) کے لیے (اس کے مال سے) کچھ بھی نہیں ملے گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الدارمی ۔