علی ؓ سے روایت ہے کہ ’’ شبہ عمد کی دیت تین قسم (کے اونٹوں) پر مشتمل ہے : تینتیس حِقَّہ (تین سال مکمل کرنے کے بعد چوتھے سال میں داخل اونٹ) تینتیس جذعہ (پانچویں سال میں داخل) چونتیس (چھٹے سال میں داخل ہونے والی اونٹنیاں) اور وہ سب حاملہ ہوں ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے فرمایا :’’ قتل خطا کی دیت چار قسم کی اونٹنیاں ہیں : پچیس حِقہ ، پچیس جذعہ ، پچیس بنات لبون اور پچیس بنات مخاض ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
مجاہد بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے شبہ عمد میں تیس حقہ ، تیس جذعہ اور چالیس حاملہ اونٹنیوں کا فیصلہ کیا جو کہ چھ سال سے نو سال کی عمر کے درمیان ہوں اور وہ تمام حاملہ ہوں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
سعید بن مسیّب ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنین کے بارے میں جسے اس کی ماں کے پیٹ میں قتل کیا جائے ، ایک غلام یا ایک لونڈی کی دیت کا فیصلہ کیا تو آپ ﷺ سے جس کے خلاف فیصلہ کیا تھا اس نے کہا : میں اس کی دیت کیسے ادا کروں جس نے نہ پیا ، نہ کھایا اور اس سے کلام کیا نہ کوئی چیخ ماری ۔ اور اس طرح وہ اس قتل کو رائیگاں قرار دیتا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ تو کاہنوں کا ساتھی ہے ۔‘‘ مالک ۔ نسائی نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ مالک و النسائی ۔
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُتَّصِلا
ابوداؤد نے سعید بن مسیّب عن ابی ہریرہ ؓ سے موصولاً روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔