مشکوۃ

Mishkat

قصاص کا بیان

ایسے قصور اور خطائیں جن پر دیت نہیں

بَاب مَا يضمن من الْجِنَايَات

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ: بَابٌ مِنْهَا لِمَنْ سَلَّ السَّيْفَ عَلَى أُمَّتِي أَوْ قَالَ: عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ: «الرِّجْلُ جُبَارٌ» ذُكِرَ فِي «بَابِ الْغَضَب» هَذَا الْبَاب خَال من الْفَصْل الثَّالِث

ابن عمر ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم کے سات دروازے ہیں ان میں سے ایک دروازہ اس شخص کے لیے ہے جس نے میری امت کے خلاف تلوار اٹھائی ، یا فرمایا :’’ (جس نے) محمد ﷺ کی امت کے خلاف (تلوار اٹھائی) ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے کہا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔ اور ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث :’’ چوپائے کے پاؤں سے لگنے والا زخم رائیگاں ہے ۔‘‘ باب الغضب میں ذکر کی گئی ہے ۔