مشکوۃ

Mishkat

قصاص کا بیان

مرتدوں اور فساد پھیلانے والوں کو قتل کرنے کا بیان

بَاب قتل أهل الرِّدَّة والسعاة بِالْفَسَادِ

وَعَنْ شَرِيكِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: كُنْتُ أَتَمَنَّى أَنْ أَلْقَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ عَنِ الْخَوَارِجِ فَلَقِيْتُ أَبَا بَرْزَةَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْخَوَارِجَ؟ قَالَ: نعمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ وَرَأَيْتُهُ بِعَيْنَيَّ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ فَقَسَمَهُ فَأَعْطَى مَنْ عَنْ يَمِينِهِ وَمَنْ عَنْ شِمَالِهِ وَلَمْ يُعْطِ مَنْ وَرَاءَهُ شَيْئًا. فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَا عَدَلْتَ فِي الْقِسْمَةِ رَجُلٌ أَسْوَدُ مَطْمُومُ الشَّعْرِ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا شَدِيدًا وَقَالَ: «وَاللَّهِ لَا تَجِدُونَ بَعْدِي رَجُلًا هُوَ أَعْدَلُ مِنِّي» ثُمَّ قَالَ: «يخرُجُ فِي آخرِ الزَّمانِ قومٌ كأنَّ هَذَا مِنْهُم يقرؤون الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ لَا يَزَالُونَ يَخْرُجُونَ حَتَّى يَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ والخليقة» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

شریک بن شہاب بیان کرتے ہیں ، میری تمنا تھی کہ میں نبی ﷺ کے کسی صحابی سے ملوں اور ان سے خوارج کے متعلق دریافت کروں ، میں عید کے روز ابوبرزہ ؓ سے ان کے ساتھیوں کی موجودگی میں ملا تو میں نے ان سے کہا : کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو خوارج کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : ہاں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کے فرمودات کو اپنے کانوں سے سنا ہے اور آپ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کچھ مال پیش کیا گیا تو آپ نے اسے تقسیم فرمایا اور اپنے دائیں بائیں والوں کو عطا کیا ، لیکن آپ نے اپنی پچھلی جانب والوں کو کچھ نہ دیا تو آپ کی پچھلی جانب سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا : محمد ! (ﷺ) آپ نے تقسیم میں انصاف نہیں کیا ، وہ منڈے ہوئے بالوں والا سیاہ فام شخص تھا ، اس پر دو سفید کپڑے تھے ، (اس پر) رسول اللہ ﷺ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! میرے بعد تم کوئی ایسا آدمی نہیں پاؤ گے جو مجھ سے زیادہ عدل کرنے والا ہو ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ آخری زمانے میں ایک قوم کا ظہور ہو گا ، گویا یہ انہی میں سے ہے ، وہ قرآن پڑھتے ہوں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل (کر پار ہو) جاتا ہے ۔ سر منڈانا ان کی علامت ہو گی ، وہ مسلسل ظاہر ہوتے رہیں گے حتی کہ ان کا آخری فرد مسیح دجال کے ساتھ ظاہر ہو گا ۔ جب تم ان سے ملو تو (جان لو کہ) وہ تمام مخلوق سے بدترین ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔

وَعَن أبي غالبٍ رأى أَبُو أُمامةَ رؤوساً مَنْصُوبَةً عَلَى دَرَجِ دِمَشْقَ فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ: «كِلَابُ النَّارِ شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوهُ» ثُمَّ قَرَأَ (يَوْمَ تبيَضُّ وُجوهٌ وتَسوَدُّ وُجوهٌ) الْآيَةَ قِيلَ لِأَبِي أُمَامَةَ: أَنْتَ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أوْ ثَلَاثًا حَتَّى عَدَّ سَبْعًا مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

ابوغالب سے روایت ہے ، ابوامامہ ؓ نے راہ دمشق پر کچھ سر نصب کیے ہوئے دیکھے تو ابوامامہ ؓ نے فرمایا : (یہ) جہنم کے کتے ہیں ، آسمان تلے یہ بدترین مقتول ہیں ، اور انہوں نے جنہیں قتل کیا ہے وہ بہترین مقتول ہیں ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اس روز بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے ۔‘‘ ابوامامہ ؓ سے پوچھا گیا ، آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ؟‘‘ انہوں نے فرمایا : اگر میں نے اسے (بار بار) سات مرتبہ تک نہ سنا ہوتا تو میں اسے تمہیں بیان نہ کرتا ۔ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔