مشکوۃ

Mishkat

حدود کا بیان

چوروں کے ہاتھ کاٹنے کا بیان

بَابُ قَطْعِ السّرقَة

عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُقطعُ يدُ السَّارِقِ إِلاَّ بربُعِ دِينَار فَصَاعِدا»

عائشہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ (مالیت کی چوری) پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ سَارِقٍ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے تین درہم مالیت کی ڈھال کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹا ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ السارِقَ يسرقُ البيضةَ فتُقطعُ يَده وَيسْرق الْحَبل فتقطع يَده»

ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ چور پر لعنت کرے کہ وہ انڈا چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے ، اور وہ رسی چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ» رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

رافع بن خدیج ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ درخت پر لگے ہوئے پھل اور شگوفے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی و ابن ماجہ ۔

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ قَالَ: «مَنْ سَرَقَ مِنْهُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ يُؤْوِيَهُ الْجَرِينَ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا کہ آپ سے درختوں پر لگے ہوئے پھل (کی چوری) کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے اسے گودام میں محفوظ کر لینے کے بعد چوری کیا اور وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ گیا تو پھر اس پر قطع (ہاتھ کاٹنا) ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَكِّيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ معلَّقٍ وَلَا فِي حَرِيسَةِ جَبَلٍ فَإِذَا آوَاهُ الْمُرَاحُ وَالْجَرِينُ فَالْقَطْعُ قيمًا بلغ ثمن الْمِجَن» . رَوَاهُ مَالك

عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی حسین المکی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لٹکے ہوئے پھلوں (کی چوری) میں قطع ہے نہ پہاڑ کے دامن میں چرنے والے جانور (کی چوری) میں ، جب وہ (جانور) باڑے میں پناہ گزیں ہوں اور پھل گودام میں محفوظ ہو تو پھر اس کی چوری پر قطع ہے جب وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے ۔‘‘ حسن ، رواہ مالک ۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ عَلَى الْمُنْتَهِبِ قَطْعٌ وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً مَشْهُورَةً فَلَيْسَ مِنَّا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ڈاکو پر قطع (ہاتھ کاٹنا) نہیں (اس کی سزا الگ ہے) ، اور جو شخص بڑے بڑے ڈاکے ڈالے وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ عَلَى خَائِنٍ وَلَا مُنْتَهِبٍ وَلَا مُخْتَلِسٍ قَطْعٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي

جابر ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ خیانت کرنے والے ، ڈاکہ ڈالنے والے اور جھپٹ کر مال حاصل کرنے والے پر ’’ قطع ‘‘ نہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

وَرُوِيَ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» : أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ وَتَوَسَّدَ رِدَاءَهُ فَجَاءَ سَارِقٌ وَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَأَخَذَهُ صَفْوَانُ فَجَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ أَنْ تُقْطَعَ يَدُهُ فَقَالَ صَفْوَانُ: إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا هُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَهَلا قبل أَن تَأتِينِي بِهِ»

اور شرح السنہ میں مروی ہے کہ صفوان بن امیہ ؓ مدینہ آئے تو وہ اپنی چادر کا سرہانہ بنا کر مسجد میں سو گئے ، ایک چور آیا اور اس نے ان کی چادر پکڑ لی تو انہوں نے اسے گرفتار کر لیا ، اور وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے آئے ، آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا تو صفوان ؓ نے عرض کیا ، میں نے اس (قطع) کا ارادہ نہیں کیا تھا ، وہ (چادر) اس (چور) پر صدقہ ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ معاف کر دیا ۔‘‘ حسن ، رواہ البغوی فی شرح السنہ ۔

وَرَوَى نَحْوَهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن صَفْوَان عَن أَبِيه

امام ابن ماجہ نے اسی طرح عبداللہ بن صفوان عن ابیہ کی سند سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔

والدارمي عَن ابْن عَبَّاس

اور امام دارمی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ الدارمی ۔

وَعَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تُقْطَعُ الْأَيْدِي فِي الْغَزْوِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا: «فِي السّفر» بدل «الْغَزْو»

بُسر بن ارطاۃ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ غزوہ میں ہاتھ نہ کاٹے جائیں ۔‘‘ البتہ امام ابوداؤد اور امام نسائی نے غزوہ کے بجائے ’’ سفر ‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و الدارمی و ابوداؤد و النسائی ۔

وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ فِي السَّارِقِ: «إِنْ سَرَقَ فَاقْطَعُوا يَدَهُ ثُمَّ إِنْ سَرَقَ فَاقْطَعُوا رِجْلَهُ ثُمَّ إِنْ سَرَقَ فَاقْطَعُوا يَدَهُ ثُمَّ إِنْ سَرَقَ فَاقْطَعُوا رِجْلَهُ» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة

ابوسلمہ ، ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چور کے بارے میں فرمایا :’’ اگر وہ چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دو ، اگر پھر چوری کرے تو اس کا پاؤں کاٹ دو ، اگر پھر چوری کرے تو اس کا (دوسرا) ہاتھ کاٹ دو اور اگر پھر چوری کرے تو اس کا (دوسرا) پاؤں کاٹ دو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذہ موضوع ، رواہ فی شرح السنہ ۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: جِيءَ بِسَارِقٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اقْطَعُوهُ» فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّانِيَةَ فَقَالَ: «اقْطَعُوهُ» فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: «اقْطَعُوهُ» فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ الرَّابِعَةَ فَقَالَ: «اقْطَعُوهُ» فَقُطِعَ فَأُتِيَ بِهِ الْخَامِسَةَ فَقَالَ: «اقْتُلُوهُ» فَانْطَلَقْنَا بِهِ فَقَتَلْنَاهُ ثُمَّ اجْتَرَرْنَاهُ فَأَلْقَيْنَاهُ فِي بِئْرٍ وَرَمَيْنَا عَلَيْهِ الحجارةَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک چور نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔‘‘ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ۔ پھر اسے (دوسری چوری میں) دوسری مرتبہ پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔‘‘ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ، پھر اسے تیسری مرتبہ پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کا پاؤں کاٹ دو ۔‘‘ اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا ، پھر چوتھی مرتبہ پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کا پاؤں کاٹ دو ۔‘‘ اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا ، پھر اسے پانچویں مرتبہ لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے قتل کر دو ۔‘‘ ہم اسے لے گئے اور اسے قتل کر دیا ۔ پھر ہم نے اسے گھسیٹ کر کنویں میں پھینک دیا اور اس پر پتھر ڈال دیے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

وَرُوِيَ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ فِي قَطْعِ السَّارِقِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْطَعُوهُ ثمَّ احسموه»

اور انہوں نے شرح السنہ میں چور کے ہاتھ کاٹنے کے بارے میں نبی ﷺ سے روایت کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس (کے ہاتھ) کو کاٹ دو پھر اسے داغ دو ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بسارقٍ فقُطِعَتْ يَدَهُ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

فضالہ بن عبید ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک چور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ، پھر آپ ﷺ نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اسے اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَرَقَ الْمَمْلُوكُ فَبِعْهُ وَلَوْ بِنَشٍّ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْن مَاجَه

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب غلام چوری کرے تو اسے بیچ دو خواہ ایک ’’ نش ‘‘ (بیس درہم) ہی ملے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ فَقَطَعَهُ فَقَالُوا: مَا كُنَّا نَرَاكَ تَبْلُغُ بِهِ هَذَا قَالَ: «لَوْ كانتْ فاطمةُ لقطعتَها» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ایک چور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا ، تو انہوں (صحابہ) نے عرض کیا ، ہمارا آپ کے متعلق یہ گمان نہیں تھا کہ آپ اس کے متعلق یہ کچھ کریں گے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر (بفرضِ محال) فاطمہ ؓ بھی ہوتیں تو میں (بلا تفریق) ان کا ہاتھ بھی کاٹتا ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بِغُلَامٍ لَهُ فَقَالَ: اقْطَعْ يَدَهُ فَإِنَّهُ سرقَ مرآةَ لأمرأتي فَقَالَ عمَرُ رَضِي اللَّهُ عَنهُ: لَا قَطْعَ عَلَيْهِ وَهُوَ خَادِمُكُمْ أَخَذَ مَتَاعَكُمْ. رَوَاهُ مَالك

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی اپنا غلام لے کر عمر ؓ کے پاس آیا تو اس نے کہا : اس کا ہاتھ کاٹ ڈالیں کیونکہ اس نے میری اہلیہ کا آئینہ چرا لیا ہے ۔ عمر ؓ نے فرمایا : اس پر قطع نہیں اور وہ تمہارا خادم ہے ، اس نے تمہارا سامان اٹھا لیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک ۔

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ قَالَ: «كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ يَكُونُ الْبَيْتُ فِيهِ بِالْوَصِيفِ» يَعْنِي الْقَبْرَ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «عَلَيْكَ بِالصَّبْرِ» قَالَ حمَّادُ بنُ أبي سُليمانَ: تُقْطَعُ يَدُ النَّبَّاشِ لِأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى الْمَيْتِ بيتَه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوذر !‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں حاضر ہوں ، اسی میں میری سعادت ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہاری اس وقت کیا حالت ہو گی جب لوگ کثرت سے موت کا شکار ہوں گے اور اس وقت قبر غلام کے عوض ملے گی ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم صبر کرنا ۔‘‘ حماد بن ابی سلیمان نے کہا : کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ میت پر اس کے گھر میں داخل ہوا ہے ۔ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔