مشکوۃ

Mishkat

حدود کا بیان

شراب نوشی پر حد قائم کرنے کا بیان

بَاب حد الْخمر

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ والنِّعالِ وجلَدَ أَبُو بكرٍ رَضِي الله عَنهُ أربعينَ

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے شراب نوشی پر کھجور کی ٹہنیاں اور جوتے مارے اور ابوبکر ؓ نے چالیس کوڑے مارے ۔ متفق علیہ ۔

وَفِي رِوَايَة عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضْرِبُ فِي الْخَمْرِ بِالنِّعَالِ وَالْجَرِيدِ أَرْبَعِينَ

اور انس ؓ سے مروی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ شراب نوشی پر چالیس جوتے اور شاخیں مارا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كَانَ يُؤْتَى بِالشَّارِبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِمْرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ فَنَقُومُ عَلَيْهِ بِأَيْدِينَا وَنِعَالِنَا وَأَرْدِيَتِنَا حَتَّى كَانَ آخِرُ إِمْرَةِ عُمَرَ فَجَلَدَ أَرْبَعِينَ حَتَّى إِذَا عَتَوْا وَفَسَقُوا جَلَدَ ثَمَانِينَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

سائب بن یزید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے دور میں ، ابوبکر ؓ کے دور خلافت اور عمر ؓ کے خلافت کے شروع کے دور میں شراب نوش کو لایا جاتا تو ہم اپنے ہاتھوں ، جوتوں اور اپنے کپڑوں کے ساتھ اسے مارتے تھے حتی کہ عمر ؓ کی خلافت کے آخری دور میں چالیس کوڑے مارے جاتے تھے حتی کہ جب وہ حد سے بڑھ گئے اور سرکشی پر اُتر آئے تو انہوں نے اسّی کوڑے مارے ۔ رواہ البخاری ۔

عَنْ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ» قَالَ: ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فِي الرَّابِعَةِ فَضَرَبَهُ وَلَمْ يقْتله. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

جابر ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص شراب پیئے تو اسے کوڑے مارو ، اگر وہ چوتھی مرتبہ پیئے تو اسے قتل کر دو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر اس کے بعد نبی ﷺ کی خدمت میں ایک آدمی پیش کیا گیا جس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تھی آپ ﷺ نے اسے قتل نہیں کیا ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُد عَن قبيصَة بن دؤيب

امام ابوداؤد نے اسے قبیصہ بن ذؤیب سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَفِي أُخْرَى لَهُمَا وَلِلنَّسَائِيِّ وَابْنِ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيِّ عَنْ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمُ ابْنُ عُمَرَ وَمُعَاوِيَةُ وَأَبُو هُرَيْرَة والشريد إِلَى قَوْله: «فَاقْتُلُوهُ»

ابوداؤد اور ترمذی کی دوسری روایت اور نسائی ، ابن ماجہ اور دارمی کی رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی جماعت ، جن میں ابن عمر ؓ ، معاویہ ؓ ، ابوہریرہ ؓ اور شرید ؓ ہیں ، سے ’’ اسے قتل کر دو ۔‘‘ تک مروی ہے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَزْهَرِ قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَقَالَ لِلنَّاسِ: «اضْرِبُوهُ» فَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالنِّعَالِ وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالْعَصَا وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالْمِيتَخَةِ. قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: يَعْنِي الْجَرِيدَةَ الرَّطْبَةَ ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرَابًا مِنَ الْأَرْضِ فَرَمَى بِهِ فِي وجهِه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عبدالرحمن بن ازہر ؓ بیان کرتے ہیں ، گویا کہ میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں جب ایک شخص کو ، جس نے شراب پی رکھی تھی ، لایا گیا تو آپ نے لوگوں سے فرمایا :’’ اسے مارو ۔‘‘ ان میں سے کسی نے اسے جوتوں کے ساتھ مارا ، کسی نے لاٹھی کے ساتھ مارا اور کسی نے اسے کھجور کی سبز شاخ کے ساتھ مارا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے زمین سے خاک اٹھائی اور اس کے چہرے پر دے ماری ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شربَ الخمرَ فَقَالَ: «اضْرِبُوهُ» فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ ثُمَّ قَالَ: «بَكِّتُوهُ» فَأَقْبَلُوا عَلَيْهِ يَقُولُونَ: مَا اتَّقَيْتَ اللَّهَ مَا خَشِيتَ اللَّهَ وَمَا اسْتَحْيَيْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاكَ اللَّهُ. قَالَ: لَا تَقُولُوا هَكَذَا لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ وَلَكِنْ قُولُوا: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے مارو ۔‘‘ ہم میں سے کوئی اسے ہاتھ مار رہا تھا ، کوئی اپنے کپڑے سے اور کوئی اپنے جوتے سے مار رہا تھا پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے ملامت کرو ۔‘‘ وہ اس کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے : تو اللہ سے نہ ڈرا ، تجھے اللہ کا خوف نہ آیا اور تجھے اللہ کے رسول ﷺ سے حیا نہ آئی ، اور کسی نے کہہ دیا : اللہ تمہیں رسوا کرے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس طرح نہ کہو ، اور اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو ۔ بلکہ تم کہو : اے اللہ ! اسے بخش دے اور اس پر رحم فرما ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: شَرِبَ رَجُلٌ فَسَكِرَ فَلُقِيَ يَمِيلُ فِي الْفَجِّ فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا حَاذَى دَارَ الْعَبَّاسِ انْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ فَالْتَزَمَهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فضحكَ وَقَالَ: «أفعَلَها؟» وَلم يأمرْ فيهِ بشيءٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے شراب پی تو وہ مدہوش ہو گیا ۔ وہ راستے میں جھومتا ہوا ملا تو اسے رسول اللہ ﷺ کی طرف لے جایا جانے لگا ۔ جب وہ عباس ؓ کے گھر کے برابر پہنچا تو وہ بھاگ کر عباس ؓ کے پاس پہنچ گیا اور ان سے چمٹ گیا ، نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ مسکرا دیے ، اور فرمایا :’’ کیا اس نے یہ کیا ؟‘‘ اور آپ نے اس کے متعلق کچھ بھی نہ کہا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

عَن عُمَيْر بن سعيد النخفي قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ: مَا كُنْتُ لِأُقِيمَ عَلَى أَحَدٍ حَدًّا فَيَمُوتَ فَأَجِدَ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا صَاحِبَ الْخَمْرِ فَإِنَّهُ لَوْ مَاتَ وَدَيْتُهُ وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يسنه

عمیر بن سعید نخعی بیان کرتے ہیں ، میں نے علی بن ابی طالب ؓ کو فرماتے ہوئے سنا : اگر میں کسی شخص پر حد قائم کروں اور وہ فوت ہو جائے تو میں اپنے دل میں کسی قسم کا افسوس نہیں کروں گا ۔ لیکن اگر شرابی پر حد قائم کروں اور وہ فوت ہو جائے تو میں اس کی طرف سے دیت دوں گا ۔ یہ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں کوئی حد مقرر نہیں فرمائی ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدَّيْلِمِيِّ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ اسْتَشَارَ فِي حَدِّ الْخَمْرِ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَرَى أَنْ تَجْلِدَهُ ثَمَانِينَ جَلْدَةً فَإِنَّهُ إِذَا شَرِبَ سَكِرَ وَإِذَا سَكِرَ هَذَى وَإِذَا هذَى افْتَرى فجلدَ عمرُ رَضِي الله عَنهُ فِي حَدِّ الْخَمْرِ ثَمَانِينَ. رَوَاهُ مَالِكٌ

ثور بن زید دیلمی بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے حد شراب کے متعلق مشورہ طلب کیا تو علی ؓ نے انہیں فرمایا : میرا خیال ہے کہ آپؓ اسے اسّی کوڑے ماریں ، کیونکہ جب وہ شراب پیتا ہے تو وہ مدہوش ہو جاتا ہے اور جب مدہوش ہو جاتا ہے تو وہ ہذیانی کیفیت میں اول فول باتیں کرتا ہے ۔ اور جب وہ اول فول باتیں کرتا ہے تو پھر افترا پردازی کرتا ہے ، عمر ؓ نے شراب کی حد میں اسّی کوڑے مارے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔