مشکوۃ

Mishkat

حدود کا بیان

جس شخص پر حد قائم کی جائے اس پر بددعا کرنے کی ممانعت کا بیان

بَاب مَالا يدعى على الْمَحْدُود


عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أنَّ رجلا اسمُه عبدُ اللَّهِ يُلَقَّبُ حمارا كَانَ يُضْحِكُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَلَدَهُ فِي الشَّرَابِ فَأُتِيَ بِهِ يَوْمًا فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: اللَّهُمَّ الْعَنْهُ مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتَى بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تلعنوه فو الله مَا عَلِمْتُ أَنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جس کا نام عبداللہ اور لقب حمار تھا ، وہ نبی ﷺ کو ہنسایا کرتا تھا ، جبکہ نبی ﷺ نے شراب نوشی کے جرم میں اس پر حد نافذ کی تھی ، ایک روز اسے پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اسے کوڑے مارنے کا حکم فرمایا تو اسے کوڑے مارے گئے ، لوگوں میں سے کسی نے کہہ دیا ، اے اللہ اس پر لعنت فرما ، کتنی ہی بار اسے (شراب نوشی کے جرم میں) لایا جا چکا ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اس پر لعنت نہ بھیجو ، اللہ کی قسم ! میں جو جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) سے محبت کرتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
رواہ البخاری (۶۷۸۰) ۔