مشکوۃ

Mishkat

امارت و قضاء کا بیان

حکمرانی کرنے اور اس سے ڈرنے کا بیان

بَابُ الْعَمَلِ فِي الْقَضَاءِ وَالْخَوْفِ مِنْهُ


وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: وَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ وَاثْنَانِ فِي النَّارِ فَأَمَّا الَّذِي فِي الْجَنَّةِ فَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضَى بِهِ وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فِي الْحُكْمِ فَهُوَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ قَضَى لِلنَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قاضی تین قسم کے ہیں ، ان میں سے ایک جنتی اور دو جہنمی ہیں ، وہ قاضی جنتی ہے جس نے حق پہچان کر اس کے مطابق فیصلہ کیا ، اور وہ قاضی جس نے حق پہچان کر فیصلہ میں ظلم کیا تو وہ جہنمی ہے ، اور وہ آدمی جس نے جہالت کی بنا پر لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا تو وہ بھی جہنمی ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

Status: Zaeef
حکمِ حدیث: ضعیف
Reference
حوالہ حکم
(ضَعِيف)
Conclusion
تخریج
سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۳۵۷۳) و ابن ماجہ (۲۳۱۵) [و الترمذی (۱۳۲۲ من طریق آخر و سندہ ضعیف) * خلف بن خلیفۃ صدوق اختلط فی آخرہ فالسند ضعیف و للحدیث شواھد ضعیفۃ ۔