TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب الْأَقْضِيَة والشهادات فیصلوں اور گواہیوں کا بیان

Chapter 4 of امارت و قضاء کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 4 · 29 Hadith
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي «شَرْحِهِ لِلنَّوَوِيِّ» أَنَّهُ قَالَ: وَجَاءَ فِي رِوَايَةِ «الْبَيْهَقِيِّ» بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ أَوْ صَحِيحٍ زِيَادَةٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا: «لَكِنَّ الْبَيِّنَةَ على المدَّعي واليمينَ على مَنْ أنكر»
ابن عباس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر لوگوں کو محض ان کے دعوی کی بنیاد پر دے دیا جائے تو لوگ آدمیوں کے خون اور اموال کا دعوی کرنے لگیں گے ، لیکن قسم مدعی علیہ کے ذمے ہے ۔‘‘ امام نووی ؒ نے صحیح مسلم کی شرح میں فرمایا : بیہقی کی روایت میں حسن یا صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے مروی مرفوع روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں :’’ لیکن مدعی کے ذمے دلیل و گواہی پیش کرنا ہے اور جو شخص انکار کرے اس کے ذمے قسم ہے ۔‘‘ رواہ مسلم و شرح النووی و سنن الکبری للبیھقی ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱ / ۱۷۱۱) و شرح النووی (۱۲ / ۳) و السنن الکبری للبیھقی (۱۰ / ۲۵۲) ۔ 4470
3758
Sahih
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ: (إِنَّ الَّذِينَ يشترونَ بعهدِ اللَّهِ وأيمانِهمْ ثمنا قَلِيلا) إِلَى آخر الْآيَة
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی مسلمان کا مال حاصل کرنے کے لیے قصداً جھوٹی قسم اٹھائے تو وہ روزِ قیامت جب اللہ سے ملاقات کرے گا تو وہ اس شخص پر ناراض ہو گا ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی :’’ بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے میں تھوڑی سی قیمت وصول کرتے ہیں ........ ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۵۴۹) و مسلم (۲۲۰ / ۱۳۸) ۔ 355
3759
Sahih
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئا يسير يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَإِنْ كَانَ قَضِيبًا من أَرَاك» . رَوَاهُ مُسلم
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے اپنی قسم کے ذریعے کسی مسلمان شخص کا حق حاصل کیا تو اللہ نے اس کے لیے جہنم کو واجب کر دیا اور اس پر جنت کو حرام قرار دے دیا ۔‘‘ (یہ بات سن کر) کسی آدمی نے آپ ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! خواہ وہ معمولی سی چیز ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ خواہ وہ پیلو کی شاخ ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۲۱۸ / ۱۳۷) ۔ 353
3760
Sahih
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِي لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلَا يَأْخُذَنَّهُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّار»
ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں بھی ایک انسان ہوں ، تم اپنے مقدمات میرے پاس لاتے ہو ۔ اور ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی دلیل دوسرے کی نسبت زیادہ فصاحت کے ساتھ پیش کر لے اور میں جو اس سے سنوں اس کے حق میں فیصلہ کر دوں ، جس شخص کو اس کے (مسلمان) بھائی کے حق میں سے کوئی چیز دے دی جائے تو وہ اسے حاصل نہ کرے ، (گویا اس طرح) میں اسے (جہنم کی) آگ کا ایک ٹکڑا دے رہا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۹۶۷) و مسلم (۴ / ۱۷۱۳) ۔ 4473
3761
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الخَصِمُ»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سخت جھگڑالو شخص اللہ کے نزدیک انتہائی ناپسندیدہ شخص ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۴۵۷) و مسلم (۵ / ۲۶۶۸) ۔ 6780
3762
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم قضى بِيَمِين وَشَاهد. رَوَاهُ مُسلم
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قسم اور ایک گواہ کے ساتھ فیصلہ کیا ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۳ / ۱۷۱۲) ۔ 4472
3763
Sahih
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ لِي فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي وَفِي يَدِي لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: «أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَلَكَ يَمِينُهُ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ منْ شيءٍ قَالَ: «ليسَ لكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ» . فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَدْبَرَ: «لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ وَهُوَ عَنهُ معرض» . رَوَاهُ مُسلم
علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ایک آدمی حضر موت سے اور ایک آدمی کندہ سے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس شخص نے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے ، کندی نے عرض کیا : یہ زمین میری ہے اور میرے قبضہ میں ہے ، اس کا اس پر کوئی حق نہیں ، نبی ﷺ نے حضرمی سے فرمایا :’’ کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اس سے قسم لے لو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ تو ایک فاجر شخص ہے ، وہ قسم کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ہے اور نہ کسی چیز سے پرہیز کرتا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہیں اس سے یہی کچھ مل سکتا ہے ۔‘‘ جب وہ (کندی) قسم کھانے چلا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر اس نے اس کا ناحق مال کھانے کے لیے قسم اٹھائی تو یہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس سے اعراض فرمائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۲۲۳ / ۱۳۹) ۔ 358
3764
Sahih
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ ادَّعَى مَا لَيْسَ لَهُ فَلَيْسَ مِنَّا وَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس نے کسی ایسی چیز کا دعوی کیا جو کہ اس کی نہیں تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۱۲ / ۶۱) ۔ 217
3765
Sahih
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ؟ الَّذِي يَأْتِي بشهادتِه قبلَ أنْ يسْأَلهَا» . رَوَاهُ مُسلم
زید بن خالد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں بہترین گواہ کے متعلق نہ بتاؤں ؟ یہ وہ ہے جو اس (گواہی) کے طلب کیے جانے سے پہلے اپنی گواہی پیش کر دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۹ / ۱۷۱۹) ۔ 4494
3766
Sahih
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَسبِقُ شَهَادَة أحدِهمْ يَمِينه وَيَمِينه شَهَادَته»
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے دور کے لوگ (صحابہ کرام) سب سے بہتر ہیں ، پھر وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں (تابعین) ۔ اور پھر وہ جو ان کے ساتھ ہیں ، پھر کچھ ایسے لوگ آئیں گے کہ ان میں سے کسی کی گواہی اس کی قسم پر اور اس کی قسم اس کی گواہی پر سبقت لے جائے گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۶۵۱) و مسلم (۲۱۲ / ۲۵۳۳) ۔
3767
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَ عَلَى قَوْمٍ الْيَمِينَ فَأَسْرَعُوا فَأَمْرَ أَنْ يُسْهَمَ بَيْنَهُمْ فِي اليَمينِ أيُّهُمْ يحْلِفُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک قوم پر قسم پیش کی تو انہوں نے (قسم اٹھانے میں) جلدی کی تو آپ ﷺ نے حکم فرمایا کہ قسم کے بارے میں ان کے درمیان قرعہ اندازی کی جائے کہ ان میں سے کون حلف اٹھائے گا ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۲۶۷۴) ۔
3768
Sahih
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ گواہ پیش کرنا مدعی کے ذمہ ہے اور قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الترمذی (۱۳۴۱) [ولہ شواھد] ۔
3769
Sahih
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَيْهِ فِي مَوَارِيثَ لَمْ تَكُنْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ إِلَّا دَعْوَاهُمَا فَقَالَ: «مَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ» . فَقَالَ الرَّجُلَانِ: كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَقِّي هَذَا لِصَاحِبِي فَقَالَ: «لَا وَلَكِنِ اذْهَبَا فَاقْتَسِمَا وَتَوَخَّيَا الْحَقَّ ثُمَّ اسْتَهِمَا ثُمَّ لْيُحَلِّلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ» . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا برأيي فِيمَا لم يُنزَلْ عليَّ فِيهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ام سلمہ ؓ دو آدمیوں کے بارے میں نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں ، جنہوں نے میراث کے متعلق آپ کی خدمت میں مقدمہ پیش کیا ، ان دونوں کے پاس کوئی دلیل و گواہی نہیں تھی ۔ ان دونوں کا محض دعوی ہی تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں جس شخص کو اس کے (مسلمان) بھائی کے حق میں سے کچھ دے دوں تو (حقیقت میں) میں اسے (جہنم کی) آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں ۔‘‘ (یہ سن کر) دونوں میں ہر ایک عرض کرنے لگا ، اللہ کے رسول ! میرا یہ حق میرے ساتھی کا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ (ایسے) نہیں ، تم دونوں جاؤ اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے تقسیم کر لو ، پھر دونوں قرعہ اندازی کرو پھر تم دونوں میں سے ہر ایک اپنا حصہ اپنے ساتھی کے لیے حلال قرار دے ۔‘‘ دوسری روایت میں ہے فرمایا :’’ اس چیز کے بارے میں مجھ پر کوئی چیز نازل نہیں ہوئی اس لیے میں تمہارے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ کرتا ہوں ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
حسن ، رواہ ابوداؤد (۳۵۸۴ ، ۳۵۸۵) ۔
3770
Sahih
وَعَن جابرِ بن عبدِ الله: أَنَّ رَجُلَيْنِ تَدَاعَيَا دَابَّةً فَأَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا الْبَيِّنَةَ أَنَّهَا دَابَّتُهُ نَتَجَهَا فَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي فِي يدِهِ. رَوَاهُ فِي «شرح السّنة»
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے ایک چوپائے پر دعوی کیا ، اور ان میں سے ہر ایک نے گواہ پیش کیا کہ اس نے اپنے چوپائے کو جفتی کرایا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق اس شخص کے حق میں فیصلہ فرمایا جس کے وہ (قبضہ) میں تھا ۔ اسنادہ موضوع ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Takhreej
اسنادہ موضوع ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۱۰ / ۱۰۶ ح ۲۵۰۴) [و الشافعی فی الام (۲ / ۲۳۸)] * فیہ ابراھیم بن ابی یحیی (متروک) عن اسحاق بن ابی فروۃ (کذاب) عن عمر بن الحکم عن جابر بہ الخ ۔
3771
Zaeef
وَعَن أبي مُوسَى الأشعريِّ: أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيرًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا شَاهِدَيْنَ فَقَسَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ وَلِلنَّسَائِيِّ وَابْنِ مَاجَهْ: أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيرًا لَيْسَتْ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَجَعَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا
ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک اونٹ کے متعلق دعویٰ کیا تو ان میں سے ہر ایک نے دو گواہ پیش کیے ، نبی ﷺ نے اسے ان دونوں کے درمیان نصف نصف تقسیم فرما دیا ۔ نسائی اور ابن ماجہ میں انہیں سے مروی حدیث میں ہے کہ دو آدمیوں نے ایک اونٹ کے متعلق دعویٰ کیا اور ان میں سے کسی کے پاس بھی گواہ نہیں تھے ، لہذا نبی ﷺ نے اسے ان دونوں کے درمیان تقسیم فرما دیا ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
حسن ، رواہ ابوداؤد (۳۶۱۵ ، ۳۶۱۵ الروایۃ الثانیۃ) و النسائی (۸ / ۲۴۸ ح ۵۴۲۶) و ابن ماجہ (۲۳۳۰) ۔
3772
Sahih
وَعَن أبي هريرةَ أنَّ رجُلينِ اختَصما فِي دَابَّة وَلَيْسَ لَهما بَيِّنَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «استهِما على اليَمينِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وابنُ مَاجَه
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے کسی جانور کے بارے میں جھگڑا کیا اور ان دونوں کے پاس کوئی گواہی نہیں تھی ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ قسم پر قرعہ اندازی کرو ۔‘‘ (جس کا قرعہ نکل آئے وہ قسم دے) صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۳۶۱۸) و ابن ماجہ (۲۳۴۶) ۔
3773
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ حَلَّفَهُ: «احْلِفْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَاله عِنْدَكَ شَيْءٌ» يُعْنَى لِلْمُدَّعِي. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی سے قسم لینے کا ارادہ کیا تو فرمایا :’’ اللہ کی قسم اٹھاؤ جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ تمہارے پاس اس شخص (یعنی مدعی) کی کوئی چیز نہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
حسن ، رواہ ابوداؤد (۳۶۲۰) ۔
3774
Sahih
وَعَن الأشعثِ بنِ قيسٍ قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أرضٌ فحَجَدني فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟» قُلْتُ: لَا قَالَ لِلْيَهُودِيِّ: «احْلِفْ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَنْ يَحْلِفَ وَيَذْهَبَ بِمَالِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: (إِنَّ الَّذِينَ يشترونَ بعهدِ اللَّهِ وأَيمانِهِم ثمنا قَلِيلا) الْآيَة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
اشعث بن قیس ؓ بیان کرتے ہیں ، میری اور ایک یہودی کی کچھ مشترکہ زمین تھی ، اس نے میرے حصے کا انکار کر دیا میں اپنا مقدمہ لے کر اسے نبی ﷺ کے پاس لے آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تمہارے پاس کوئی گواہی ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، نہیں ، آپ ﷺ نے یہودی سے فرمایا :’’ قسم اٹھاؤ ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وہ تو قسم اٹھا لے گا اور میری زمین غصب کر لے گا ۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلہ میں تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۳۶۲۱) و ابن ماجہ (۲۳۲۲) [و البخاری (۲۳۵۷) ومسلم (۱۳۸)] ۔
3775
Sahih
وَعَنْهُ أَنْ رَجُلًا مَنْ كِنْدَةَ وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا وَهَى فِي يَدِهِ قَالَ: «هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ؟» قَالَ: لَا وَلَكِنْ أُحَلِّفُهُ وَاللَّهِ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ؟ فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ لِلْيَمِينِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقْطَعُ أَحَدٌ مَالًا بِيَمِينٍ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ أَجْذَمُ» فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أرضُهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
اشعث بن قیس ؓ سے روایت ہے کہ کندی اور حضرمی شخص نے یمن کی زمین کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مقدمہ پیش کیا تو حضرمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس شخص کے والد نے میری زمین غصب کر لی تھی اور وہ اب اس کے قبضہ میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تمہارے پاس گواہ ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، نہیں ، لیکن میں اس سے قسم لوں گا (اس طرح کہ) اللہ کی قسم ! وہ نہیں جانتا کہ بے شک میری زمین کو اس کے والد نے غصب کیا ہے ، کندی قسم کے لیے تیار ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص قسم کے ذریعے مال حاصل کرتا ہے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ شخص ’’ اجذم ‘‘ ہو گا ۔‘‘ (یعنی اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہو گا یا اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہو گی ۔) چنانچہ اس کندی نے عرض کیا : وہ زمین اس کی ہی ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۳۶۲۲ ، ۳۲۴۴) [و صححہ ابن حبان (۱۱۹۰) و ابن الجارود (۱۰۰۵) و الحاکم (۴ / ۲۹۵) و وافقہ الذھبی] ۔
3776
Sahih
وَعَن عبدِ اللَّهِ بنِ أُنَيْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ الشِّرْكَ بِاللَّهِ وَعُقُوقَ الْوَالِدَيْنِ وَالْيَمِينَ الْغَمُوسَ وَمَا حَلَفَ حَالِفٌ بِاللَّهِ يَمِينَ صَبْرٍ فَأَدْخَلَ فِيهَا مِثْلَ جَنَاحِ بَعُوضَةٍ إِلَّا جُعِلَتْ نُكْتَةً فِي قَلْبِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
عبداللہ بن اُنیس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے ۔ اور جس شخص نے اللہ کی پختہ قسم اٹھائی اور اس میں مچھر کے پر کے برابر (جھوٹ) داخل کر دیا تو روزِ قیامت تک اس کے دل میں ایک نکتہ لگا دیا جاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے کہا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۰۲۰) ۔
3777
Sahih