مشکوۃ

Mishkat

جہاد کا بیان

مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان

بَابُ قِسْمَةِ الْغَنَائِمِ وَالْغُلُولِ فِيهَا

وَعَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ: شَهِدْتُ خَيْبَر مَعَ ساداتي فَكَلَّمُوا فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَلَّمُوهُ أَنِّي مَمْلُوكٌ فَأَمَرَنِي فَقُلِّدْتُ سَيْفًا فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ وَعَرَضْتُ عَلَيْهِ رُقْيَةً كَنْتُ أَرْقِي بِهَا الْمَجَانِينَ فَأَمَرَنِي بِطَرْحِ بَعْضِهَا وَحَبْسِ بَعْضِهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ إِلَّا أَنَّ رِوَايَتَهُ انتهتْ عِنْد قَوْله: الْمَتَاع

ابولحم کے آزاد کردہ غلام عمیر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اپنے مالکوں کے ساتھ غزوۂ خیبر میں شریک تھا ، انہوں نے میرے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے بات کی اور انہوں نے آپ کو بتایا کہ میں ایک غلام ہوں ، آپ نے میرے متعلق حکم فرمایا تو مجھے تلوار حمائل کی گئی ، اور میں اسے گھسیٹ رہا تھا ، آپ ﷺ نے گھریلو سامان میں سے مجھے کچھ دینے کا حکم فرمایا ۔ میں نے آپ کو ایک دم سنایا جو کہ میں دیوانوں پر کیا کرتا تھا ، آپ نے اس میں سے کچھ الفاظ ترک کر دینے اور کچھ رکھ لینے کا حکم دیا ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، البتہ ابوداؤد کی روایت لفظ متاع پر ختم ہو جاتی ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

وَعَن محمع بن جاريةَ قَالَ: قُسِمَتْ خَيْبَرُ عَلَى أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَسَمَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا وَكَانَ الْجَيْشُ أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةٍ فِيهِمْ ثَلَاثُمِائَةِ فَارِسٍ فَأُعْطِيَ الْفَارِسُ سَهْمَيْنِ وَالرَّاجِلُ سَهْمًا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ أصح فَالْعَمَل عَلَيْهِ وَأَتَى الْوَهْمُ فِي حَدِيثِ مُجَمِّعٍ أَنَّهُ قَالَ: أَنَّهُ قَالَ: ثَلَاثُمِائَةِ فَارِسٍ وَإِنَّمَا كَانُوا مِائَتَيْ فَارس

مجمع بن جاریہ ؓ بیان کرتے ہیں ، خیبر کا مالِ غنیمت اہل حدیبیہ پر تقسیم کیا گیا ، رسول اللہ ﷺ نے اسے اٹھارہ حصوں میں تقسیم فرمایا : لشکر کی تعداد پندرہ سو تھی ، اس میں سے تین سو گھڑ سوار تھے ، آپ نے گھڑ سوار کو دو حصے اور پیادہ کو ایک حصہ عطا فرمایا ۔ اور امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابن عمر ؓ سے مروی حدیث زیادہ صحیح ہے اور عمل اسی پر ہے ۔ مجمع سے مروی حدیث میں وہم ہے کہ انہوں نے کہا : تین سو گھڑ سوار تھے ، جبکہ وہ صرف دو سو تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَن حبيب بن مسلَمةَ الفِهْريِّ قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نفل الرّبع فِي البدأة وَالثلث فِي الرجمة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

حبیب بن مسلمہ فہری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کے پاس حاضر تھا کہ آپ نے شروع شروع میں لڑنے والوں کو مالِ غنیمت میں سے چوتھائی حصہ زائد عطا فرمایا ، اور واپسی پر لڑائی کرنے والوں کو تہائی حصہ زائد عطا فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنَفِّلُ الرُّبُعَ بَعْدَ الْخُمُسِ وَالثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ إِذَا قَفَلَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

حبیب بن مسلمہ فہری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب جہاد سے واپس تشریف لانے سے پہلے مالِ غنیمت خمس نکالنے کے بعد چوتھائی اور واپس لوٹتے ہوئے خمس نکالنے کے بعد تہائی حصہ اضافی طور پر عطا فرمایا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَّةِ الْجَرْمِيِّ قَالَ: أَصَبْتُ بِأَرْضِ الرُّومِ جَرَّةً حَمْرَاءَ فِيهَا دَنَانِيرُ فِي إِمْرَةِ مُعَاوِيَةَ وَعَلَيْنَا رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ: مَعْنُ بْنُ يَزِيدَ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَانِي مِنْهَا مِثْلَ مَا أَعْطَى رَجُلًا مِنْهُمْ ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا نَفَلَ إِلَّا بَعْدَ الْخُمُسِ» لَأَعْطَيْتُكَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابو جویریہ جرمی ؓ بیان کرتے ہیں ، معاویہ کے دورِ امارت میں روم کی سر زمین پر مجھے ایک سرخ گھڑا ملا جس میں دینار تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کے ، معن بن یزید نامی ، صحابی ہمارے امیر تھے جو کہ بنو سلیم قبیلے سے تھے ، میں نے وہ گھڑا ان کی خدمت میں پیش کر دیا ، انہوں نے اسے مسلمانوں کے مابین تقسیم کر دیا اور مجھے بھی سب کے برابر ہی حصہ دیا ، پھر فرمایا : اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ نہ سنا ہوتا کہ خمس نکالنے کے بعد اضافی حصہ دیا جائے گا تو میں تمہیں ضرور دیتا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَن أبي مُوسَى الأشعريِّ قَالَ: قَدِمْنَا فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَأَسْهَمَ لَنَا أَوْ قَالَ: فَأَعْطَانَا مِنْهَا وَمَا قَسَمَ لِأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا لمَنْ شهِدَ معَه إِلَّا أَصْحَابَ سَفِينَتِنَا جَعْفَرًا وَأَصْحَابَهُ أَسْهَمَ لَهُمْ مَعَهم. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابوموسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم (حبشہ سے) واپس آئے تو ہماری رسول اللہ ﷺ سے اس وقت ملاقات ہوئی جب خیبر فتح ہو چکا تھا ، آپ نے ہمارا حصہ بھی مقرر فرمایا : یا یوں کہا : آپ نے ہمیں عطا فرمایا ، آپ ﷺ نے خیبر میں حاصل ہونے والے مال غنیمت میں سے یا تو ان لوگوں کو حصہ دیا جو اس غزوہ میں شریک تھے یا پھر ہمارے کشتی کے ساتھیوں یعنی جعفر اور ان کے رفقا کو دیا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ: أَنِّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ يَوْمَ خَيْبَرَ فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ» فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ النَّاسِ لِذَلِكَ فَقَالَ: «إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُودَ لَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ. رَوَاهُ مَالك وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

یزید بن خالد ؓ سے روایت ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کا ایک ساتھی فوت ہو گیا ، صحابہ نے اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو ۔‘‘ یہ سن کر صحابہ کے چہروں کا رنگ متغیر ہو گیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے ساتھی نے مال غنیمت میں خیانت کی ہے ۔‘‘ ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہم نے اس میں یہود کا ایک نگینہ پایا جس کی قیمت دو درہم کے برابر بھی نہیں تھی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ مالک و ابوداؤد و النسائی ۔

وَعَن عبدِ الله بنِ عَمْروٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ غَنِيمَةً أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ فَيَجِيئُونَ بِغَنَائِمِهِمْ فَيُخَمِّسُهُ وَيُقَسِّمُهُ فَجَاءَ رَجُلٌ يَوْمًا بَعْدَ ذَلِكَ بِزِمَامٍ مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا فِيمَا كُنَّا أَصَبْنَاهُ مِنَ الْغَنِيمَةِ قَالَ: «أَسْمَعْتَ بِلَالًا نَادَى ثَلَاثًا؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَجِيءَ بِهِ؟» فَاعْتَذَرَ قَالَ: «كُنْ أَنْتَ تَجِيءُ بِهِ يومَ القيامةِ فلنْ أقبلَه عَنْك» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ کو مالِ غنیمت ملتا تو آپ بلال ؓ کو حکم فرماتے تو وہ عام اعلان کرتے جس پر صحابہ کرام وہ مال غنیمت لے کر حاضر ہوتے جو ان کے پاس ہوتا ، آپ اس میں سے خمس نکالتے اور اسے تقسیم کرتے ، چنانچہ ایک آدمی اس سے ایک روز بعد بالوں سے بنی ہوئی ایک لگام لے کر آیا اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مالِ غنیمت میں ملنے والے مال میں یہ بھی تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم نے بلال ؓ کو تین مرتبہ اعلان کرتے ہوئے سنا تھا ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تو پھر کس چیز نے تجھے اسے لانے سے منع کیا ؟‘‘ اس نے معذرت پیش کی ، لیکن آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اب تم اسے قیامت کے روز لاؤ گے ، میں اسے تم سے ہرگز قبول نہیں کروں گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ حَرَّقُوا مَتَاعَ الْغَالِّ وضربوه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ، ابوبکر اور عمر ؓ نے خیانت کرنے والے کے مال و متاع کو جلا دیا اور اس کی پٹائی کی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ يَكْتُمُ غَالًّا فَإِنَّهُ مِثْلُهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کرتے تھے :’’ جو شخص خیانت کرنے والے کی پردہ پوشی کرتا ہے تو وہ بھی اسی کی طرح ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن شري الْمغنم حَتَّى تقسم. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مالِ غنیمت کو اس کی تقسیم سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهْيٌ أَنْ تُبَاعَ السِّهَامُ حَتَّى تُقْسَمَ. رَوَاهُ الدَّارمِيّ

ابوامامہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے حصوں کی تقسیم سے پہلے انہیں بیچنے سے منع فرمایا ۔ سندہ حسن ، رواہ الدارمی ۔

وَعَن خولةَ بنتِ قيسٍ: قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ هَذِهِ الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَصَابَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَرُبَّ متخوض فَمَا شَاءَتْ بِهِ نَفْسُهُ مِنْ مَالِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ لَيْسَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا النَّارُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

خولہ بنت قیس ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ یہ مال (غنیمت) خوش منظر اور خوش ذائقہ ہے ، چنانچہ جس نے اسے بقدر استحقاق حاصل کیا تو وہ اس کے لیے باعث برکت بنا دیا جائے گا ، اور بہت سے لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں من پسند تصرف کرتے ہیں ، ان کے لیے روزِ قیامت آگ ہی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَفَّلَ سيفَه ذَا الفَقارِ يومَ بدْرٍ رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَهْ وَزَادَ التِّرْمِذِيُّ وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْم أحد

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ بدر کے روز اپنی تلوار ذوالفقار حصہ سے زیادہ لی ۔ ابن ماجہ اور امام ترمذی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں ، اور یہ وہی ہے جو آپ ﷺ نے غزوہ احد کے روز خواب میں دیکھی تھی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔

وَعَن رويفع بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَرْكَبْ دَابَّةً مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِيهِ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَلْبَسْ ثَوْبًا مِنْ فَيْءِ الْمُسلمين حَتَّى إِذا أخلقه ردهَا فِيهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

رویفع بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ مسلمانوں کے مالِ غنیمت کے کسی جانور پر سواری نہ کرے حتی کہ جب اسے لاغر کر دے تو اسے اس میں واپس لوٹا دے ، اور جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ مسلمانوں کے مالِ غنیمت میں سے کوئی کپڑا نہ پہنے حتی کہ جب اسے بوسیدہ کر دے تو اسے اس میں واپس کر دے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: قُلْتُ: هَلْ كُنْتُمْ تُخَمِّسُونَ الطَّعَامَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَصَبْنَا طَعَامًا يَوْمَ خَيْبَرَ فَكَانَ الرَّجُلُ يَجِيءُ فَيَأْخُذُ مِنْهُ مقدارَ مَا يكفيهِ ثمَّ ينْصَرف. وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُد

محمد بن ابو مجاہد ، عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کیا : کیا تم رسول اللہ ﷺ کے دور میں طعام میں سے بھی پانچواں حصہ نکالتے تھے ؟ انہوں نے کہا : غزوہ خیبر میں ہمیں کھانا ملا ، ہر آدمی آتا اور وہ اپنی ضرورت کے مطابق اس سے لیتا اور پھر واپس چلا جاتا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَن ابنِ عُمَرَ: أَنَّ جَيْشًا غَنِمُوا فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا وَعَسَلًا فَلَمْ يُؤخذْ منهمُ الْخمس. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک لشکر کو کھانا اور شہد ملا تو ان میں سے خمس نہ لیا گیا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كنَّا نأكلُ الجَزورَ فِي الغزْوِ وَلَا نُقَسِّمُهُ حَتَّى إِذَا كُنَّا لَنَرْجِعُ إِلَى رِحَالِنَا وأخْرِجَتُنا مِنْهُ مَمْلُوءَة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عبدالرحمن کے آزاد کردہ غلام قاسم ، نبی ﷺ کے کسی صحابی سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : ہم جہاد میں اونٹ کا گوشت کھایا کرتے تھے اور ہم اسے تقسیم نہیں کیا کرتے تھے ، حتی کہ جب ہم اپنی منزلوں کو لوٹتے تو ہماری خورجیاں اس سے بھری ہوتی تھیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «أَدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمِخْيَطَ وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ فَإِنَّهُ عَارٌ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے :’’ دھاگہ اور سوئی بھی (مالِ غنیمت میں) جمع کرا دو اور خیانت سے بچو ، کیونکہ روزِ قیامت وہ خیانت کرنے والے کے لیے باعثِ عار ہو گی ۔‘‘ سندہ حسن ، رواہ الدارمی ۔

وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ

امام نسائی نے اسے ’’عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ‘‘ کی سند سے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔