مشکوۃ

Mishkat

جہاد کا بیان

جزیہ کا بیان

بَاب الْجِزْيَة

عَن بَجالَةَ قَالَ: كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ فَأَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ: فَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مَحْرَمٍ مِنَ الْمَجُوسِ وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هجَرَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ وذُكرَ حديثُ بُريدةَ: إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ فِي «بَابِ الْكتاب إِلى الْكفَّار»

بجالہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں احنف کے چچا جزء بن معاویہ کا سیکرٹری تھا ، عمر بن خطاب ؓ کی وفات سے ایک سال پہلے اِن کی طرف سے ہمارے پاس ایک خط آیا کہ مجوسیوں کے ہر اس جوڑے کے درمیان علیحدگی کرو جو آپس میں ایک دوسرے کے محرم ہوں ، اور عمر ؓ مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیتے تھے حتی کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ نے گواہی دی کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا ۔ رواہ البخاری ۔ اور بریدہ ؓ سے مروی حدیث ’’جب کسی امیر کو کسی لشکر پر مقرر فرماتے .....‘‘ باب الکتاب إلی الکفار میں ذکر کی گئی ہے

عَنْ مُعَاذٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ أَمْرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ حَالِمٍ يَعْنِي مُحْتَلِمٍ دِينَارًا أَوْ عَدْلَهُ مِنَ الْمَعَافِرِيِّ: ثِيَابٌ تَكُونُ بِالْيمن. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

معاذ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں یمن کی طرف بھیجا تو انہیں ہر بالغ شخص سے ایک دینار یا اس کے مساوی معافری کپڑا جو کہ یمن میں ہوتا ہے ، لینے کا حکم فرمایا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي أَرْضٍ وَاحِدَةٍ وَلَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ جِزْيَةٌ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک ملک میں دو قبیلے (یعنی دین) درست نہیں اور نہ کسی مسلمان پر جزیہ ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔

وَعَن أنس قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى أُكَيْدِرِ دُومَةَ فَأَخَذُوهُ فَأَتَوْا بِهِ فَحَقَنَ لَهُ دَمَهُ وَصَالَحَهُ على الْجِزْيَة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے خالد بن ولید ؓ کو دومہ کے بادشاہ اکیدر کی طرف بھیجا ، وہ اسے گرفتار کر کے آپ کی خدمت میں لے آئے ، آپ ﷺ نے اس کی جان بخشی فرما دی اور فریقین کے مابین جزیہ پر صلح ہو گئی ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ جَدِّهِ أبي أُمِّه عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَلَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ

حرب بن عبیداللہ اپنے نانا سے اور وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ محصول تو یہود و نصاری پر ہے ، مسلمانوں پر عُشر نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَمَرُّ بِقَوْمٍ فَلَا هُمْ يُضَيِّفُونَا وَلَا هُمْ يُؤَدُّونَ مَا لنا عَلَيْهِم منَ الحقِّ وَلَا نَحْنُ نَأْخُذُ مِنْهُمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ أَبَوْا إِلَّا أنْ تأخُذوا كُرهاً فَخُذُوا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم کسی قوم کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ نہ تو ہماری مہمان نوازی کرتے ہیں اور نہ وہ ہمارا وہ حق دیتے ہیں جو ان پر عائد ہوتا ہے اور ہم بھی ان سے اپنا حق (زبردستی) حاصل نہیں کرتے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر وہ انکار کریں اور تمہیں زبردستی لینا پڑے تو لو ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

عَنْ أَسْلَمَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ضَرَبَ الْجِزْيَةَ عَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أربعةَ دنانيرَ وعَلى أهلِ الوَرِقِ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا مَعَ ذَلِكَ أَرْزَاقُ الْمُسْلِمِينَ وَضِيَافَةُ ثلاثةِ أيامٍ. رَوَاهُ مَالك

اسلم سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے سونے والوں پر چادر دینار اور چاندی والوں پر چالیس درہم جزیہ مقرر فرمایا ، اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی ضروریات زندگی اور تین دن کی ضیافت ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک ۔