مشکوۃ

Mishkat

شکار اور حلال جانوروں کا بیان

کتے کا بیان

بَاب ذكر الْكَلْب

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ ضَارٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ»

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے ریوڑ کی حفاظت والے کتے اور شکاری کتے کے علاوہ کوئی اور کتا رکھا تو اس کے عمل سے روزانہ دو قراط کمی کی جاتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «من اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ صَيْدٍ أَو زرعٍ انتقَصَ منْ أجرِه كلَّ يومٍ قِيرَاط»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے ریوڑ کی حفاظت والے کتے یا شکاری یا کھیتی کی حفاظت والے کتے کے سوا کوئی اور کتا رکھا تو اس کے اجر سے روزانہ ایک قراط کم کیا جاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَن جَابر قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنَّ الْمَرْأَةَ تَقْدَمُ منَ البادِيةِ بكلبِها فتقتلَه ثُمَّ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا وَقَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ ذِي النقطتين فَإِنَّهُ شَيْطَان» . رَوَاهُ مُسلم

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے کتے مارنے کا ہمیں حکم فرمایا حتی کہ عورت جنگل سے اپنے کتے کے ساتھ آتی تو ہم اس (کتے) کو بھی قتل کر دیتے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کے مارنے سے منع فرمایا ، اور فرمایا :’’ تم دو نقطوں والے سیاہ کتے کو قتل کرو ۔ کیونکہ وہ شیطان ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ إِلَّا كَلْبَ صيدٍ أَو كلب غنم أَو مَاشِيَة

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے شکاری کتے یا بکریوں یا ریوڑ کی حفاظت والے کتے کے سوا دیگر کتوں کو مارنے کا حکم فرمایا ۔ متفق علیہ ۔

عَن عبد الله بنِ مُغفَّلٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا كُلِّهَا فَاقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَزَادَ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ: «وَمَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ يَرْتَبِطُونَ كَلْبًا إِلَّا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ أَوْ كَلْبَ غنم»

عبداللہ بن مغفل ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر کتے اللہ تعالیٰ کی مخلوق نہ ہوتے تو میں ان سب کو قتل کرنے کا حکم فرماتا ، تم ان میں سے انتہائی سیاہ کو قتل کرو ۔‘‘ ابوداؤد ، دارمی ۔ اور امام ترمذی اور امام نسائی نے یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ جو گھر والے شکاری کتے ، کھیتی باڑی کی یا بکریوں کی حفاظت والے کتے کے سوا کوئی کتا پالتے ہیں ، ان کے عمل میں سے روزانہ ایک قراط کم کر دیا جاتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الدارمی و الترمذی و النسائی ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے چوپاؤں کے درمیان لڑائی کرانے سے منع فرمایا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔