TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 247 مشکوۃ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 50 of 83 in this chapter
وَعَنْهُ فِيمَا أَعْلَمُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةٍ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
راوی حدیث ابوعلقمہ بیان کرتے ہیں کہ میری معلومات کے مطابق ابوہریرہ ؓ اسے رسول اللہ ﷺ سے مرفوع روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ عزوجل اس امت کے لیے ہر سو سال کے آخر پر کسی ایسے شخص کو بھیجے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۴۲۹۱) و الحاکم فی المستدرک (۴/ ۵۲۲) ۔
247
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۴۲۹۱) [و الحاکم فی المستدرک (۴ / ۵۲۲) و سکتا علیہ ، ھو و الذھبی] ۔

Related Chapters

0
No related chapter found.
No related chapter matched that.

Related Hadith

86
Sunnan Abu Dawood
4291
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شَرَاحِيلَ بْنِ يَزِيدَ الْمُعَافِرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِيمَا أَعْلَمُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ لَمْ يَجُزْ بِهِ شَرَاحِيلَ.
Narrated Abu Hurairah: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: Allah will raise for this community at the end of every hundred years the one who will renovate its religion for it. Abu Dawud said: Abdur-Rahman bin Shuriah al-Iskandarani has also transmitted this tradition, but he did not exceed Shrahil.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس امت کے لیے ہر صدی کی ابتداء میں ایک ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے گا ۔
Silsila Sahih
985
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ إِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت كے لئے ہر سوسال كے سرے پر اس شخص كو پیدا كر ے گا جوان كے لئے ان كے دین كی تجدید كرے گا۔( )
Jam e Tirmazi
3790
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ دَاوُدَ الْعَطَّارِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَقْرَؤُهُمْ أُبَيٌّ بْنُ كَعْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ . قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَشْهُورُ حَدِيثُ أَبِي قِلَابَةَ.
Narrated Anas bin Malik: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The most merciful of my nation to my nation is Abu Bakr, and the most severe of them concerning the order of Allah is 'Umar, and the most truly modest of them is 'Uthman bin 'Affan. The most knowledgeable of them concerning the lawful and unlawful is Mu'adh Bin Jabal, the most knowledgeable of them concerning (the laws of) inheritance is Zaid bin Thabit, the best reciter (of the Qur'an) among them is Ubayy bin Ka'b, and every nation has a trustworthy one, and the trustworthy one of this nation is Abu 'Ubaidah Bin Al-Jarrah.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں، اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان بن عفان ہیں، اور حلال و حرام کے سب سے بڑے جانکار معاذ بن جبل ہیں، اور فرائض ( میراث ) کے سب سے زیادہ جاننے والے زید بن ثابت ہیں، اور سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں، اور ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں ۲- اسے ابوقلابہ نے انس کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کیا ہے اور مشہور ابوقلابہ والی روایت ہے۔
Jam e Tirmazi
3791
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا وَإِنَّ أَمِينَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ . هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Anas bin Malik: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The most merciful of my nation to my nation is Abu Bakr, and the most severe of them concerning the order of Allah is 'Umar, and the most truly modest of them is 'Uthman bin 'Affan. The best reciter (of the Qur'an) among them is Ubayy bin Ka'b, the most knowledgeable of them concerning (the laws of) inheritance is Zaid bin Thabit, the most knowledgeable of them concerning the lawful and the unlawful is Mu'adh bin Jabal. Truly, every nation has a trustworthy one, and the trustworthy one of this nation is Abu 'Ubaidah bin Al-Jarrah.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان ہیں اور اللہ کی کتاب کے سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں اور فرائض ( میراث ) کے سب سے بڑے جانکار زید بن ثابت ہیں اور حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل ہیں اور سنو ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Mishkat
6120
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَقْرَؤُهُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح وروى مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ مُرْسَلًا وَفِيهِ: «وَأَقْضَاهُمْ عَلِيٌّ»
انس ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت میں سے میری امت پر سب سے زیادہ مہربان ابوبکر ہیں ، اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں ، ان میں سے سب سے زیادہ با حیا عثمان ہیں ، علم میراث کے سب سے بڑے عالم زید بن ثابت ہیں ، سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں ، حلال و حرام کے متعلق سب سے زیادہ علم رکھنے والے معاذ بن جبل ہیں ، اور ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔ اور معمر سے قتادہ کی سند سے مرسل روایت ہے ، اور اس میں ہے : قضا میں سب سے زیادہ عالم علی ؓ ہیں ۔‘‘
Sahih Bukhari
7
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَكَانُوا تِجَارًا بِالشَّأْمِ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَادَّ فِيهَا أَبَا سُفْيَانَ وَكُفَّارَ قُرَيْشٍ ، فَأَتَوْهُ وَهُمْ بِإِيلِيَاءَ ، فَدَعَاهُمْ فِي مَجْلِسِهِ وَحَوْلَهُ عُظَمَاءُ الرُّومِ ، ثُمَّ دَعَاهُمْ وَدَعَا بِتَرْجُمَانِهِ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا بِهَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ؟ فَقَالَ : أَبُو سُفْيَانَ ، فَقُلْتُ : أَنَا أَقْرَبُهُمْ نَسَبًا ، فَقَالَ : أَدْنُوهُ مِنِّي وَقَرِّبُوا أَصْحَابَهُ فَاجْعَلُوهُمْ عِنْدَ ظَهْرِهِ ، ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ : قُلْ لَهُمْ إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنْ هَذَا الرَّجُلِ ، فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ ، فَوَاللَّهِ لَوْلَا الْحَيَاءُ مِنْ أَنْ يَأْثِرُوا عَلَيَّ كَذِبًا لَكَذَبْتُ عَنْهُ ، ثُمَّ كَانَ أَوَّلَ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ ، أَنْ قَالَ : كَيْفَ نَسَبُهُ فِيكُمْ ؟ قُلْتُ : هُوَ فِينَا ذُو نَسَبٍ ، قَالَ : فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ مِنْكُمْ أَحَدٌ قَطُّ قَبْلَهُ ؟ قُلْتُ : لَا ، قَالَ : فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ ؟ قُلْتُ : لَا ، قَالَ : فَأَشْرَافُ النَّاسِ يَتَّبِعُونَهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ ؟ فَقُلْتُ : بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ ، قَالَ : أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ ؟ قُلْتُ : بَلْ يَزِيدُونَ ، قَالَ : فَهَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ ؟ قُلْتُ : لَا ، قَالَ : فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ ؟ قُلْتُ : لَا ، قَالَ : فَهَلْ يَغْدِرُ ؟ قُلْتُ : لَا ، وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ فَاعِلٌ فِيهَا ، قَالَ : وَلَمْ تُمْكِنِّي كَلِمَةٌ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرُ هَذِهِ الْكَلِمَةِ ، قَالَ : فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَكَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ ؟ قُلْتُ : الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالٌ يَنَالُ مِنَّا وَنَنَالُ مِنْهُ ، قَالَ : مَاذَا يَأْمُرُكُمْ ؟ قُلْتُ : يَقُولُ اعْبُدُوا اللَّهَ وَحْدَهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَاتْرُكُوا مَا يَقُولُ آبَاؤُكُمْ ، وَيَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ وَالصِّلَةِ ، فَقَالَ لِلتَّرْجُمَانِ : قُلْ لَهُ سَأَلْتُكَ عَنْ نَسَبِهِ ؟ فَذَكَرْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو نَسَبٍ ، فَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي نَسَبِ قَوْمِهَا ، وَسَأَلْتُكَ ، هَلْ قَالَ أَحَدٌ مِنْكُمْ هَذَا الْقَوْلَ ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا ، فَقُلْتُ : لَوْ كَانَ أَحَدٌ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ قَبْلَهُ ؟ لَقُلْتُ : رَجُلٌ يَأْتَسِي بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ ، وَسَأَلْتُكَ ، هَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا ، قُلْتُ : فَلَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ ؟ قُلْتُ : رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ أَبِيهِ ، وَسَأَلْتُكَ ، هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا ، فَقَدْ أَعْرِفُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَذَرَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ وَيَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ ، وَسَأَلْتُكَ ، أَشْرَافُ النَّاسِ اتَّبَعُوهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ ؟ فَذَكَرْتَ أَنَّ ضُعَفَاءَهُمُ اتَّبَعُوهُ وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ ، وَسَأَلْتُكَ ، أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ ؟ فَذَكَرْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ ، وَكَذَلِكَ أَمْرُ الْإِيمَانِ حَتَّى يَتِمَّ ، وَسَأَلْتُكَ ، أَيَرْتَدُّ أَحَدٌ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا ، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حِينَ تُخَالِطُ بَشَاشَتُهُ الْقُلُوبَ ، وَسَأَلْتُكَ ، هَلْ يَغْدِرُ ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لَا تَغْدِرُ ، وَسَأَلْتُكَ ، بِمَا يَأْمُرُكُمْ ؟ فَذَكَرْتَ أَنَّهُ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَيَنْهَاكُمْ عَنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ ، وَيَأْمُرُكُمْ بِالصَّلَاةِ ، وَالصِّدْقِ ، وَالْعَفَافِ ، فَإِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَسَيَمْلِكُ مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ ، وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ لَمْ أَكُنْ أَظُنُّ أَنَّهُ مِنْكُمْ ، فَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لَتَجَشَّمْتُ لِقَاءَهُ ، وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمِهِ ، ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بَعَثَ بِه دِحْيَةُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى فَدَفَعَهُ إِلَى هِرَقْلَ فَقَرَأَهُ ، فَإِذَا فِيهِ ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ ، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى ، أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ ، وَيَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ، أَنْ لَا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا ، وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا : اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : فَلَمَّا قَالَ مَا قَالَ وَفَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ ، كَثُرَ عِنْدَهُ الصَّخَبُ وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ وَأُخْرِجْنَا ، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي حِينَ أُخْرِجْنَا : لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ إِنَّهُ يَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ ، فَمَا زِلْتُ مُوقِنًا أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ ، وَكَانَ ابْنُ النَّاظُورِ صَاحِبُ إِيلِيَاءَ وَهِرَقْلَ سُقُفًّا عَلَى نَصَارَى الشَّأْمِ ، يُحَدِّثُ أَنَّ هِرَقْلَ حِينَ قَدِمَ إِيلِيَاءَ أَصْبَحَ يَوْمًا خَبِيثَ النَّفْسِ ، فَقَالَ بَعْضُ بَطَارِقَتِهِ : قَدِ اسْتَنْكَرْنَا هَيْئَتَكَ ، قَالَ ابْنُ النَّاظُورِ : وَكَانَ هِرَقْلُ حَزَّاءً يَنْظُرُ فِي النُّجُومِ ، فَقَالَ لَهُمْ حِينَ سَأَلُوهُ : إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ حِينَ نَظَرْتُ فِي النُّجُومِ مَلِكَ الْخِتَانِ قَدْ ظَهَرَ ، فَمَنْ يَخْتَتِنُ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ ؟ قَالُوا : لَيْسَ يَخْتَتِنُ إِلَّا الْيَهُودُ ، فَلَا يُهِمَّنَّكَ شَأْنُهُمْ وَاكْتُبْ إِلَى مَدَايِنِ مُلْكِكَ ، فَيَقْتُلُوا : مَنْ فِيهِمْ مِنْ الْيَهُودِ ؟ فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى أَمْرِهِمْ ، أُتِيَ هِرَقْلُ بِرَجُلٍ أَرْسَلَ بِهِ مَلِكُ غَسَّانَ يُخْبِرُ عَنْ خَبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا اسْتَخْبَرَهُ هِرَقْلُ ، قَالَ : اذْهَبُوا فَانْظُرُوا أَمُخْتَتِنٌ هُوَ أَمْ لَا ؟ فَنَظَرُوا إِلَيْهِ فَحَدَّثُوهُ أَنَّهُ مُخْتَتِنٌ ، وَسَأَلَهُ عَنْ الْعَرَبِ ؟ فَقَالَ : هُمْ يَخْتَتِنُونَ ، فَقَالَ هِرَقْلُ : هَذَا مَلِكُ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَدْ ظَهَرَ ، ثُمَّ كَتَبَ هِرَقْلُ إِلَى صَاحِبٍ لَهُ بِرُومِيَةَ وَكَانَ نَظِيرَهُ فِي الْعِلْمِ ، وَسَارَ هِرَقْلُ إِلَى حِمْصَ ، فَلَمْ يَرِمْ حِمْصَ حَتَّى أَتَاهُ كِتَابٌ مِنْ صَاحِبِهِ يُوَافِقُ رَأْيَ هِرَقْلَ عَلَى خُرُوجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ نَبِيٌّ ، فَأَذِنَ هِرَقْلُ لِعُظَمَاءِ الرُّومِ فِي دَسْكَرَةٍ لَهُ بِحِمْصَ ، ثُمَّ أَمَرَ بِأَبْوَابِهَا فَغُلِّقَتْ ، ثُمَّ اطَّلَعَ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الرُّومِ ، هَلْ لَكُمْ فِي الْفَلَاحِ وَالرُّشْدِ ، وَأَنْ يَثْبُتَ مُلْكُكُمْ فَتُبَايِعُوا هَذَا النَّبِيَّ ؟ فَحَاصُوا حَيْصَةَ حُمُرِ الْوَحْشِ إِلَى الْأَبْوَابِ فَوَجَدُوهَا قَدْ غُلِّقَتْ ، فَلَمَّا رَأَى هِرَقْلُ نَفْرَتَهُمْ وَأَيِسَ مِنَ الْإِيمَانِ ، قَالَ : رُدُّوهُمْ عَلَيَّ ، وَقَالَ : إِنِّي قُلْتُ مَقَالَتِي آنِفًا أَخْتَبِرُ بِهَا شِدَّتَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ ، فَقَدْ رَأَيْتُ ، فَسَجَدُوا لَهُ وَرَضُوا عَنْهُ فَكَانَ ذَلِكَ آخِرَ شَأْنِ هِرَقْلَ ، رَوَاهُ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، وَيُونُسُ ، وَمَعْمَرٌ ، عَن الزُّهْرِيِّ .
Narrated 'Abdullah bin 'Abbas: Abu Sufyan bin Harb informed me that Heraclius had sent a messenger to him while he had been accompanying a caravan from Quraish. They were merchants doing business in Sham (Syria, Palestine, Lebanon and Jordan), at the time when Allah's Apostle had truce with Abu Sufyan and Quraish infidels. So Abu Sufyan and his companions went to Heraclius at Ilya (Jerusalem). Heraclius called them in the court and he had all the senior Roman dignitaries around him. He called for his translator who, translating Heraclius's question said to them, Who amongst you is closely related to that man who claims to be a Prophet? Abu Sufyan replied, I am the nearest relative to him (amongst the group). Heraclius said, Bring him (Abu Sufyan) close to me and make his companions stand behind him. Abu Sufyan added, Heraclius told his translator to tell my companions that he wanted to put some questions to me regarding that man (The Prophet) and that if I told a lie they (my companions) should contradict me. Abu Sufyan added, By Allah! Had I not been afraid of my companions labeling me a liar, I would not have spoken the truth about the Prophet. The first question he asked me about him was: 'What is his family status amongst you?' I replied, 'He belongs to a good (noble) family amongst us.' Heraclius further asked, 'Has anybody amongst you ever claimed the same (i.e. to be a Prophet) before him?' I replied, 'No.' He said, 'Was anybody amongst his ancestors a king?' I replied, 'No.' Heraclius asked, 'Do the nobles or the poor follow him?' I replied, 'It is the poor who follow him.' He said, 'Are his followers increasing decreasing (day by day)?' I replied, 'They are increasing.' He then asked, 'Does anybody amongst those who embrace his religion become displeased and renounce the religion afterwards?' I replied, 'No.' Heraclius said, 'Have you ever accused him of telling lies before his claim (to be a Prophet)?' I replied, 'No. ' Heraclius said, 'Does he break his promises?' I replied, 'No. We are at truce with him but we do not know what he will do in it.' I could not find opportunity to say anything against him except that. Heraclius asked, 'Have you ever had a war with him?' I replied, 'Yes.' Then he said, 'What was the outcome of the battles?' I replied, 'Sometimes he was victorious and sometimes we.' Heraclius said, 'What does he order you to do?' I said, 'He tells us to worship Allah and Allah alone and not to worship anything along with Him, and to renounce all that our ancestors had said. He orders us to pray, to speak the truth, to be chaste and to keep good relations with our Kith and kin.' Heraclius asked the translator to convey to me the following, I asked you about his family and your reply was that he belonged to a very noble family. In fact all the Apostles come from noble families amongst their respective peoples. I questioned you whether anybody else amongst you claimed such a thing, your reply was in the negative. If the answer had been in the affirmative, I would have thought that this man was following the previous man's statement. Then I asked you whether anyone of his ancestors was a king. Your reply was in the negative, and if it had been in the affirmative, I would have thought that this man wanted to take back his ancestral kingdom. I further asked whether he was ever accused of telling lies before he said what he said, and your reply was in the negative. So I wondered how a person who does not tell a lie about others could ever tell a lie about Allah. I, then asked you whether the rich people followed him or the poor. You replied that it was the poor who followed him. And in fact all the Apostle have been followed by this very class of people. Then I asked you whether his followers were increasing or decreasing. You replied that they were increasing, and in fact this is the way of true faith, till it is complete in all respects. I further asked you whether there was anybody, who, after embracing his religion, became displeased and discarded his religion. Your reply was in the negative, and in fact this is (the sign of) true faith, when its delight enters the hearts and mixes with them completely. I asked you whether he had ever betrayed. You replied in the negative and likewise the Apostles never betray. Then I asked you what he ordered you to do. You replied that he ordered you to worship Allah and Allah alone and not to worship any thing along with Him and forbade you to worship idols and ordered you to pray, to speak the truth and to be chaste. If what you have said is true, he will very soon occupy this place underneath my feet and I knew it (from the scriptures) that he was going to appear but I did not know that he would be from you, and if I could reach him definitely, I would go immediately to meet him and if I were with him, I would certainly wash his feet.' Heraclius then asked for the letter addressed by Allah's Apostle which was delivered by Dihya to the Governor of Busra, who forwarded it to Heraclius to read. The contents of the letter were as follows: In the name of Allah the Beneficent, the Merciful (This letter is) from Muhammad the slave of Allah and His Apostle to Heraclius the ruler of Byzantine. Peace be upon him, who follows the right path. Furthermore I invite you to Islam, and if you become a Muslim you will be safe, and Allah will double your reward, and if you reject this invitation of Islam you will be committing a sin by misguiding your Arisiyin (peasants). (And I recite to you Allah's Statement:) 'O people of the scripture! Come to a word common to you and us that we worship none but Allah and that we associate nothing in worship with Him, and that none of us shall take others as Lords beside Allah. Then, if they turn away, say: Bear witness that we are Muslims (those who have surrendered to Allah).' (3:64). Abu Sufyan then added, When Heraclius had finished his speech and had read the letter, there was a great hue and cry in the Royal Court. So we were turned out of the court. I told my companions that the question of Ibn-Abi-Kabsha) (the Prophet Muhammad) has become so prominent that even the King of Bani Al-Asfar (Byzantine) is afraid of him. Then I started to become sure that he (the Prophet) would be the conqueror in the near future till I embraced Islam (i.e. Allah guided me to it). The sub narrator adds, Ibn An-Natur was the Governor of llya' (Jerusalem) and Heraclius was the head of the Christians of Sham. Ibn An-Natur narrates that once while Heraclius was visiting ilya' (Jerusalem), he got up in the morning with a sad mood. Some of his priests asked him why he was in that mood? Heraclius was a foreteller and an astrologer. He replied, 'At night when I looked at the stars, I saw that the leader of those who practice circumcision had appeared (become the conqueror). Who are they who practice circumcision?' The people replied, 'Except the Jews nobody practices circumcision, so you should not be afraid of them (Jews). 'Just Issue orders to kill every Jew present in the country.' While they were discussing it, a messenger sent by the king of Ghassan to convey the news of Allah's Apostle to Heraclius was brought in. Having heard the news, he (Heraclius) ordered the people to go and see whether the messenger of Ghassan was circumcised. The people, after seeing him, told Heraclius that he was circumcised. Heraclius then asked him about the Arabs. The messenger replied, 'Arabs also practice circumcision.' (After hearing that) Heraclius remarked that sovereignty of the 'Arabs had appeared. Heraclius then wrote a letter to his friend in Rome who was as good as Heraclius in knowledge. Heraclius then left for Homs. (a town in Syrian and stayed there till he received the reply of his letter from his friend who agreed with him in his opinion about the emergence of the Prophet and the fact that he was a Prophet. On that Heraclius invited all the heads of the Byzantines to assemble in his palace at Homs. When they assembled, he ordered that all the doors of his palace be closed. Then he came out and said, 'O Byzantines! If success is your desire and if you seek right guidance and want your empire to remain then give a pledge of allegiance to this Prophet (i.e. embrace Islam).' (On hearing the views of Heraclius) the people ran towards the gates of the palace like onagers but found the doors closed. Heraclius realized their hatred towards Islam and when he lost the hope of their embracing Islam, he ordered that they should be brought back in audience. (When they returned) he said, 'What already said was just to test the strength of your conviction and I have seen it.' The people prostrated before him and became pleased with him, and this was the end of Heraclius's story (in connection with his faith).
ہم کو ابوالیمان حکم بن نافع نے حدیث بیان کی، انہیں اس حدیث کی شعیب نے خبر دی۔ انہوں نے زہری سے یہ حدیث سنی۔ انہیں عبیداللہ ابن عبداللہ ابن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ عبداللہ بن عباس سے ابوسفیان بن حرب نے یہ واقعہ بیان کیا کہ ہرقل ( شاہ روم ) نے ان کے پاس قریش کے قافلے میں ایک آدمی بلانے کو بھیجا اور اس وقت یہ لوگ تجارت کے لیے ملک شام گئے ہوئے تھے اور یہ وہ زمانہ تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور ابوسفیان سے ایک وقتی عہد کیا ہوا تھا۔ جب ابوسفیان اور دوسرے لوگ ہرقل کے پاس ایلیاء پہنچے جہاں ہرقل نے دربار طلب کیا تھا۔ اس کے گرد روم کے بڑے بڑے لوگ ( علماء وزراء امراء ) بیٹھے ہوئے تھے۔ ہرقل نے ان کو اور اپنے ترجمان کو بلوایا۔ پھر ان سے پوچھا کہ تم میں سے کون شخص مدعی رسالت کا زیادہ قریبی عزیز ہے؟ ابوسفیان کہتے ہیں کہ میں بول اٹھا کہ میں اس کا سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہوں۔ ( یہ سن کر ) ہرقل نے حکم دیا کہ اس کو ( ابوسفیان کو ) میرے قریب لا کر بٹھاؤ اور اس کے ساتھیوں کو اس کی پیٹھ کے پیچھے بٹھا دو۔ پھر اپنے ترجمان سے کہا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں ابوسفیان سے اس شخص کے ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ) حالات پوچھتا ہوں۔ اگر یہ مجھ سے کسی بات میں جھوٹ بول دے تو تم اس کا جھوٹ ظاہر کر دینا، ( ابوسفیان کا قول ہے کہ ) اللہ کی قسم! اگر مجھے یہ غیرت نہ آتی کہ یہ لوگ مجھ کو جھٹلائیں گے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ضرور غلط گوئی سے کام لیتا۔ خیر پہلی بات جو ہرقل نے مجھ سے پوچھی وہ یہ کہ اس شخص کا خاندان تم لوگوں میں کیسا ہے؟ میں نے کہا وہ تو بڑے اونچے عالی نسب والے ہیں۔ کہنے لگا اس سے پہلے بھی کسی نے تم لوگوں میں ایسی بات کہی تھی؟ میں نے کہا نہیں کہنے لگا، اچھا اس کے بڑوں میں کوئی بادشاہ ہوا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ پھر اس نے کہا، بڑے لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ہے یا کمزوروں نے؟ میں نے کہا نہیں کمزوروں نے۔ پھر کہنے لگا، اس کے تابعدار روز بڑھتے جاتے ہیں یا کوئی ساتھی پھر بھی جاتا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ کہنے لگا کہ کیا اپنے اس دعوائے ( نبوت ) سے پہلے کبھی ( کسی بھی موقع پر ) اس نے جھوٹ بولا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ اور اب ہماری اس سے ( صلح کی ) ایک مقررہ مدت ٹھہری ہوئی ہے۔ معلوم نہیں وہ اس میں کیا کرنے والا ہے۔ ( ابوسفیان کہتے ہیں ) میں اس بات کے سوا اور کوئی ( جھوٹ ) اس گفتگو میں شامل نہ کر سکا۔ ہرقل نے کہا کیا تمہاری اس سے کبھی لڑائی بھی ہوتی ہے؟ ہم نے کہا کہ ہاں۔ بولا پھر تمہاری اور اس کی جنگ کا کیا حال ہوتا ہے؟ میں نے کہا، لڑائی ڈول کی طرح ہے، کبھی وہ ہم سے ( میدان جنگ ) جیت لیتے ہیں اور کبھی ہم ان سے جیت لیتے ہیں۔ ہرقل نے پوچھا۔ وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتا ہے؟ میں نے کہا وہ کہتا ہے کہ صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کا کسی کو شریک نہ بناؤ اور اپنے باپ دادا کی ( شرک کی ) باتیں چھوڑ دو اور ہمیں نماز پڑھنے، سچ بولنے، پرہیزگاری اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ ( یہ سب سن کر ) پھر ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا کہ ابوسفیان سے کہہ دے کہ میں نے تم سے اس کا نسب پوچھا تو تم نے کہا کہ وہ ہم میں عالی نسب ہے اور پیغمبر اپنی قوم میں عالی نسب ہی بھیجے جایا کرتے ہیں۔ میں نے تم سے پوچھا کہ ( دعویٰ نبوت کی ) یہ بات تمہارے اندر اس سے پہلے کسی اور نے بھی کہی تھی، تو تم نے جواب دیا کہ نہیں، تب میں نے ( اپنے دل میں ) کہا کہ اگر یہ بات اس سے پہلے کسی نے کہی ہوتی تو میں سمجھتا کہ اس شخص نے بھی اسی بات کی تقلید کی ہے جو پہلے کہی جا چکی ہے۔ میں نے تم سے پوچھا کہ اس کے بڑوں میں کوئی بادشاہ بھی گزرا ہے، تم نے کہا کہ نہیں۔ تو میں نے ( دل میں ) کہا کہ ان کے بزرگوں میں سے کوئی بادشاہ ہوا ہو گا تو کہہ دوں گا کہ وہ شخص ( اس بہانہ ) اپنے آباء و اجداد کی بادشاہت اور ان کا ملک ( دوبارہ ) حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ اس بات کے کہنے ( یعنی پیغمبری کا دعویٰ کرنے ) سے پہلے تم نے کبھی اس کو دروغ گوئی کا الزام لگایا ہے؟ تم نے کہا کہ نہیں۔ تو میں نے سمجھ لیا کہ جو شخص آدمیوں کے ساتھ دروغ گوئی سے بچے وہ اللہ کے بارے میں کیسے جھوٹی بات کہہ سکتا ہے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ بڑے لوگ اس کے پیرو ہوتے ہیں یا کمزور آدمی۔ تم نے کہا کمزوروں نے اس کی اتباع کی ہے، تو ( دراصل ) یہی لوگ پیغمبروں کے متبعین ہوتے ہیں۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ اس کے ساتھی بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں۔ تم نے کہا کہ وہ بڑھ رہے ہیں اور ایمان کی کیفیت یہی ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ وہ کامل ہو جاتا ہے اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا کوئی شخص اس کے دین سے ناخوش ہو کر مرتد بھی ہو جاتا ہے تم نے کہا نہیں، تو ایمان کی خاصیت بھی یہی ہے جن کے دلوں میں اس کی مسرت رچ بس جائے وہ اس سے لوٹا نہیں کرتے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا وہ کبھی عہد شکنی کرتے ہیں۔ تم نے کہا نہیں، پیغمبروں کا یہی حال ہوتا ہے، وہ عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ اور میں نے تم سے کہا کہ وہ تم سے کس چیز کے لیے کہتے ہیں۔ تم نے کہا کہ وہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور تمہیں بتوں کی پرستش سے روکتے ہیں۔ سچ بولنے اور پرہیزگاری کا حکم دیتے ہیں۔ لہٰذا اگر یہ باتیں جو تم کہہ رہے ہو سچ ہیں تو عنقریب وہ اس جگہ کا مالک ہو جائے گا کہ جہاں میرے یہ دونوں پاؤں ہیں۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ ( پیغمبر ) آنے والا ہے۔ مگر مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ تمہارے اندر ہو گا۔ اگر میں جانتا کہ اس تک پہنچ سکوں گا تو اس سے ملنے کے لیے ہر تکلیف گوارا کرتا۔ اگر میں اس کے پاس ہوتا تو اس کے پاؤں دھوتا۔ ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ خط منگایا جو آپ نے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے ذریعہ حاکم بصریٰ کے پاس بھیجا تھا اور اس نے وہ ہرقل کے پاس بھیج دیا تھا۔ پھر اس کو پڑھا تو اس میں ( لکھا تھا ) : اللہ کے نام کے ساتھ جو نہایت مہربان اور رحم والا ہے۔ اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ خط ہے شاہ روم کے لیے۔ اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کرے اس کے بعد میں آپ کے سامنے دعوت اسلام پیش کرتا ہوں۔ اگر آپ اسلام لے آئیں گے تو ( دین و دنیا میں ) سلامتی نصیب ہو گی۔ اللہ آپ کو دوہرا ثواب دے گا اور اگر آپ ( میری دعوت سے ) روگردانی کریں گے تو آپ کی رعایا کا گناہ بھی آپ ہی پر ہو گا۔ اور اے اہل کتاب! ایک ایسی بات پر آ جاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے۔ وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور نہ ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا اپنا رب بنائے۔ پھر اگر وہ اہل کتاب ( اس بات سے ) منہ پھیر لیں تو ( مسلمانو! ) تم ان سے کہہ دو کہ ( تم مانو یا نہ مانو ) ہم تو ایک اللہ کے اطاعت گزار ہیں۔ ابوسفیان کہتے ہیں: جب ہرقل نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا اور خط پڑھ کر فارغ ہوا تو اس کے اردگرد بہت شور و غوغہ ہوا، بہت سی آوازیں اٹھیں اور ہمیں باہر نکال دیا گیا۔ تب میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابوکبشہ کے بیٹے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کا معاملہ تو بہت بڑھ گیا ( دیکھو تو ) اس سے بنی اصفر ( روم ) کا بادشاہ بھی ڈرتا ہے۔ مجھے اس وقت سے اس بات کا یقین ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عنقریب غالب ہو کر رہیں گے۔ حتیٰ کہ اللہ نے مجھے مسلمان کر دیا۔ ( راوی کا بیان ہے کہ ) ابن ناطور ایلیاء کا حاکم ہرقل کا مصاحب اور شام کے نصاریٰ کا لاٹ پادری بیان کرتا تھا کہ ہرقل جب ایلیاء آیا، ایک دن صبح کو پریشان اٹھا تو اس کے درباریوں نے دریافت کیا کہ آج ہم آپ کی حالت بدلی ہوئی پاتے ہیں۔ ( کیا وجہ ہے؟ ) ابن ناطور کا بیان ہے کہ ہرقل نجومی تھا، علم نجوم میں وہ پوری مہارت رکھتا تھا۔ اس نے اپنے ہم نشینوں کو بتایا کہ میں نے آج رات ستاروں پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ ختنہ کرنے والوں کا بادشاہ ہمارے ملک پر غالب آ گیا ہے۔ ( بھلا ) اس زمانے میں کون لوگ ختنہ کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہود کے سوا کوئی ختنہ نہیں کرتا۔ سو ان کی وجہ سے پریشان نہ ہوں۔ سلطنت کے تمام شہروں میں یہ حکم لکھ بھیجئے کہ وہاں جتنے یہودی ہوں سب قتل کر دئیے جائیں۔ وہ لوگ انہی باتوں میں مشغول تھے کہ ہرقل کے پاس ایک آدمی لایا گیا۔ جسے شاہ غسان نے بھیجا تھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بیان کئے۔ جب ہرقل نے ( سارے حالات ) سن لیے تو کہا کہ جا کر دیکھو وہ ختنہ کئے ہوئے ہے یا نہیں؟ انہوں نے اسے دیکھا تو بتلایا کہ وہ ختنہ کیا ہوا ہے۔ ہرقل نے جب اس شخص سے عرب کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتلایا کہ وہ ختنہ کرتے ہیں۔ تب ہرقل نے کہا کہ یہ ہی ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اس امت کے بادشاہ ہیں جو پیدا ہو چکے ہیں۔ پھر اس نے اپنے ایک دوست کو رومیہ خط لکھا اور وہ بھی علم نجوم میں ہرقل کی طرح ماہر تھا۔ پھر وہاں سے ہرقل حمص چلا گیا۔ ابھی حمص سے نکلا نہیں تھا کہ اس کے دوست کا خط ( اس کے جواب میں ) آ گیا۔ اس کی رائے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بارے میں ہرقل کے موافق تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ( واقعی ) پیغمبر ہیں۔ اس کے بعد ہرقل نے روم کے بڑے آدمیوں کو اپنے حمص کے محل میں طلب کیا اور اس کے حکم سے محل کے دروازے بند کر لیے گئے۔ پھر وہ ( اپنے خاص محل سے ) باہر آیا اور کہا ”اے روم والو! کیا ہدایت اور کامیابی میں کچھ حصہ تمہارے لیے بھی ہے؟ اگر تم اپنی سلطنت کی بقا چاہتے ہو تو پھر اس نبی کی بیعت کر لو اور مسلمان ہو جاؤ“ ( یہ سننا تھا کہ ) پھر وہ لوگ وحشی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف دوڑے ( مگر ) انہیں بند پایا۔ آخر جب ہرقل نے ( اس بات سے ) ان کی یہ نفرت دیکھی اور ان کے ایمان لانے سے مایوس ہو گیا تو کہنے لگا کہ ان لوگوں کو میرے پاس لاؤ۔ ( جب وہ دوبارہ آئے ) تو اس نے کہا میں نے جو بات کہی تھی اس سے تمہاری دینی پختگی کی آزمائش مقصود تھی سو وہ میں نے دیکھ لی۔ تب ( یہ بات سن کر ) وہ سب کے سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑے اور اس سے خوش ہو گئے۔ بالآخر ہرقل کی آخری حالت یہ ہی رہی۔ ابوعبداللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو صالح بن کیسان، یونس اور معمر نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔
Sahih Muslim
6477
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، كِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ «خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ» زَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ: وَاللهُ أَعْلَمُ، أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا، بِمِثْلِ حَدِيثِ زَهْدَمٍ، عَنْ عِمْرَانَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ «وَيَحْلِفُونَ وَلَا يُسْتَحْلَفُونَ»
This hadith has been narrated on the authority of 'Imran b. Husain through another chain of transmitters (and the words are): The best generation of this Umma is the generation to which I have been sent, then the next one, and there is an addition in the hadith transmitted on the authority of Abu 'Awana (and the words are): And Allah knows best whether he made a mention of the third (generation) or not; the rest of the hadith is the same as transmitted by Zahdam on the authority of 'Imran. And in the hadith transmitted by Hisham on the authority of Qatada there is an addition of these words: They take an oath whereas they are not asked to take.
ابو عوانہ اور ہشام دونوں نے قتادہ سے ، انھوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے ، انھوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث ( ان الفاظ میں ) روایت کی : " اس امت کے بہترین لوگ اس دور کے ہیں جس میں مجھے ان میں بھیجاگیا ہے ، پھر وہ جوان کےساتھ ( کے دور میں ) ہوں گے ۔ " ۔ ۔ ۔ ابو عوانہ کی حدیث میں مزید یہ ہے کہ ( حضرت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اللہ زیادہ جاننے والا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے ( دور ) کا ذکر کیا یا نہیں ، جس طرح حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےزہدم کی روایت کردہ حدیث ہے ۔ اور قتادہ سے ہشام کی روایت کردہ حدیث میں یہ الفاظ زائد ہیں : " وہ قسمیں کھائیں گے جبکہ ان سے قسم کھانے کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا ۔ "
Silsila Sahih
1026
عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْن حَرْبٍ: أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَكَانُوا تُجَارًا بِالشَّأمِ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَادَّ فِيهَا أَبَا سُفْيَانَ وَكُفَّارَ قُرَيْشٍ فَأَتَوْهُ وَهُمْ بِإِيلِيَاءَ فَدَعَاهُمْ فِي مَجْلِسِهِ وَحَوْلَهُ عُظَمَاءُ الرُّومِ ثُمَّ دَعَاهُمْ وَدَعَا بِتَرْجُمَانِهِ فَقَالَ: أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا بِهَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَقُلْتُ: أَنَا أَقْرَبُهُمْ نَسَبًا فَقَالَ: أَدْنُوهُ مِنِّي وَقَرِّبُوا أَصْحَابَهُ فَاجْعَلُوهُمْ عِنْدَ ظَهْرِهِ ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: قُلْ لَهُمْ: إِنِّي سَائِلٌ هَذَا الرَّجُلِ فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ فَوَاللهِ لَوْلَا الْحَيَاءُ مِنْ أَنْ يَأْثِرُوا عَلَيَّ كَذِبًا لَكَذَبْتُ عَنْهُ ثُمَّ كَانَ أَوَّلَ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَنْ قَالَ: كَيْفَ نَسَبُهُ فِيكُمْ؟ قُلْتُ: هُوَ فِينَا ذُو نَسَبٍ قَالَ: فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ مِنْكُمْ أَحَدٌ قَطُّ قَبْلَهُ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَأَشْرَافُ النَّاسِ يَتَّبِعُونَهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ فَقُلْتُ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ: أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ قُلْتُ: بَلْ يَزِيدُونَ قَالَ: فَهَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَهَلْ يَغْدِرُ؟ قُلْتُ: لَا وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ فَاعِلٌ فِيهَا؟! قَالَ: وَلَمْ تُمْكِنِّي كَلِمَةٌ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرَ هَذِهِ الْكَلِمَةِ قَالَ: فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ؟ قُلْتُ: الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالٌ يَنَالُ مِنَّا وَنَنَالُ مِنْهُ قَالَ: مَاذَا يَأْمُرُكُمْ؟ قُلْتُ: يَقُولُ: اعْبُدُوا اللهَ وَحْدَهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَاتْرُكُوا مَا يَقُولُ آبَاؤُكُمْ وَيَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ وَالصِّلَةِ فَقَالَ لِلتَّرْجُمَانِ: قُلْ لَهُ: سَأَلْتُكَ عَنْ نَسَبِهِ فَذَكَرْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو نَسَبٍ فَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي نَسَبِ قَوْمِهَا وَسَأَلْتُكَ: هَلْ قَالَ أَحَدٌ مِنْكُمْ هَذَا الْقَوْلَ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ أَحَدٌ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ قَبْلَهُ لَقُلْتُ: رَجُلٌ يَأْتَسِي بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ وَسَأَلْتُكَ: هَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا قُلْتُ فَلَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ قُلْتُ: رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ أَبِيهِ وَسَأَلْتُكَ: هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا فَقَدْ أَعْرِفُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَذَرَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ وَيَكْذِبَ عَلَى اللهِ وَسَأَلْتُكَ: أَشْرَافُ النَّاسِ اتَّبَعُوهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ فَذَكَرْتَ أَنَّ ضُعَفَاءَهُمْ اتَّبَعُوهُ وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ وَسَأَلْتُكَ أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ فَذَكَرْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ وَكَذَلِكَ أَمْرُ الْإِيمَانِ حَتَّى يَتِمَّ وَسَأَلْتُكَ أَيَرْتَدُّ أَحَدٌ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حِينَ تُخَالِطُ بَشَاشَتُهُ الْقُلُوبَ وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَغْدِرُ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لَا تَغْدِرُ وَسَأَلْتُكَ بِمَا يَأْمُرُكُمْ فَذَكَرْتَ أَنَّهُ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَيَنْهَاكُمْ عَنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ وَيَأْمُرُكُمْ بِالصَّلَاةِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ فَإِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَسَيَمْلِكُ مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ لَمْ أَكُنْ أَظُنُّ أَنَّهُ مِنْكُمْ فَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لَتَجَشَّمْتُ لِقَاءَهُ وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمِهِ ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الَّذِي بَعَثَ بِهِ دِحْيَةُ إِلَى عَظِيمِ بَصْرَى فَدَفَعَهُ إِلَى هِرَقْلَ فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اهُِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلَامٌ عَلَى مَنْ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ يُؤْتِكَ اللهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ ﮊ آل عمران، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَلَمَّا قَالَ مَا قَالَ وَفَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ كَثُرَ عِنْدَهُ الصَّخَبُ وَارْتَفَعَتْ الْأَصْوَاتُ وَأُخْرِجْنَا فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي حِينَ أُخْرِجْنَا لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ إِنَّهُ يَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ فَمَا زِلْتُ مُوقِنًا أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ وَكَانَ ابْنُ النَّاطُورِ صَاحِبُ إِيلِيَاءَ وَهِرَقْلَ سُقُفاً عَلَى نَصَارَى الشَّامِ يُحَدِّثُ أَنَّ هِرَقْلَ حِينَ قَدِمَ إِيلِيَاءَ أَصْبَحَ يَوْمًا خَبِيثَ النَّفْسِ فَقَالَ بَعْضُ بَطَارِقَتِهِ قَدْ اسْتَنْكَرْنَا هَيْئَتَكَ قَالَ ابْنُ النَّاطُورِ وَكَانَ هِرَقْلُ حَزَّاءً يَنْظُرُ فِي النُّجُومِ فَقَالَ لَهُمْ حِينَ سَأَلُوهُ إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ حِينَ نَظَرْتُ فِي النُّجُومِ مَلِكَ الْخِتَانِ قَدْ ظَهَرَ فَمَنْ يَخْتَتِنُ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَالُوا لَيْسَ يَخْتَتِنُ إِلَّا الْيَهُودُ فَلَا يُهِمَّنَّكَ شَأْنُهُمْ وَاكْتُبْ إِلَى مَدَايِنِ مُلْكِكَ فَيَقْتُلُوا مَنْ فِيهِمْ مِنْ الْيَهُودِ فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى أَمْرِهِمْ أُتِيَ هِرَقْلُ بِرَجُلٍ أَرْسَلَ بِهِ مَلِكُ غَسَّانَ يُخْبِرُ عَنْ خَبَرِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَلَمَّا اسْتَخْبَرَهُ هِرَقْلُ قَالَ اذْهَبُوا فَانْظُرُوا أَمُخْتَتِنٌ هُوَ أَمْ لَا؟ فَنَظَرُوا إِلَيْهِ فَحَدَّثُوهُ أَنَّهُ مُخْتَتِنٌ وَسَأَلَهُ عَنْ الْعَرَبِ فَقَالَ: هُمْ يَخْتَتِنُونَ فَقَالَ هِرَقْلُ: هَذَا مُلْكُ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَدْ ظَهَرَ ثُمَّ كَتَبَ هِرَقْلُ إِلَى صَاحِبٍ لَهُ بِرُومِيَةَ وَكَانَ نَظِيرَهُ فِي الْعِلْمِ وَسَارَ هِرَقْلُ إِلَى حِمْصَ فَلَمْ يَرِمْ حِمْصَ حَتَّى أَتَاهُ كِتَابٌ مِنْ صَاحِبِهِ يُوَافِقُ رَأْيَ هِرَقْلَ عَلَى خُرُوجِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَأَنَّهُ نَبِيٌّ فَأَذِنَ هِرَقْلُ لِعُظَمَاءِ الرُّومِ فِي دَسْكَرَةٍ لَهُ بِحِمْصَ ثُمَّ أَمَرَ بِأَبْوَابِهَا فَغُلِّقَتْ ثُمَّ اطَّلَعَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الرُّومِ هَلْ لَكُمْ فِي الْفَلَاحِ وَالرُّشْدِ وَأَنْ يَثْبُتَ مُلْكُكُمْ؟ فَتُبَايِعُوا هَذَا النَّبِيَّ فَحَاصُوا حَيْصَةَ حُمُرِ الْوَحْشِ إِلَى الْأَبْوَابِ فَوَجَدُوهَا قَدْ غُلِّقَتْ فَلَمَّا رَأَى هِرَقْلُ نَفْرَتَهُمْ وَأَيِسَ مِنْ الْإِيمَانِ قَالَ رُدُّوهُمْ عَلَيَّ وَقَالَ إِنِّي قُلْتُ مَقَالَتِي آنِفًا أَخْتَبِرُ بِهَا شِدَّتَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ فَقَدْ رَأَيْتُ فَسَجَدُوا لَهُ وَرَضُوا عَنْهُ فَكَانَ ذَلِكَ آخِرَ شَأْنِ هِرَقْلَ.
ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ وہ قریش كے ایك تجارتی قافلے میں تھے۔ ہرقل نے اس كی طرف پیغام بھیجا۔ یہ لوگ شام میں تجارت كی غرض سے اس مدتِ معاہدہ كے دوران آئے تھے جو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اور ابو سفیان و كفارِ قریش كے درمیان ہوا تھا۔ یہ لوگ ایلیا میں تھے ، ہر قل نے انہیں قریب بلایا اور اس کے پاس روم کے سرکردہ لوگ تھے،اور اپنا ترجمان بھی بلایا۔ ہر قل نے كہا: جو شخص نبوت كا دعوی كرتا ہے اس كا رشتے دار كون ہے؟ ابو سفیان نے كہا: میں ہوں، ہر قل نے كہا: اسے میرے قریب كر دو ۔اور اس كے ساتھیوں كو اس كے پیچھے كھڑا كر دو، پھر اپنے ترجمان سے كہا، ان سے كہو: میں اس سے سوال كروں گا، اگر یہ مجھ سے جھوٹ بولے تو اس كی تكذیب كر دو ۔ابو سفیان نے كہا: اللہ كی قسم مجھے اس بات كی شرم نہ ہوتی كہ یہ مجھے جھوٹا كہیں گے تو میں آپ كے بارے میں جھوٹ بولتا ۔ پھر پہلاسوال ہر قل نے كاہ: تم میں اس كا نسب كیسا ہے؟ ابو سفیان: وہ ہم میں اچھے نسب والے ہیں۔ ہر قل: كیا تم میں سے كسی نے پہلے كبھی ایسی بات كہی ہے؟ ابو سفیان: نہیں۔ہر قل: كیا اس كے آباءو اجداد میں كوئی بادشاہ گزرا ہے؟ ابو سفیان: نہیں ۔ ہر قل: بڑے لوگ اس كی پیروی كرتے ہیں یا كمزور اور غریب لوگ؟ ابو سفیان: كمزور و ضعیف لوگ۔ ہر قل: وہ زیادہ ہو رہے ہیں یا كم ہو رہے ہیں؟ابو سفیان: وہ زیادہ ہو رہے ہیں۔ہر قل: كیا اس كے دین میں داخل ہونے كے بعد كوئی اس كے دین كو نا پسند كرتے ہوئے مرتدبھی ہوا ہے ؟ ابو سفیان : نہیں۔ ہر قل : كیا وہ دھوكہ دیتا ہے؟ ابو سفیان : نہیں، لیكن ہمارے درمیان ایك معاہدہ ہوا ہے جس كے بارے میں ہم نہیں جانتے كہ وہ اس میں كیا كرے گا؟ ابو سفیان نے كہا كہ اس بات كے علاوہ مجھے كوئی ایسی بات نہیں ملی جو میں اس گفتگو میں شامل كرتا۔ ہر قل: كیا تم نے اس سے قتال كیا ہے؟ ابو سفیان: ہاں۔ ہر قل: تمہارے درمیان جنگ كی كیا كیفیت رہی؟ ابو سفیان: ہمارے درمیان جنگ كبھی ان كے حق میں اور كبھی ہمارے حق میں رہی۔ ہر قل : وہ تمہیں كیا حكم دیتا ہے؟ ابو سفیان: وہ كہتا ہے ، اللہ كی عبادت كرو، اس كے ساتھ كسی كو شریك نہ كرو، جو تمہارے آباء كہتے ہیں انہیں چھوڑ دو، ہمیں نماز پڑھنے، سچ بولنے، پاكدامنی اور صلہ رحمی كا حكم دیتا ہے۔ہر قل نے اپنے ترجمان سے كہا : اس سے كہو، میں نے تم سے اس كے نسب كے بارے میں پوچھا تو تم نے كہا كہ وہ ہم میں اچھے نسب والا ہے، رسول اسی طرح ہوتے ہیں۔ انہیں اپنی قوم كے اچھے نسب والے خاندان میں مبعوث كیا جاتا ہے۔ اور میں نے تم سے سوال كیا كہ كیا اس سے پہلے بھی كسی نے ایسی بات كہی ہے؟ تو تم نے كہا: نہیں۔ میں كہتا ہوں كہ اگر اس سے پہلے كسی نے ایسی بات كہی ہوتی تو میں كہتا یہ ایسا شخص ہے جو ایسی بات كی نقل كر رہا ہے جو كہی جا چكی ہے۔ میں نے تم سے سوال كیا كہ كیا اس كے آباء میں سے كوئی بادشاہ گزرا ہے؟ تو تم نے كہا كہ نہیں۔ میں كہتا ہوں كہ اگر اس كے آباء میں سے كوئی بادشاہ ہوتا تو یہ ایسا شخص ہے جو اپنے آباء كی بادشاہت كا خواہش مند ہے۔ میں نے تم سے كہا كہ كاا تم نے كبھی اس پر اس دعوے سے پہلے جھوٹ كی تہمت لگائی ہے؟ تو تم نے كہا: نہیں۔ مجھے معلوم ہو گیا كہ ایك شخص جو لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ تعالیٰ كے متعلق كس طرح جھوٹ بول سكتا ہے۔ میں نے تم سے سوال كیا كہ امیر لوگ اس كی پیروی كر رہے ہیں یا غریب لوگ؟ تو تم نے كہا: غریب لوگ اور یہی لوگ رسولوں كے پیرو كار ہوتے ہیں۔ میں نے تم سے سوال كیا كہ وہ زیادہ ہو رہے ہیں یا كم ہو رہے ہیں؟ تو تم نے كہا كہ وہ زیادہ ہو رہے ہیں۔ ایمان كا معاملہ اسی طرح ہوتا ہے حتیٰ كہ وہ مكمل ہو جائے۔ میں نے تم سے سوال كیا كہ كیا اس كے دین كو ناپسند كرتے ہوئے كوئی مرتد بھی ہوا ہے؟ تو تم نے كہا: نہیں۔ ایمان كی حالت اسی طرح ہوتی ہے جب اس كی تازگی دلوں میں رچ بس جائے ۔ میں نے تم سے سوال كیا كہ كیا وہ دھوكہ دہی كرتا ہے؟ تو تم نے كہا: نہیں۔ رسول دھوكہ نہیں دیتے۔ میں نے تم سے سوال كیا كہ وہ تمہیں كس بات كا حكم دیتا ہے؟ تو تم نے كہا كہ وہ تمہیں نماز پڑھنے، سچ بولنے ، پاكدامنی اختیار كرنے ، اللہ كی عبادت كرنے ، شرك نہ كرنے، بتوں كی عبادت سے رك جانے كا حكم دیتا ہے۔ اگر جو تم نے كہا ہے سچ ہے تو عنقریب وہ میرے ان قدموں كے نیچے والی جگہ (تخت) كا مالك بنے گا۔ مجھے یہ معلوم تھا كہ اس كا ظہور ہونے والا ہے لیكن یہ خیال نہیں تھا كہ وہ تم میں سے ہوگا۔ اگر میں سمجھتا كہ میں اس كے پاس پہنچ جاؤں گا تو میں ضرور اس كی ملاقات كے لئے جاتا، اگر میں اس كے پاس ہوتا تو میں اس كے قدم دھوتا۔ پھر اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا وہ خط منگوایا جو آپ نے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ كے ہاتھ بصرہ كے والی كی طرف بھیجا تھا ۔ وہ خط ہر قل كو دیا گیا، ہر قل نے وہ خط پڑھا تو اس میں لكھا تھا: بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد اللہ كے بندے اور اس كے رسول كی طرف سے ، ہر قل روم كے بادشاہ كی طرف، اس شخص پر سلامتی ہو جس نے ہدایت كی پیروی كی۔ اما بعد: میں تمہیں اسلام كی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام لے آؤ سلامت رہو گے، اللہ تعالیٰ تمہیں دو گنا اجر دے گا۔ اگر تم اسلام سے پھر گئے تو تم پر تمہاری رعایا كا بھی گناہ ہوگا ’’اور اے اہل كتاب اس كلمہ كی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترك ہے كہ ہم اللہ كے سوا كسی كی عبادت نہ كریں اور نہ اس كے ساتھ كسی كو شریك كریں، اور نہ ہم میں كوئی كسی دوسرے كو اللہ كے علاوہ رب بنائے۔ اگر یہ لوگ پھر جائیں تو تم كہو ہم اس بات كی گواہی دیتے ہیں كہ ہم مسلمان ہیں۔‘‘( آل عمران) ابو سفیان نے كہا:جب ہر قل اپنی بات كہہ چكا اور خط سے فارغ ہو گیا تو اس كے پاس آوازیں بلند ہونے لگیں اور چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔ ہمیں باہر بھیج دیا گیا، جب ہمیں باہر بھیجا گیا تو میں نے اپنے ساتھیوں سے كہا: ابن ابی كبشہ كا معاملہ تو بہت بڑھ گیا ہے۔ اس سے تو روم كا بادشاہ بھی ڈر رہا ہے۔ پھر مجھے یہ یقین ہو گیا كہ عنقریب وہ غالب ہوگا، حتی كہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام داخل كر دیا۔ابن ناطور ہرقل کی طرف سے ایلیاء کا والی اور نصارٰی شام کا پادری (عالم) بھی تھا۔ابن ناطور كہتا ہے كہ ہر قل جب ایلیا آیا تو ایك دن بوجھل طبیعت كے ساتھ اٹھا، اس كے كسی جرنیل نے كہا: آج ہم آپ كی طبیعت نا ساز دیكھ رہے ہیں۔ ابن ناطور كہتا ہے كہ ہر قل علم نجوم كا ماہر تھا۔ جب ساتھیوں نے اس سے كہا تو اس نے ان سے كہا: آج رات میں نے ستارے دیكھے تو مجھے ختنہ كرنے والے لوگوں كا بادشاہ نظر آیا اس كا ظہور ہو چكا ہے۔ اس امت میں كون لوگ ختنہ كرتے ہیں؟ اس كے ساتھیوں نے كہا: صرف یہودی لوگ ختنہ كرتے ہیں اور آپ کو ان کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے آپ ملک کے بڑے بڑے شہروں کے حاکموں کو لکھ بھیجئے کہ جتنے یہود وہاں ہیں سب قتل کردئے جائیں۔ وہ ابھی اسی گفتگو میں مصروف تھے كہ ہر قل كے پاس ایك آدمی لایا گیا ،جسے غسان كے بادشاہ كی طرف سے بھیجا گیا تھا،وہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے بارے میں بتا رہا تھا۔ جب ہر قل نے اس سے یہ ؟؟؟ معلوم کی کہ تو كاب: اسے لے جاؤ اور دیكھو اس كا ختنہ ہوا ہے یا نہیں؟ انہوں نے اسے دیكھا تو انہیں انكشاف ہوا كہ اس كا ختنہ ہوا ہے۔ ہر قل نے اس سے عرب كے لوگوں كے بارے میں پوچھا تو اس نے كہا: وہ ختنہ كرتے ہیں۔ ہر قل نے كہا: یہ اس امت كا بادشاہ ہے، اس كا ظہور ہو گیا ۔ پھر ہر قل نے رومیہ میں اپنے نگران كو خط لكھا وہ بھی علم میں اس كے ہم پلہ تھا، اور خود حمص كی طرف چل پڑا، ابھی وہ حمص پہنچا ہی تھا كہ اس كے پاس اس كے نگران كا خط آ پہنچا جو ہر قل كی رائے كے موافق تھا كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا ظہور ہو چكا ہے اور وہ نبی ہیں۔ ہر قل نے حمص میں اپنے ایك بڑے ہال میں روم كے سرداروں كو جمع كیا، پھر دروازے بند كرنے كا حكم دیا۔ اور سامنے آكر كہنے لگا: اے روم كے لوگو كیا تمہیں ہدایت و بھلائی سے كچھ دلچسپی ہے؟ اور یہ كہ تمہاری بادشاہت سلامت رہے ، تو اس نبی كی بیعت كر لو؟ وہ لوگ وحشی گدھوں كی طرح دروازوں كی طرف بھاگے تو انہیں ؟؟؟ جب ہر قل نے ان کی اس قدر نفرت كو دیكھا اور ان كے ایمان لانے سے مایوس ہو گیا تو كہنے لگا: انہیں میرے پاس واپس لاؤ، پھر کہنے لگا: میں نے تمہیں ابھی جو بات کہی تھی وہ اس لیے کہ میں تمہارے دین کی مضبوطی کا امتحان لوں۔ یہ میں نے دیکھ لیا، انہوں نے اسے سجدہ کیا اور اس سے راضی ہوگئے۔ یہ ہر قل کا آخری معاملہ تھا۔
Silsila Sahih
2171
عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَكَانُوا تُجَّارًا بِالشَّامِ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَادَّ فِيهَا أَبَا سُفْيَانَ وَكُفَّارَ قُرَيْشٍ فَأَتَوْهُ وَهُمْ بِإِيلِيَاءَ فَدَعَاهُمْ فِي مَجْلِسِهِ وَحَوْلَهُ عُظَمَاءُ الرُّومِ ثُمَّ دَعَاهُمْ وَدَعَا بِتَرْجُمَانِهِ فَقَالَ: أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا بِهَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانُ: فَقُلْتُ: أَنَا أَقْرَبُهُمْ نَسَبًا فَقَالَ: أَدْنُوهُ مِنِّي وَقَرِّبُوا أَصْحَابَهُ فَاجْعَلُوهُمْ عِنْدَ ظَهْرِهِ ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: قُلْ لَهُمْ: إِنِّي سَائِلٌ هَذَا الرَّجُلٌ فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ فَوَاللهِ! لَوْلَا الْحَيَاءُ مِنْ أَنْ يَأْثِرُوا عَلَيَّ كَذِبًا لَكَذَبْتُ عَنْهُ ثُمَّ كَانَ أَوَّلَ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَنْ قَالَ: كَيْفَ نَسَبُهُ فِيكُمْ؟ قُلْتُ: هُوَ فِينَا ذُو نَسَبٍ قَالَ: فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ مِنْكُمْ أَحَدٌ قَطُّ قَبْلَهُ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَأَشْرَافُ النَّاسِ يَتَّبِعُونَهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ فَقُلْتُ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ: أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ قُلْتُ: بَلْ يَزِيدُونَ قَالَ: فَهَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَهَلْ يَغْدِرُ؟ قُلْتُ: لَا وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ فَاعِلٌ فِيهَا قَالَ: وَلَمْ تُمْكِنِّي كَلِمَةٌ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرُ هَذِهِ الْكَلِمَةِ قَالَ: فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟! قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ قِتَالُـكُمْ إِيَّاهُ؟ قُلـتُ: الْحَـرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالٌ يَنَالُ مِنَّا وَنَنَالُ مِنْهُ قَالَ: مَاذَا يَأْمُرُكُمْ؟ قُلْتُ: يَقُولُ: اعْبُدُوا اللهَ وَحْدَهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِـهِ شَـيْئًا وَاتْرُكُوا مَا يَقُولُ آبَاؤُكُمْ وَيَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ وَالصِّلَةِ فَقَالَ لِلتَّرْجُمَانِ: قُلْ لَهُ: سَأَلْتُكَ عَنْ نَسَبِهِ؟ فَذَكَرْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو نَسَبٍ فَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي نَسَبِ قَوْمِهَا وَسَأَلْتُكَ: هَلْ قَالَ أَحَدٌ مِنْكُمْ هَذَا الْقَوْلَ: فَذَكَرْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ أَحَدٌ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ قَبْلَهُ لَقُلْتُ: رَجُلٌ يَأْتَسِي بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ وَسَأَلْتُكَ هَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا قُلْتُ: فَلَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ قُلْتُ: رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ أَبِيهِ وَسَأَلْتُكَ: هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا فَقَدْ أَعْرِفُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَذَرَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ وَيَكْذِبَ عَلَى اللهِ وَسَأَلْتُكَ: أَشْرَافُ النَّاسِ اتَّبَعُوهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ فَذَكَرْتَ أَنَّ ضُعَفَاءَهُمُ اتَّبَعُوهُ، وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ وَسَأَلْتُكَ: أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ فَذَكَرْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ وَكَذَلِكَ أَمْرُ الْإِيمَانِ، حَتَّى يَتِمَّ وَسَأَلْتُكَ: أَيَرْتَدُّ أَحَدٌ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حِينَ تُخَالِطُ بَشَاشَتُهُ الْقُلُوبَ وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَغْدِرُ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لَا تَغْدِرُ وَسَأَلْتُكَ: بِمَا يَأْمُرُكُمْ؟ فَذَكَرْتَ أَنَّهُ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَيَنْهَاكُمْ عَنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ وَيَأْمُرُكُمْ بِالصَّلَاةِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ فَإِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَسَيَمْلِكُ مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ لَمْ أَكُنْ أَظُنُّ أَنَّهُ مِنْكُمْ فَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لَتَجَشَّمْتُ لِقَاءَهُ وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمِهِ ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الَّذِي بَعَثَ بِهِ دِحْيَةُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى فَدَفَعَهُ إِلَى هِرَقْلَ فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ.. بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللهِ وَرَسُولِهِ، إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ! فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ يُؤْتِكَ اللهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ وَ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ تَعَالَوۡا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍۢ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمۡ اَلَّا نَعۡبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشۡرِکَ بِہٖ شَیۡئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُوۡلُوا اشۡہَدُوۡا بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ (۶۴) (آل عمران) قَالَ أَبُو سُفْيَانُ فَلَمَّا قَالَ مَا قَالَ وَفَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ، كَثُرَ عِنْدَهُ الصَّخَبُ وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ وَأُخْرِجْنَا فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي حِينَ أُخْرِجْنَا: لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ إِنَّهُ يَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ فَمَا زِلْتُ مُوقِنًا أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ وَكَانَ ابْنُ النَّاظُورِ صَاحِبُ إِيلِيَاءَ وَهِرَقْلَ سُقُفًّا عَلَى نَصَارَى الشَّامِ يُحَدِّثُ أَنَّ هِرَقْلَ حَيْث قَدِمَ إِيلِيَاءَ أَصْبَحَ يَوْمًا خَبِيثَ النَّفْسِ فَقَالَ بَعْضُ بَطَارِقَتِهِ: قَدِ اسْتَنْكَرْنَا هَيْئَتَكَ قَالَ ابْنُ النَّاظُورِ: وَكَانَ هِرَقْلُ حَزَّاءً يَنْظُرُ فِي النُّجُومِ فَقَالَ لَهُمْ حِينَ سَأَلُوهُ: إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ حِينَ نَظَرْتُ فِي النُّجُومِ مَلِكَ الْخِتَانِ قَدْ ظَهَرَ فَمَنْ يَخْتَتِنُ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ؟ قَالُوا لَيْسَ يَخْتَتِنُ إِلَّا الْيَهُودُ فَلَا يُهِمَّنَّكَ شَأْنُهُمْ وَاكْتُبْ إِلَى مَدَايِنِ مُلْكِكَ فَيَقْتُلُوا مَنْ فِيهِمْ مِنَ الْيَهُودِ فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى أَمْرِهِمْ أُتِيَ هِرَقْلُ بِرَجُلٍ أَرْسَلَ بِهِ مَلِكُ غَسَّانَ يُخْبِرُ عَنْ خَبَرِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَلَمَّا اسْتَخْبَرَهُ هِرَقْلُ قَالَ: اذْهَبُوا فَانْظُرُوا أَمُخْتَتِنٌ هُوَ أَمْ لَا؟ فَنَظَرُوا إِلَيْهِ فَحَدَّثُوهُ أَنَّهُ مُخْتَتِنٌ وَسَأَلَهُ عَنِ الْعَرَبِ فَقَالَ: هُمْ يَخْتَتِنُونَ فَقَالَ هِرَقْلُ: هَذَا مُلْكُ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَدْ ظَهَرَ ثُمَّ كَتَبَ هِرَقْلُ إِلَى صَاحِبٍ لَهُ بِرُومِيَةَ وَكَانَ نَظِيرَهُ فِي الْعِلْمِ وَسَارَ هِرَقْلُ إِلَى حِمْصَ فَلَمْ يَرِمْ حِمْصَ حَتَّى أَتَاهُ كِتَابٌ مِنْ صَاحِبِهِ يُوَافِقُ رَأْيَ هِرَقْلَ عَلَى خُرُوجِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَأَنَّهُ نَبِيٌّ فَأَذِنَ هِرَقْلُ لِعُظَمَاءِ الرُّومِ فِي دَسْكَرَةٍ لَهُ بِحِمْصَ ثُمَّ أَمَرَ بِأَبْوَابِهَا فَغُلِّقَتْ ثُمَّ اطَّلَعَ: فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الرُّومِ! هَلْ لَكُمْ فِي الْفَلَاحِ وَالرُّشْدِ: وَأَنْ يَثْبُتَ مُلْكُكُمْ: فَتُبَايِعُوا هَذَا النَّبِيَّ؟ فَحَاصُوا حَيْصَةَ حُمُرِ الْوَحْشِ إِلَى الْأَبْوَابِ فَوَجَدُوهَا قَدْ غُلِّقَتْ فَلَمَّا رَأَى هِرَقْلُ نَفْرَتَهُمْ وَأَيِسَ مِنَ الْإِيمَانِ قَالَ: رُدُّوهُمْ عَلَيَّ وَقَالَ: إِنِّي قُلْتُ مَقَالَتِي آنِفًا أَخْتَبِرُ بِهَا شِدَّتَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ فَقَدْ رَأَيْتُ فَسَجَدُوا لَهُ وَرَضُوا عَنْهُ فَكَانَ ذَلِكَ آخِرَ شَأْنِ هِرَقْلَ
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے مروی ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے خبر دی کہ ابو سفیان بن حرب‌رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہرقل نے اس کی طرف پیغام بھیجا وہ قریش کے ایک قافلے میں تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار قریش کے مابین صلح حدیبیہ کے دوران شام میں تجارت کی غرض سے آیا تھا، وہ لوگ ہر قل کے پاس آئے۔ وہ اس وقت ایلیاء میں تھے۔ اس نے انہیں اپنے دربار میں بلایا، اس کے ارد گرد روم کے سردار بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر انہیں بلایا اور اپنے ترجمان کو بھی بلایا، ہر قل کہنے لگا: تم میں اس شخص کا قریبی کون ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے؟ ابو سفیان نے کہا: میں نسبی لحاظ سے اس کا قریبی ہوں۔ ہرقل نے کہا: اسے میرے قریب کر دو، اور اس کے ساتھیوں کو بھی قریب کر کے اس کے پیچھے کھڑا کر دو، پھر اپنے ترجمان سے کہا: ان سے کہو: میں اس شخص سے سوال کروں گا، اگر یہ مجھ سے جھوٹ بولے تو اسے جھٹلا دینا۔ واللہ اگر مجھے اس بات کی حیا نہ ہوتی کہ یہ میرے بارے میں جھوٹ کا عیب نقل کریں گے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جھوٹ بولتا، پھر سب سے پہلا سوال اس نے یہ کیا کہ :تم میں اس کا نسب کیسا ہے؟ابوسفیان: وہ ہم میں اچھے نسب والا ہے۔ ہرقل : کیا اس سے پہلے کسی نے یہ بات کہی ہے؟ ابوسفیان: نہیں ۔ہر قل: کیا اس کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ گزرا ہے؟ ابوسفیان: نہیں ۔ہرقل: امیر لوگوں نے اس کی پیروی کی ہے یا(غریب) کمزور لوگوں نے؟ ابو سفیان:کمزور لوگوں نے ۔ہر قل: وہ لوگ زیادہ ہو رہے ہیں یا کم؟ ابو سفیان: وہ زیادہ ہو رہے ہیں۔ ہر قل: کیا ان میں سے کوئی شخص اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد اس کے دین کو نا پسند کرتے ہوئے مرتد ہوا ہے، ؟ابو سفیان: نہیں۔ ہر قل: وعدہ خلافی کرتا ہے؟ ابو سفیان: نہیں، ابھی ہمارے درمیان ایک معاہدہ ہوا ہے، ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کیا کرے گا؟ ابو سفیان نے کہا کہ: مجھے اس بات کے علاوہ کوئی دوسری بات نہیں ملی جو میں آپ کی شان میں تنقیص کےلئےکہتا۔ ہر قل: کیا تم نے اس سے لڑائی کی ہے؟ ابو سفیان: جی ہاں۔ ہر قل:تمہاری اس سے لڑائی کا کیا نتیجہ نکلا؟ ابو سفیان: ہمارے درمیان جنگ برابر ہی رہی،کبھی انہوں نے نقصان پہنچایا،کبھی ہم نے۔ ہر قل: وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتا ہے؟ابو سفیان: وہ کہتا ہے کہ : اللہ وحدہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور تمہارے باپ دادا جو کہتے ہیں اسے چھوڑ دو، وہ ہمیں نماز پڑھنے، سچ بولنے، پاکدامنی اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ ہر قل نے ترجمان سے کہا: اس سے کہو: میں نے تم سے اس کے نسب کے بارے میں سوال کیا،تو تم نے کہا کہ: وہ ہم میں اچھے نسب والا ہے، رسول اسی طرح ہوتے ہیں، اپنی قوم کے اعلیٰ نسب میں مبعوث کئے جاتے ہیں۔ میں نے تم سے سوال کیا: کیا یہ بات تم میں سے کسی نے پہلے بھی کہی ہے؟ تو تم نے کہا کہ نہیں، میں نے سوچا اگر اس سے پہلے کسی نے یہ بات کہی ہوتی تو میں کہتا یہ شخص ایسے قول کی پیروی کر رہا ہے جو پہلے کہا جا چکا ہے۔ میں نے تم سے سوال کیا: کیا اس کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ گزرا ہے؟ تم نے کہا: نہیں میں نے سوچا اگر اس کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ گزرا ہوتا تو میں کہتا :ایسا شخص ہے جو اپنے بزرگوں کی بادشاہت کا متلاشی ہے۔ میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا یہ بات کہنے سے پہلے تم اس پر جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے؟ تم نے کہا: نہیں، مجھے معلوم ہوگیا کہ جو شخص لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کس طرح جھوٹ بول سکتا ہے۔ میں نے تم سے سوال کیا: طاقتور لوگوں نے اس کی پیروی کی یا کمزور لوگوں نے ؟تو تم نے کہا: کہ کمزور لوگوں نے اس کی پیروی کی اور یہی لوگ رسولوں کے پیروکار ہوتے ہیں۔ میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا یہ زیادہ ہو رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟ تو تم نے کہا :کہ یہ زیادہ ہورہے ہیں۔ ایمان کا معاملہ اسی طرح رہتا ہے جب تک مکمل نہ ہو جائے۔ میں نے تم سے سوال کیا: کیا کوئی شخص اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد ناراض ہو کر مرتد ہوا ہے؟ تو تم نے کہا کہ : نہیں۔ ایمان کا معاملہ اسی طرح ہوتا ہے، جب وہ دلوں کے میں رچ بس جاتا ہے، میں نے تم سے سوال کیا: کیا وہ وعدہ خلافی کرتا ہے؟تو تم نے کہا کہ: نہیں، رسول وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ میں نے تم سے سوال کیا: وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتا ہے ؟ تو تم نے کہا کہ: وہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ: تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور تمہیں بتوں کی عبادت سے منع کرتا ہے، تمہیں نماز، سچائی، پاکدامنی کا حکم دیتا ہے۔ اگر جو تم نے کہا ہے سچ ہے تو عنقریب وہ میرے قدموں کے نیچے والی جگہ( تخت) کا مالک ہوگا۔ مجھے یہ تو معلوم تھا کہ وہ آنے والا ہے لیکن یہ گمان نہیں تھا کہ وہ تم میں سے ہوگا۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میں اس کے پاس پہنچ جاؤں گا تو میں اس کی ملاقات کی کوشش و جستجو کرتا۔ اور اگر میں اس کے پاس ہوتا تو میں اس کے قدم دھوتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ خط منگوایا جسے دحیہ کلبی‌رضی اللہ عنہ نے والیٔ بصریٰ کی طرف بھیجا تھا۔ اس نے وہ خط ہر قل کے حوالے کیا، ہر قل نے اسے پڑھا تو اس میں لکھا تھا:بسم اللہ الرحمن الرحیم،محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے، ہر قل شاہ روم کی طرف۔ اس شخص پر سلام ہو جس نے ہدایت کی پیروی کی، اما بعد !میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں، اسلام لے آؤ، سلامت رہو گے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں دو گنا اجر دے گا، اگر تم نے منہ موڑ لیا تو تم پر رعایہ کا گناہ بھی ہوگا،﴿آل عمران:۶۴﴾ ”اے اہل کتاب ایسے کلمے کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابرہے کہ ہم اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔ پس اگر وہ پھر جائیں تو تم کہو کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں“۔ ابو سفیان نے کہا: جب اس نے یہ بات کہی اور خط سے فارغ ہوا تو اس کے پاس شور ہونے لگا اور آوازیں بلند ہونے لگیں۔ہمیں وہاں سے نکال دیا گیا، جب ہم باہر آگئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ابن ابی کبشہ کا معاملہ تو بہت بڑھ گیا ۔بنو اصفر کا بادشاہ بھی اس سے ڈرتا ہے، مجھے اس وقت یقین ہوگیا کہ وہ غالب ہو کر رہے گا۔ حتی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام میں داخل کر دیا۔ ابن ناظور- والیٔ ایلیا- اور ہر قل کا مصاحب شام کے عیسائیوں کا پادری بیان کرتا ہے کہ: ہر قل جب ایلیا پہنچا تو ایک صبح بوجھل طبیعت کے ساتھ اٹھا، اس کے درباریوں نے کہا: ہمیں آپ کی طبیعت ناساز لگتی ہے۔ ابن ناظور نے کہا: ہر قل ایک ماہر علم نجوم تھا، جب لوگوں نے اس سے سوال کیا تو اس نے کہا: آج رات میں نے ستاروں کی چال دیکھی تو میں نے دیکھا کہ ختنہ کرنے والوں کا بادشاہ غالب ہو گیا ہے، اس امت میں کون ختنہ کرتا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہودیوں کے علاوہ تو کوئی ختنہ نہیں کرتا۔ آپ کو ان کے ماملہ میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، ملک کے بڑے شہروں کے حکام کو لکھ لکھئے کہ جو یہودی وہاں ہیں انہیں قتل کر دیں، ابھی وہ اسی کشمکش میں تھے کہ ہرقل کے پاس ایک آدمی لایا گیا جسے غسان کے بادشاہ نے بھیجا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اطلاع دے رہا تھا۔ جب ہرقل نے اس سے پوچھا تو ہر قل نے کہا: اسے لے جاؤ اور دیکھو کہ کیا اس کا ختنہ ہو چکا ہے یا نہیں؟ اس کے سپاہیوں نے اسے دیکھا تو آکر بتایا کہ اس کا ختنہ ہو چکا ہے۔ ہر قل نے اس سے عرب کے لوگوں کے بارے میں پوچھا۔ تو اس نے کہا: وہ لوگ ختنہ کرتے ہیں۔ ہر قل نے کہا: یہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم )اس امت کا بادشاہ ہے جو ظاہر ہو چکا ہے۔ پھر ہر قل نے اپنے ایک دوست جو رومیہ میں تھا کی طرف لکھا وہ بھی علم نجوم میں ہر قل جیسا تھا اور ہر قل حمص کی طرف چلا گیا۔ ابھی ہر قل حمص نہیں پہنچا تھا کہ اس کے پاس اس کے دوست کا خط آیا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے متعلق ہر قل کی رائے کی موافقت کی گئی تھی۔ ہر قل نے حمص میں ایک بڑے ہال میں روم کے سرداروں کو بلایا، دروازے بند کرنے کا حکم دیا، پھر سامنے آکر کہنے لگا: اے روم کے لوگو! کیا تم بھلائی اور کامیابی چاہتے ہو اور یہ چاہتے ہو کہ تمہاری بادشاہت قائم ر ہے؟تو تم اس نبی کی پیروی کر لو۔ وہ جنگلی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف بھاگے، تو دیکھا کہ دروازے بند کئے جا چکے ہیں۔ جب ہر قل ان کی اس درجہ نفرت دیکھی اور ان کے ایمان لانے سے مایوس ہو گیا تو کہنے لگا: انہیں میری طرف واپس لاؤ اور کہنے لگا: ابھی میں نے یہ بات تمہارے امتحان کے لئے کہی تھی تاکہ میں تمہارے دین کی شدت کا اندازہ لگا سکوں۔ وہ میں نے دیکھ لی۔ وہ سب اس کے لئے سجدے میں گر پڑے اور اس سے خوش ہوگئے۔ یہ ہر قل کا آخر ی معاملہ تھا۔