مشکوۃ

Mishkat

لباس کا بیان

انگوٹھی کا بیان

بَاب الْخَاتم

وَعَن أُخْت لِحُذَيْفَة أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ أَمَا لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تُحَلَّيْنَ بِهِ؟ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُحَلَّى ذَهَبًا تُظْهِرُهُ إِلَّا عُذِّبَتْ بِهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

حذیفہ ؓ کی بہن سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ خواتین کی جماعت ! تمہیں کیا ہے کہ تم چاندی کا زیور نہیں بناتی ہو ، تم میں سے جو عورت سونے کا زیور بناتی ہے اور اسے ظاہر کرتی ہے تو اسے اس کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كانَ يمنعُ أهلَ الْحِلْيَةَ وَالْحَرِيرَ وَيَقُولُ: «إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ حِلْيَةَ الْجَنَّةِ وَحَرِيرَهَا فَلَا تَلْبَسُوهَا فِي الدُّنْيَا» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ زیورات اور ریشم زیب تن کرنے والوں کو منع کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے :’’ اگر تم جنت کا زیور اور اس کا ریشم پسند کرتے ہو تو تم اسے دنیا میں مت پہنو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ النسائی ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا فَلَبِسَهُ قَالَ: «شَغَلَنِي هَذَا عَنْكُمْ مُنْذُ الْيَوْمَ إِلَيْهِ نَظْرَةٌ وإِليكم نظرة» ثمَّ أَلْقَاهُ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انگوٹھی بنوائی اور اسے پہن لیا ، (پھر) فرمایا :’’ اس نے آج مجھے تم سے مشغول کر دیا ، میں ایک نظر اس کی طرف اور ایک نظر تمہاری طرف ڈالتا رہا ۔‘‘ پھر آپ نے اسے پھینک دیا ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔

وَعَن مَالك قَالَ: أَنا أكره ن يُلْبَسَ الْغِلْمَانُ شَيْئًا مِنَ الذَّهَبِ لِأَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نهى عَن التختمِ بالذهبِ فَأَنا أكره لِلرِّجَالِ الْكَبِيرِ مِنْهُمْ وَالصَّغِيرِ. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأِ

امام مالک بیان کرتے ہیں ، میں ناپسند کرتا ہوں کی بچوں کو سونے کی کوئی چیز پہنائی جائے ، کیونکہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے ، سو میں اسے مردوں کے لیے پہننا ناپسند کرتا ہوں خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے ۔ صحیح ، رواہ مالک فی الموطا ۔