مشکوۃ

Mishkat

لباس کا بیان

تصاویر کا بیان

بَاب التصاوير

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَتَلَ نَبِيًّا أَوْ قَتَلَهُ نَبِيٌّ أَوْ قَتَلَ أَحَدَ وَالِدَيْهِ وَالْمُصَوِّرُونَ وعالم لم ينْتَفع بِعِلْمِهِ»

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت ایسے شخص کو سب سے سخت عذاب ہو گا جس نے کسی نبی کو قتل کیا یا کسی نبی نے اسے قتل کیا ، یا کسی نے اپنے والدین میں سے کسی ایک کو قتل کیا ، نیز مصور اور ایسا عالم جس نے اپنے علم سے (عمل کے ذریعے) فائدہ حاصل نہ کیا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُول: الشطرنج هُوَ ميسر الْأَعَاجِم

علی ؓ سے روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے : شطرنج عجمیوں کا جوا ہے ۔ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ قَالَ: لَا يلْعَب بالشطرنج إِلَّا خاطئ

ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ اشعری ؓ نے فرمایا : خطاکار شخص ہی شطرنج کھیلتا ہے ۔ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

وَعنهُ أَن سُئِلَ عَنْ لَعِبِ الشَّطْرَنْجِ فَقَالَ: هِيَ مِنَ الْبَاطِلِ وَلَا يُحِبُّ اللَّهُ الْبَاطِلَ. رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْأَرْبَعَةَ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

ابن شہاب سے روایت ہے کہ ان سے شطرنج کھیلنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا : وہ باطل کھیلوں میں سے ہے جبکہ اللہ تعالیٰ باطل کو پسند نہیں کرتا ۔ یہ چاروں احادیث امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي دَارَ قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَدُونَهُمْ دَارٌ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْتِي دَارَ فُلَانٍ وَلَا تَأْتِي دَارَنَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِأَنَّ فِي دَارِكُمْ كَلْبًا» . قَالُوا: إِنَّ فِي دَارِهِمْ سِنَّوْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السِّنَّوْرُ سَبْعٌ» . رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ انصار کے ایک گھر میں تشریف لایا کرتے تھے ، جبکہ ان کے قریب ایک گھر تھا (آپ ان کے ہاں نہیں جایا کرتے تھے) ان پر یہ شاق گزرا تو انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ فلاں کے گھر تشریف لاتے ہیں اور ہمارے گھر تشریف نہیں لاتے ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کیونکہ تمہارے گھر میں کتا ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اور ان کے گھر میں بلا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بلا درندہ ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدار قطنی ۔