مشکوۃ

Mishkat

آداب کا بیان

بطورِ تعظیم کھڑے ہونے کا بیان

بَاب الْقيام

عَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَكَانَ قَرِيبًا مِنْهُ فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ: «قُومُوا إِلَى سيِّدكم» . مُتَّفق عَلَيْهِ. وَمَضَى الْحَدِيثُ بِطُولِهِ فِي «بَابِ حِكَمِ الْإِسْرَاءِ»

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، جب بنو قریظہ ، سعد ؓ کا فیصلہ قبول کرنے پر راضی ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے کسی کو ان کی طرف بھیجا ، اور وہ آپ کے قریب ہی تھے ، چنانچہ وہ ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے ، اور جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے انصار سے فرمایا :’’ اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو جاؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور یہ حدیث مکمل طور پر باب حکم الاسراء میں گزر چکی ہے ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کوئی آدمی کسی آدمی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر وہاں مت بیٹھے ، بلکہ وسعت و کشادگی پیدا کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ» . رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اپنی جگہ سے اٹھے اور وہ پھر وہیں واپس آ جائے تو اس جگہ کا وہی زیادہ حق دار ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

عَن أنس بن مَالك قَالَ: لَمْ يَكُنْ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَمْ يَقُومُوا لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ کرام ؓ کو رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کوئی شخص زیادہ محبوب نہیں تھا ، اس کے باوجود جب وہ آپ کو دیکھتے تو وہ کھڑے نہیں ہوتے تھے ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ ﷺ اسے ناپسند کرتے ہیں ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

وَعَن مُعَاوِيَة قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَتَمَثَّلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد

معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کو یہ پسند ہو کہ لوگ اس کے سامنے کھڑے رہیں تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

وَعَن أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى عَصًا فَقُمْنَا فَقَالَ: «لَا تَقُومُوا كَمَا يَقُومُ الْأَعَاجِمُ يُعَظِّمُ بَعْضهَا بَعْضًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ لاٹھی کا سہارا لے کر باہر تشریف لائے تو ہم آپ کی خاطر کھڑے ہو گئے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم ایسے نہ کھڑے ہوا کرو جیسے عجمی لوگ ایک دوسرے کی تعظیم میں کھڑے ہوتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَن سعيد بن أبي الْحسن قَالَ: جَاءَنَا أَبُو بكرَة فِي شَهَادَةٍ فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ فَأَبَى أَنْ يَجْلِسَ فِيهِ وَقَالَ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ذَا وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْسَحَ الرَّجُلُ يَدَهُ بِثَوْبِ مَنْ لَمْ يَكْسُهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

سعید بن ابوالحسن ؒ بیان کرتے ہیں ، ابوبکرہ ؓ گواہی کے سلسلہ میں ہمارے پاس آئے تو ایک آدمی ان کی خاطر اپنی جگہ سے اٹھ کھرا ہوا ، انہوں نے وہاں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے ، اور نبی ﷺ نے اس سے بھی منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص ایسے آدمی کے کپڑے سے اپنا ہاتھ صاف کرے جو اس نے اسے نہیں پہنایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَن أبي الدرداءِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جلس - جلسنا حوله - فَأَرَادَ الرُّجُوعَ نَزَعَ نَعْلَهُ أَوْ بَعْضَ مَا يَكُونُ عَلَيْهِ فَيَعْرِفُ ذَلِكَ أَصْحَابُهُ فَيَثْبُتُونَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ بیٹھ جاتے تو ہم آپ کے اردگرد بیٹھ جاتے تھے ، پھر آپ کھڑے ہوتے اور آپ کا واپس آنے کا ارادہ ہوتا تو آپ اپنا جوتا اتار کر یا اپنی کوئی چیز وہاں رکھ جاتے جس سے صحابہ سمجھ جاتے (کہ آپ ﷺ واپس آئیں گے) اور وہ وہیں بیٹھے رہتے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَن عبد الله بن عَمْرو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ

عبداللہ بن عمرو ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان ، ان کی اجازت کے بغیر علیحدگی پیدا کرے (اور خود ان دونوں کے درمیان بیٹھ جائے) ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَجْلِسْ بَيْنَ رَجُلَيْنِ إِلَّا بإِذنهما» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر مت بیٹھو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ مَعَنَا فِي الْمَسْجِدِ يُحَدِّثُنَا فَإِذَا قَامَ قُمْنَا قِيَامًا حَتَّى نَرَاهُ قد دخل بعض بيُوت أَزوَاجه

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ہمارے ساتھ مسجد میں تشریف رکھتے اور ہمارے ساتھ گفتگو فرمایا کرتے تھے ، اور جب آپ کھڑے ہوتے تو ہم دیر تک کھڑے رہتے حتی کہ ہم آپ کو دیکھتے کہ آپ اپنی کسی زوجہ محترمہ کے گھر داخل ہو جاتے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

وَعَن وَاثِلَة بن الخطابِ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ قَاعِدٌ فَتَزَحْزَحَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فِي الْمَكَانِ سَعَةً. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلْمُسْلِمِ لَحَقًّا إِذَا رَآهُ أَخُوهُ أَنْ يَتَزَحْزَحَ لَهُ» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان»

واثلہ بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، جبکہ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے ، رسول اللہ ﷺ اس کی خاطر اپنی جگہ سے ہٹ گئے تو آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! جگہ تو کافی ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک مسلمان کا حق ہے کہ جب اس کا بھائی اسے دیکھے تو وہ اس کے لیے (اپنی جگہ سے کچھ) ہٹ جائے ۔‘‘ امام بیہقی نے دونوں احادیث شعب الایمان میں ذکر کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔