مشکوۃ

Mishkat

آداب کا بیان

بیٹھنے ، سونے اور چلنے کا بیان

بَاب الْجُلُوس وَالنَّوْم وَالْمَشْي

وَعَن أبي أُسيد الأنصاريِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ خَارِجٌ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاخْتَلَطَ الرجالُ مَعَ النِّسَاء فِي الطَّرِيق فَقَالَ النِّسَاء: «اسْتَأْخِرْنَ فَإِنَّهُ لَيْسَ لَكُنَّ أَنْ تُحْقِقْنَ الطَّرِيقَ عَلَيْكُنَّ بِحَافَاتِ الطَّرِيقِ» . فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تَلْصَقُ بِالْجِدَارِ حَتَّى إِنَّ ثَوْبَهَا لَيَتَعَلَّقُ بِالْجِدَارِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»

ابواسید انصاری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جبکہ آپ مسجد سے باہر تشریف لا رہے تھے ، راستے میں مرد عورتوں کے ساتھ شامل ہو گئے ، آپ ﷺ نے عورتوں سے فرمایا :’’ راستے کے ایک طرف چلو ، تمہیں راستے کے وسط میں چلنے کا کوئی حق نہیں ، لہذا تم راستے کے کناروں پر چلو ۔‘‘ چنانچہ (یہ حکم سن کر) عورت (چلتے وقت) دیوار کے ساتھ لگ جاتی تھی حتی کہ اس کا کپڑا دیوار کے ساتھ اٹک جاتا تھا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم نهى أنْ يمشيَ - يَعْنِي الرجلٌ - بَين المرأتينِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے منع فرمایا کہ آدمی دو عورتوں کے درمیان چلے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَن جابرِ بن سمرةَ قَالَ: كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَذكر حَدِيثا عبد الله بن عَمْرٍو فِي «بَابِ الْقِيَامِ» وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ عَلِيٍّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ فِي «بَابِ أَسْمَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ» إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى

جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو ہم میں سے ہر شخص کو جہاں جگہ ملتی وہ وہیں بیٹھ جاتا تھا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔ اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے مروی دو حدیثیں باب القیام میں ذکر کی گئی ہیں ، اور علی و ابوہریرہ ؓ سے مروی دو حدیثیں ہم ان شاء اللہ تعالیٰ باب اسماء النبی ﷺ و صفاتہ میں ذکر کریں گے ۔

عَن عمْرِو بن الشَّريدِ عَن أبيهِ قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جَالِسٌ هَكَذَا وَقَدْ وَضَعْتُ يَدِي الْيُسْرَى خَلْفَ ظَهْرِي وَاتَّكَأْتُ عَلَى أَلْيَةِ يَدِي. قَالَ: «أَتَقْعُدُ قِعْدَةَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عمرو بن شرید اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی پشت کے پیچھے رکھا ہوا تھا اور دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کی جڑ کے پاس جو گوشت ہے اس پر ٹیک لگائی تھی ، اسی حالت میں رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : کیا تم ان لوگوں کی طرح بیٹھتے ہو جن پر غضب ہوا (یعنی یہود) ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَن أبي ذرِّ قَالَ: مرَّ بِي النبيُّ وَأَنَا مُضْطَجِعٌ عَلَى بَطْنِي فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ: «يَا جُنْدُبُ إِنَّمَا هِيَ ضِجْعَةُ أَهْلِ النَّارِ» . رَوَاهُ ابنُ مَاجَه

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ میرے پاس سے گزرے جبکہ میں اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا ۔ آپ ﷺ نے اپنے پاؤں سے مجھے چونکا مارا اور فرمایا :’’ جندب ! یہ تو جہنمیوں کا سا لیٹنا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔