مشکوۃ

Mishkat

آداب کا بیان

ہنسنے کا بیان

بَاب الضحك

عَن عائشةرضي اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ إِنَّمَا كَانَ يتبسم. رَوَاهُ البُخَارِيّ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو کھلکھلا کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ میں آپ کے حلق کا کوا دیکھ سکوں ، آپ تو صرف مسکرایا کرتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَن جرير قَالَ: مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ. مُتَّفق عَلَيْهِ

جریر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے جب سے اسلام قبول کیا ہے ، نبی ﷺ نے مجھے (مجلس میں آنے سے) منع نہیں کیا اور آپ جب بھی مجھے دیکھتے تو مسکراتے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّة فيضحكون ويبتسم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَة لِلتِّرْمِذِي: يتناشدون الشِّعْرَ

جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ جس جگہ نماز پڑھتے تو وہاں سے طلوعِ آفتاب تک نہیں اٹھتے تھے ، اور جب سورج طلوع ہو جاتا تو آپ کھڑے ہوتے ، اور (اس دوران) صحابہ کرام ؓ باتیں کرتے اور اُمورِ جاہلیت پر گفتگو کیا کرتے اور ہنستے تھے جبکہ آپ ﷺ فقط تبسم فرمایا کرتے تھے ۔ اور ترمذی کی روایت میں ہے : وہ شعر پڑھا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم و الترمذی ۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ تَبَسُّمًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

عبداللہ بن حارث بن جزء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کسی کو مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

عَن قتادةَ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ: هَلْ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُونَ؟ قَالَ: نَعَمْ وَالْإِيمَانُ فِي قُلُوبِهِمْ أَعْظَمُ مِنَ الْجَبَلِ. وَقَالَ بِلَالُ بْنُ سَعْدٍ: أَدْرَكْتُهُمْ يَشْتَدُّونَ بَيْنَ الْأَغْرَاضِ وَيَضْحَكُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَإِذَا كَانَ اللَّيْلُ كَانُوا رُهْبَانًا. رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السّنة»

قتادہ ؒ بیان کرتے ہیں ، ابن عمر ؓ سے دریافت کیا گیا : کیا رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ہنسا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ! اور ان کے دلوں میں ایمان پہاڑ سے بھی زیادہ عظیم تھا ۔ اور بلال بن سعد ؒ بیان کرتے ہیں ، وہ تیر اندازی کرتے تھے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنستے تھے ، اور جب رات ہو جاتی تو وہ راہب (یعنی تارک دنیا) بن جاتے تھے (اللہ کی عبادت میں مصروف ہو جاتے تھے) ۔ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔