TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب الْأَسَامِي ناموں کا بیان

Chapter 8 of آداب کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 22 · 33 Hadith
وَعَنْ جَابِرٌ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «إِذَا سَمَّيْتُمْ بِاسْمِي فَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: «مَن تسمَّى باسمي فَلَا يَكْتَنِ بِكُنْيَتِي وَمَنْ تَكَنَّى بِكُنْيَتِي فَلَا يَتَسَمَّ باسمي»
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میرے نام پر نام رکھو تو پھر میری کنیت پر کنیت مت رکھو ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور ابوداؤد کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ جس نے میرے نام پر نام رکھا تو وہ میری کنیت نہ رکھے ، اور جس نے میری کنیت پر کنیت رکھی تو وہ میرے نام پر نام نہ رکھے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و ابوداؤد ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الترمذی (۲۸۴۲) و ابن ماجہ (۳۵۳۵) و ابوداؤد (۴۹۶۶) ۔
4770
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وَلَدْتُ غُلَامًا فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا وَكَنَّيْتُهُ أَبَا الْقَاسِمِ فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ تَكْرَهُ ذَلِكَ. فَقَالَ: «مَا الَّذِي أَحَلَّ اسْمِي وَحرم كنيتي؟ أَو ماالذي حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي؟» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَقَالَ محيي السّنة: غَرِيب
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام محمد اور اس کی کنیت ابوالقاسم رکھی ہے ، لیکن مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ اسے ناپسند فرماتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کون ہے وہ جس نے حلال قرار دیا میرا نام رکھنا اور حرام کیا میری کنیت رکھنا ، یا کون ہے وہ جس نے حرام کیا میری کنیت رکھنا اور حلال کیا میرا نام رکھنا ؟‘‘ ابوداؤد ، اور محی السنہ ؒ نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۴۹۶۸) * فیہ محمد بن عمران الحجبی : مستور ۔
4771
Zaeef
وَعَن مُحَمَّد بن الحنفيَّةِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وُلِدَ لِي بَعْدَكَ وَلَدٌ أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
محمد بن حنفیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں اگر آپ کے بعد میرے ہاں بچہ پیدا ہو تو میں آپ کے نام پر اس کا نام اور آپ کی کنیت پر اس کی کنیت رکھ لوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۴۹۶۷) ۔
4772
Sahih
وَعَن أنس قَالَ: كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْه. وَفِي «المصابيح» صَححهُ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ایک بوٹی چنا کرتا تھا ، تو رسول اللہ ﷺ نے اس پر میری کنیت (ابوحمزہ) رکھی ۔ اسے ترمذی نے بیان کیا اور فرمایا : اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں ، اور مصابیح میں ہے کہ اس نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی (۳۸۳۰ ولم یصححہ فی نسختنا ، بل قال : غریب) و ذکرہ البغوی فی مصابیح السنۃ (۳ / ۳۰۷ ح ۳۷۰۸) * فیہ جابر الجعفی : ضعیف رافضی مدلس و شیخہ ابو نصر خیثمۃ بن ابی خیثمۃ : لین الحدیث ۔
4773
Zaeef
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ كَانَ يُغَيِّرُ الِاسْم الْقَبِيح. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، کہ نبی ﷺ بُرا نام تبدیل کر دیا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الترمذی (۲۸۳۹)
4774
Sahih
وَعَن بشير بن مَيْمُون عَن أُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ أصْرمُ كانَ فِي النَّفرِ الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا اسْمك؟» قَالَ: «بَلْ أَنْتَ زُرْعَةُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
بشیر بن میمون اپنے چچا اسامہ بن اخدری سے روایت کرتے ہیں کہ اصرم نامی ایک آدمی ان لوگوں میں شامل تھا جو رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تھے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارا نام کیا ہے ؟‘‘ اس نے کہا : اصرم ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ تم زرعہ ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۴۹۵۴) ۔
4775
Sahih
وَقَالَ: وَغَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْم الْعَاصِ وعزير وَعَتَلَةَ وَشَيْطَانٍ وَالْحَكَمِ وَغُرَابٍ وَحُبَابٍ وَشِهَابٍ وَقَالَ: تركت أسانيدها للاختصار
اور ابوداؤد نے کہا ، اور نبی ﷺ نے عاص ، عزیز ، عتلہ ، شیطان ، حکم ، غراب ، حباب اور شہاب نام بدل دیے تھے ، اور انہوں نے کہا : میں نے اختصار کی خاطر ان کی اسناد بیان نہیں کیں ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۴۹۵۶) ۔
4776
Sahih
وَعَن أبي مسعودٍ الأنصاريِّ قَالَ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ أَوْ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لِأَبِي مَسْعُودٍ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي (زَعَمُوا) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: إِنَّ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ حُذَيْفَة
ابومسعود انصاری ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے ابو عبداللہ سے یا ابو عبداللہ نے ابو مسعود سے کہا : تم نے لفظ ’’زَعَمُوْا‘‘ (لوگوں کا خیال ہے) کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کو کیا فرماتے ہوئے سنا ؟ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سُنا :’’ آدمی کا ایسے انداز میں گفتگو کرنا بُرا ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، اور انہوں نے کہا : ابو عبداللہ سے مراد حذیفہ ہیں ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۴۹۷۲) ۔
4777
Sahih
وَعَنْ حُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ فُلَانٌ وَلَكِنْ قُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شَاءَ فلَان . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد
حذیفہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یوں نہ کہا کرو : جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے ، بلکہ یوں کہو : جو اللہ چاہے ، پھر فلاں چاہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ احمد (۵ / ۳۸۴ ح ۲۳۶۵۴) و ابوداؤد (۴۹۸۰) ۔
4778
Sahih
وَفِي رِوَايَةٍ مُنْقَطِعًا قَالَ: لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ وَقُولُوا مَا شَاءَ اللَّهُ وحْدَه «. رَوَاهُ فِي» شرح السّنة
اور ایک منقطع روایت میں ہے ، فرمایا :’’ یوں نہ کہا کرو : جو اللہ چاہے اور جو محمد (ﷺ) چاہے ، بلکہ یوں کہا کرو : کو اکیلا اللہ چاہے ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Takhreej
حسن ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۱۲ / ۳۶۱ بعد ح ۳۳۸۹ بدون سند وقال : باسناد منقطع) * و للحدیث شواھد منھا الحدیث السابق (۴۷۷۸) و شاھد آخر عند ابن ماجہ (۲۱۱۷) و النسائی فی عمل الیوم و اللیلۃ (۹۸۸ ، السنن الکبری : ۱۰۸۲۵) و سندہ حسن ۔
4779
Sahih
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَقُولُوا لِلْمُنَافِقِ سَيِّدٌ فَإِنَّهُ إِنْ يَكُ سَيِّدًا فَقَدْ أَسْخَطْتُمْ رَبَّكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
حذیفہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ منافق کے لیے لفظِ سیّد (آقا) نہ کہو ، کیونکہ اگر وہ سیّد (سردار ، آقا) ہے تو تم نے اپنے رب کو ناراض کر دیا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۴۹۷۷) * قتادۃ مدلس و عنعن و لحدیثہ شاھد ضعیف عند الحاکم (۴ / ۳۱۱) ۔
4780
Zaeef
عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ فَحَدَّثَنِي أَنَّ جَدَّهُ حَزْنًا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا اسْمُكَ؟» قَالَ: اسْمِي حَزْنٌ قَالَ: «بَلْ أَنْتَ سَهْلٌ» قَالَ: مَا أَنَا بِمُغَيِّرٍ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي. قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ: فَمَا زَالَتْ فِينَا الْحُزُونَةُ بَعْدُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
عبد الحمید بن جبیر بن شیبہ بیان کرتے ہیں ، میں سعید بن مسیّب کے پاس بیٹھا تھا ، انہوں نے مجھے حدیث بیان کی کہ ان کے دادا حزن ، نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا :’’ تمہارا نام کیا ہے ؟‘‘ اس نے کہا : میرا نام حزن ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ (نہیں) بلکہ تم سہل ہو ۔‘‘ اس نے کہا : میں اپنے والد کے رکھے ہوئے نام کو تبدیل نہیں کروں گا ، ابن مسیّب نے فرمایا : اس کے بعد ہم میں ’’حزونت‘‘ (سختی) برقرار رہی ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۶۱۹۰) ۔
4781
Sahih
وَعَنْ أَبِي وَهَبٍ الْجُشَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَسَمُّوا أَسْمَاءَ الْأَنْبِيَاءِ وَأَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَصْدَقُهَا حَارِثٌ وهمامٌ أقبحها حربٌ ومُرَّة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابووہب جشمی بیان کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ انبیاء ؑ کے ناموں پر نام رکھا کرو ، اللہ کے ہاں پسندیدہ نام عبداللہ اور عبد الرحمن ہیں ، سب سے سچا نام حارث اور ہمام ہے جبکہ سب سے قبیح نام حرب اور مرہ ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۴۹۵۰) [و النسائی (۳۵۹۵)] * فیہ عقیل : مجھول ۔
4782
Zaeef

Chapters

22
01
بَاب السَّلَام
سلام کا بیان
39 Hadith
02
بَاب الاسْتِئْذَان
اجازت طلب کرنے کا بیان
10 Hadith
03
بَاب المصافحة والمعانقة
مصافحہ اور معانقہ کا بیان
18 Hadith
04
بَاب الْقيام
بطورِ تعظیم کھڑے ہونے کا بیان
12 Hadith
05
بَاب الْجُلُوس وَالنَّوْم وَالْمَشْي
بیٹھنے ، سونے اور چلنے کا بیان
25 Hadith
06
[6] بَاب العطاس والتثاؤب
چھینک مارنے اور جمائی لینے کا بیان
13 Hadith
07
بَاب الضحك
ہنسنے کا بیان
5 Hadith
08
بَاب الْأَسَامِي
ناموں کا بیان
33 Hadith
09
بَاب الْبَيَان وَالشعر
بیان و شعر کا بیان
29 Hadith
10
بَابُ حِفْظِ اللِّسَانِ
حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
66 Hadith
11
بَاب الْوَعْد
وعدے کا بیان
6 Hadith
12
بَاب المزاح
مزاح (خوش طبعی) کا بیان
9 Hadith
13
بَاب الْمُفَاخَرَة
مفاخرت اور عصبیت کا بیان
18 Hadith
14
بَاب الْبر والصلة
حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا بیان
36 Hadith
15
بَابُ الشَّفَقَةِ وَالرَّحْمَةِ
مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
56 Hadith
16
بَابُ الْحُبِّ فِي
اللہ کے لیے اور اللہ کی طرف سے محبت کا بیان
24 Hadith
17
بَابُ مَا يُنْهَى
ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان
26 Hadith
18
بَابُ الْحَذَرِ وَالتَّأَنِّي
معاملات میں احتیاط و تحمل اختیار کرنے کا بیان
15 Hadith
19
بَابُ الرِّفْقِ وَالْحَيَاءِ
نرمی ، حیا اور حسن خلق کا بیان
36 Hadith
20
بَاب الْغَضَب وَالْكبر
غصے اور تکبر کا بیان
19 Hadith
21
بَاب الظُّلم
ظلم کا بیان
14 Hadith
22
بَاب الْأَمر بِالْمَعْرُوفِ
نیکی کا حکم دینے کا بیان
18 Hadith
No chapter matched that.