مشکوۃ

Mishkat

آداب کا بیان

بیان و شعر کا بیان

بَاب الْبَيَان وَالشعر

وَعَن عمْرِو بن العاصِ أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا وَقَامَ رَجُلٌ فَأَكْثَرَ الْقَوْلَ. فَقَالَ عَمْرٌو: لَوْ قَصَدَ فِي قَوْلِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَقَدْ رَأَيْتُ - أَوْ أُمِرْتُ - أَنْ أَتَجَوَّزَ فِي الْقَوْلِ فَإِنَّ الْجَوَازَ هُوَ خير» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک روز فرمایا ایک آدمی کھڑا ہوا تو اس نے (اظہارِ فصاحت کے لیے) بات کو طول دیا تو عمرو ؓ نے فرمایا : اگر یہ بات کرتے وقت میانہ روی اختیار کرتا تو اس کے لیے بہتر ہوتا ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میں نے جانا یا مجھے حکم دیا گیا کہ میں بات میں اختصار کروں ، کیونکہ اختصار بہتر ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَن أَبِيه عَن جدِّه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا وَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ جَهْلًا وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا وَإِنَّ مِنَ الْقَوْلِ عِيَالًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

صخر بن عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک بعض بیان جادو جیسا اثر رکھتے ہیں ، بعض علم جہالت ہوتے ہیں ، بعض شعر حکمت ہوتے ہیں اور بعض قول بوجھ ہوتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ يَقُومُ عَلَيْهِ قَائِمًا يُفَاخِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أوينافح. وَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ حَسَّانَ بِرُوحِ الْقُدُسِ مَا نَافَحَ أَوْ فَاخَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ ، حسان ؓ کے لیے مسجد میں منبر رکھواتے ، وہ اس پر کھڑے ہو کر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے فخر کرتے یا آپ ﷺ کا دفاع کرتے ، اور رسول اللہ ﷺ فرماتے :’’ بے شک اللہ جبریل ؑ کے ذریعے حسان کی مدد فرماتا ہے جب تک وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے دفاع کرتا ہے یا فخر کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ البخاری تعلیقا ۔

وَعَن أنسٍ قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ حَادٍ يُقَالُ لَهُ: أَنْجَشَةُ وَكَانَ حَسَنَ الصَّوْتِ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ» . قَالَ قَتَادَةُ: يَعْنِي ضَعْفَةَ النِّسَاءِ. مُتَّفق عَلَيْهِ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک شخص آپ کا حدی خوان تھا اسے انجشہ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا ، اس کی آواز بہت اچھی تھی ، نبی ﷺ نے اسے فرمایا :’’ انجشہ ! ٹھہرو ٹھہرو ، شیشوں کو مت چور کرو ۔‘‘ قتادہ ؒ نے فرمایا : آپ نے یہ خواتین کی نزاکت کے پیش نظر فرمایا تھا ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّعْرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ كَلَامٌ فَحَسَنُهُ حَسَنٌ وَقَبِيحُهُ قَبِيحٌ» . رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے پاس شعر ذکر کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ ایک کلام ہے ، اس میں سے جو اچھا ہے وہ اچھا ہے اور جو بُرا ہے وہ بُرا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارقطنی ۔

وروى الشَّافِعِي عَن عُرْوَة مُرْسلا

امام شافعی ؒ نے اسے عروہ سے مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الشافعی ۔

وَعَن أبي سعيدٍ الخدريِّ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالعرج إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذُوا الشَّيْطَانَ أَوْ أَمْسِكُوا الشَّيْطَانَ لِأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (یمن کے علاقے) عرج میں سفر کر رہے تھے کہ ایک شاعر سامنے آیا اور وہ اشعار کہنے لگا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ (اس) شیطان کو پکڑو ۔‘‘ یا فرمایا :’’ (اس) شیطان کو (شعر کہنے سے) روکو ، یہ کہ کسی آدمی کے پیٹ کا پیپ سے بھرنا اس کے لیے شعر کے ساتھ بھرنے سے بہتر ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغِنَاءُ يُنْبِتُ النِّفَاقَ فِي الْقَلْبِ كَمَا يُنْبِتُ الْمَاءُ الزَّرْعَ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان»

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ گانا دل میں نفاق پیدا کر دیتا ہے جس طرح پانی کھیتی اگا دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي طَرِيقٍ فَسَمِعَ مِزْمَارًا فَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَنَاءَ عَنِ الطَّرِيقِ إِلَى الْجَانِبِ الْآخَرِ ثُمَّ قَالَ لِي بَعْدَ أَنْ بَعُدَ: يَا نَافِعُ هَلْ تسمعُ شَيْئا؟ قلتُ: لَا فرفعَ أصبعيهِ عَن أُذُنَيْهِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ صَوْتَ يَرَاعٍ فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ. قَالَ نَافِعٌ: فَكُنْتُ إِذْ ذَاكَ صَغِيرًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ

نافع بیان کرتے ہیں ، میں ابن عمر ؓ کے ساتھ ایک راستے میں تھا تو انہوں نے بانسری کی آواز سنی ، تو انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈال لیں ، اور وہ راستے میں دوسری جانب ہٹ گئے ، پھر دور جا کر مجھے فرمایا : نافع ! کیا تم کچھ سن رہے ہو ؟ میں نے کہا : نہیں ، انہوں نے کانوں سے انگلیاں نکالیں اور فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا آپ نے بانسری کی آواز سنی ، تو آپ نے ایسے ہی کیا تھا جیسے میں نے کیا ، نافع نے کہا : میں تب چھوٹا تھا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔