عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک روز فرمایا ایک آدمی کھڑا ہوا تو اس نے (اظہارِ فصاحت کے لیے) بات کو طول دیا تو عمرو ؓ نے فرمایا : اگر یہ بات کرتے وقت میانہ روی اختیار کرتا تو اس کے لیے بہتر ہوتا ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میں نے جانا یا مجھے حکم دیا گیا کہ میں بات میں اختصار کروں ، کیونکہ اختصار بہتر ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
صخر بن عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک بعض بیان جادو جیسا اثر رکھتے ہیں ، بعض علم جہالت ہوتے ہیں ، بعض شعر حکمت ہوتے ہیں اور بعض قول بوجھ ہوتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ ، حسان ؓ کے لیے مسجد میں منبر رکھواتے ، وہ اس پر کھڑے ہو کر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے فخر کرتے یا آپ ﷺ کا دفاع کرتے ، اور رسول اللہ ﷺ فرماتے :’’ بے شک اللہ جبریل ؑ کے ذریعے حسان کی مدد فرماتا ہے جب تک وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے دفاع کرتا ہے یا فخر کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ البخاری تعلیقا ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک شخص آپ کا حدی خوان تھا اسے انجشہ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا ، اس کی آواز بہت اچھی تھی ، نبی ﷺ نے اسے فرمایا :’’ انجشہ ! ٹھہرو ٹھہرو ، شیشوں کو مت چور کرو ۔‘‘ قتادہ ؒ نے فرمایا : آپ نے یہ خواتین کی نزاکت کے پیش نظر فرمایا تھا ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے پاس شعر ذکر کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ ایک کلام ہے ، اس میں سے جو اچھا ہے وہ اچھا ہے اور جو بُرا ہے وہ بُرا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارقطنی ۔
وروى الشَّافِعِي عَن عُرْوَة مُرْسلا
امام شافعی ؒ نے اسے عروہ سے مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الشافعی ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (یمن کے علاقے) عرج میں سفر کر رہے تھے کہ ایک شاعر سامنے آیا اور وہ اشعار کہنے لگا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ (اس) شیطان کو پکڑو ۔‘‘ یا فرمایا :’’ (اس) شیطان کو (شعر کہنے سے) روکو ، یہ کہ کسی آدمی کے پیٹ کا پیپ سے بھرنا اس کے لیے شعر کے ساتھ بھرنے سے بہتر ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ گانا دل میں نفاق پیدا کر دیتا ہے جس طرح پانی کھیتی اگا دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
نافع بیان کرتے ہیں ، میں ابن عمر ؓ کے ساتھ ایک راستے میں تھا تو انہوں نے بانسری کی آواز سنی ، تو انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈال لیں ، اور وہ راستے میں دوسری جانب ہٹ گئے ، پھر دور جا کر مجھے فرمایا : نافع ! کیا تم کچھ سن رہے ہو ؟ میں نے کہا : نہیں ، انہوں نے کانوں سے انگلیاں نکالیں اور فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا آپ نے بانسری کی آواز سنی ، تو آپ نے ایسے ہی کیا تھا جیسے میں نے کیا ، نافع نے کہا : میں تب چھوٹا تھا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔