ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ تر لوگوں کو جنت میں داخل کرے گی ؟ (پھر فرمایا) اللہ کا تقوی اور حسن خلق ، کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ تر لوگوں کو جہنم میں داخل کرے گی ؟ (پھر فرمایا) دو چیزیں ، منہ اور شرم گاہ ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
بلال بن حارث ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک آدمی بھلائی کی بات کرتا ہے اور وہ اس کی قدر و منزلت سے آگاہ نہیں ہوتا جس کے بدلہ میں اللہ اس شخص کے لیے روزِ قیامت تک اپنی رضا لکھ دیتا ہے ، اور بے شک آدمی کوئی بُری بات کر دیتا ہے اور وہ اس کی بھی اہمیت نہیں جانتا تو اس کی وجہ سے اللہ روزِ قیامت تک کے لیے اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے ۔‘‘ شرح السنہ ۔ اور امام مالک ، ترمذی اور ابن ماجہ نے اسی کی مثل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ فی شرح السنہ و مالک و الترمذی و ابن ماجہ ۔
بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس شخص کے لیے ہلاکت ہے جو بات کرتے وقت جھوٹ بولتا ہے تا کہ وہ اس کے ذریعے لوگوں کو ہنسائے ، تو اس کے لیے ہلاکت ہے ، اس کے لیے ہلاکت ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک بندہ محض لوگوں کو ہنسانے کے لیے بات کرتا ہے اور وہ اس کی وجہ سے زمین و آسمان کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ دور جہنم میں گر جاتا ہے ، اور وہ اپنے پاؤں کی طرف سے پھسلنے سے اتنا نہیں پھسلتا جتنا کہ وہ زبان کے پھسلنے سے پھسلتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے خاموشی اختیار کی اس نے نجات پائی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و الدارمی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی اور میں نے عرض کیا ، نجات کا باعث کیا چیز ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنی زبان پر قابو رکھ ، تیرا گھر تیرے لیے کافی ہونا چاہیے ، اور اپنی خطاؤں پر رویا کر ۔‘‘ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔
ابوسعید ؓ نے اس حدیث کو مرفوع روایت کیا ہے ، فرمایا :’’ جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو سارے اعضاء زبان سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے (حقوق کے تحفظ کے) بارے میں اللہ سے ڈرنا ، کیونکہ ہم تیرے رحم و کرم پر ہیں ، اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
علی بن حسین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ غیر متعلقہ (فضول باتوں) کو چھوڑ دے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ مالک و احمد ۔
وَرَوَاهُ ابْن مَاجَه عَن أبي هُرَيْرَة
امام ابن ماجہ نے اسے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
وَالتِّرْمِذِيّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان» عَنْهُمَا
امام ترمذی اور بیہقی نے شعب الایمان میں اسے ان دونوں (علی بن حسین ؓ اور ابوہریرہ ؓ) سے روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ ؓ میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا تو ایک آدمی نے کہا : جنت کی بشارت ہو ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم نہیں جانتے کہ شاید اس نے کسی غیر متعلقہ چیز کے بارے میں بات کی ہو یا کسی ایسی چیز میں بخل کیا ہو جو اس میں کمی نہیں کر سکتی تھی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کو میرے بارے میں سب سے زیادہ کس چیز کا اندیشہ ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : آپ ﷺ نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا :’’ اس کا ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس کی بدبو کی وجہ سے فرشتہ اس (بندے) سے ایک میل دور چلا جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
سفیان بن اسد حضرمی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بڑی خیانت یہ ہے کہ تو اپنے (مسلمان) بھائی سے کوئی بات کرے ، وہ اس میں تمہیں سچا جانتا ہو جبکہ تو اس سے جھوٹ بول رہا ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عمار ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص دنیا میں دوغلہ ہو گا تو روزِ قیامت اس کی زبان آگ کی ہو گی ۔‘‘ حسن ، رواہ الدارمی ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن نہ تو طعن کرنے والا ہوتا ہے اور نہ لعنت کرنے والا ، نہ وہ فحش گو ہوتا ہے اور نہ زبان دراز ۔‘‘ ترمذی ، بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور بیہقی کی دوسری روایت میں ہے ’’ نہ وہ فحش گوئی کرنے والا ہوتا ہے اور نہ زبان درازی کرنے والا ۔‘‘ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن لعنت کرنے والا نہیں ہوتا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ مومن کے لیے مناسب نہیں کہ وہ لعنت کرنے والا ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک دوسرے کو ایسے نہ کہو : تم پر اللہ کی لعنت ہو ، تم پر اللہ کا غضب ہو اور تم جہنم میں جاؤ ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ ایسے بھی نہ کہو : تم (جہنم کی) آگ میں جاؤ ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب بندہ کسی چیز پر لعنت بھیجتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی طرف چڑھتی ہے ، تو اس کے پہنچنے سے پہلے آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ، پھر وہ زمین کی طرف اترتی ہے ، اس کے دروازے بھی بند کر دیے جاتے ہیں ، پھر وہ دائیں بائیں جاتی ہے ، جب وہ کوئی راستہ نہیں پاتی تو وہ اس شخص کی طرف جاتی ہے جس پر لعنت کی گئی تھی ، بشرطیکہ وہ اس کا مستحق ہو ورنہ وہ کہنے والے کی طرف لوٹ آتی ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہوا نے ایک آدمی کی چادر اڑا دی تو اس نے اس پر لعنت کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس پر لعنت نہ بھیجو کیونکہ وہ تو حکم کی پابند ہے ، اور جو شخص کسی چیز پر لعنت بھیجتا ہے ، جبکہ وہ اس کی مستحق نہیں ہوتی تو پھر وہ لعنت اسی شخص پر لوٹ آتی ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔