مشکوۃ

Mishkat

آداب کا بیان

اللہ کے لیے اور اللہ کی طرف سے محبت کا بیان

بَابُ الْحُبِّ فِي


وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ وَإِمَّا أَنْ تبتاعَ مِنْهُ وإِمَّا أَن تجدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يَحْرِقَ ثيابَكَ وإِمَّا أنْ تجدَ مِنْهُ ريحًا خبيثةً» . مُتَّفق عَلَيْهِ

ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نیک ہم نشین اور برے ہم نشین کی مثال ایسی ہے جیسے کستوری والا اور آگ کی بھٹی دھونکنے والا ، کستوری والا یا تو وہ تمہیں عطیہ دے دے گا یا تم خود اس سے خرید لو گے یا پھر تم اس سے اچھی خوشبو پا لو گے ۔ جبکہ بھٹی دھونکنے والا یا تو وہ تمہارے کپڑے جلا دے گا یا تم اس سے گندی بو پاؤ گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
Conclusion
تخریج
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۵۳۴) و مسلم (۱۴۶ / ۲۶۴۸) ۔ 6692