مشکوۃ

Mishkat

آداب کا بیان

اللہ کے لیے اور اللہ کی طرف سے محبت کا بیان

بَابُ الْحُبِّ فِي

وَعَن أَسمَاء بنت يزِيد أَنَّهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «خِيَارُكُمُ الَّذِينَ إِذَا رُؤوا ذُكِر الله» رَوَاهُ ابْن مَاجَه

اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے متعلق نہ بتاؤں ؟‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ضرور بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں کہ جب ان پر نظر پڑے تو اللہ یاد آ جائے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَنَّ عَبْدَيْنِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَاحِدٌ فِي الْمَشْرِقِ وَآخَرُ فِي الْمَغْرِبِ لَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَهُمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ. يَقُولُ: هَذَا الَّذِي كُنْتَ تُحِبُّهُ فِي

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر دو بندے اللہ عزوجل کی خاطر آپس میں محبت کرتے ہیں ، ایک مشرق میں ہے اور ایک مغرب میں ، تو روز قیامت اللہ ان دونوں کو اکٹھا کر دے گا اور فرمائے گا : یہ ہے وہ جس سے تم میری رضا کی خاطر محبت کیا کرتے تھے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

وَعَن أبي رَزِينٍ أَنَّهُ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مِلَاكِ هَذَا الْأَمْرِ الَّذِي تُصِيبُ بِهِ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟ عَلَيْكَ بِمَجَالِسِ أَهْلِ الذِّكْرِ وَإِذَا خَلَوْتَ فَحَرِّكْ لِسَانَكَ مَا اسْتَطَعْتَ بِذِكْرِ اللَّهِ وَأَحِبَّ فِي اللَّهِ وَأَبْغِضْ فِي اللَّهِ يَا أَبَا رَزِينٍ هَلْ شَعَرْتَ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا خَرَجَ مَنْ بَيْتِهِ زَائِرًا أَخَاهُ شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ كُلُّهُمْ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ وَيَقُولُونَ: رَبَّنَا إِنَّهُ وَصَلَ فِيكَ فَصِلْهُ؟ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُعْمِلَ جَسَدَكَ فِي ذَلِك فافعل

ابورزین (لقیط بن عامر بن صبرہ ؓ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں اس دین کی بنیاد کے متعلق نہ بتاؤں جس کے ذریعے تم دین و دنیا کی بھلائی حاصل کر لو ؟ تم اہل ذکر کی مجالس اختیار کرو ، جب خلوت میں ہو تو پھر جس قدر ہو سکے اپنی زبان پر اللہ کا ذکر جاری رکھو اور اللہ کی خاطر محبت کرو اور اللہ کی خاطر بغض رکھو ۔ ابورزین ! کیا تمہیں معلوم ہے ؟ کہ آدمی جب اپنے (مسلمان) بھائی کی زیارت کے لیے (گھر سے) نکلتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کے ساتھ چلتے ہیں اور وہ سب اس کے لیے دعائیں کرتے جاتے ہیں اور وہ کہتے ہیں : ہمارے پروردگار ! اس نے تیری رضا کی خاطر تعلق جوڑا ہے تو اسے (اپنی رحمت و مغفرت کے ساتھ) جوڑ دے ، اگر تم اپنے جسم کو ان کاموں پر لگا سکو تو لگاؤ ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَعُمُدًا مِنْ يَاقُوتٍ عَلَيْهَا غُرَفٌ مِنْ زَبَرْجَدٍ لَهَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ تُضِيءُ كَمَا يُضِيءُ الْكَوْكَبُ الدُّرِّيُّ» . فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ يَسْكُنُهَا؟ قَالَ: «الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ وَالْمُتَجَالِسُونَ فِي اللَّهِ وَالْمُتَلَاقُونَ فِي اللَّهِ» . رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت میں یاقوت کے ستون ہیں ، ان پر زمرد کے بالا خانے ہیں ، ان کے دروازے کھلے ہیں ، وہ چمک دار ستارے کی طرح چمکتے ہیں ۔‘‘ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان میں کون لوگ رہیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی خاطر آپس میں محبت کرنے والے ، اللہ کی خاطر آپس میں ہم نشینی اختیار کرنے والے اور اللہ کی خاطر آپس میں ملاقات کرنے والے ۔‘‘ امام بیہقی نے تینوں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔