مستورد ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے کسی مسلمان آدمی (کی غیبت) کی وجہ سے ایک لقمہ کھایا تو اللہ اس شخص کو اس کی مثل جہنم سے کھلائے گا اور جس شخص نے کسی مسلمان آدمی کی (غیبت کی) کی وجہ سے کوئی کپڑا پہنا تو اللہ اس شخص کو اس کی مثل جہنم سے (کپڑا) پہنائے گا اور جو شخص شہرت و ریاکاری کی جگہ کھڑا ہوا تو اللہ اس کو روز قیامت شہرت و ریاکاری کی جگہ پر کھڑا کرے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حسن ظن ، حسن عبادت میں سے ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، صفیہ ؓ کا اونٹ بیمار ہو گیا جبکہ زینب ؓ کے پاس زائد سواری تھی ، رسول اللہ ﷺ نے زینب ؓ سے فرمایا :’’ اس (صفیہ ؓ) کو اونٹ دے دو ۔‘‘ انہوں نے کہا : میں اس یہودن کو دوں ! رسول اللہ ﷺ ناراض ہوئے اور آپ ﷺ نے ذوالحجہ ، محرم اور صفر کے چند ایام تک ان سے صحبت ترک کر دی ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔ اور معاذ بن انس ؓ سے مروی حدیث :’’ جو شخص کسی مومن کی عزت بچاتا ہے ۔‘‘ باب الشفقۃ و الرحمۃ میں گزر چکی ہے ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عیسیٰ بن مریم ؑ نے ایک آدمی کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو عیسیٰ ؑ نے اسے فرمایا : تم نے چوری کی ہے ، اس نے کہا ، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ! ہرگز نہیں ، (اس پر) عیسیٰ ؑ نے فرمایا : میں اللہ پر ایمان لایا ، اور میں نے اپنے نفس کی تکذیب کی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قریب ہے کہ فقر (اللہ پر اعتراض کرنے کی وجہ سے) کفر بن جائے اور قریب ہے کہ حسد تقدیر پر غالب آ جائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
جابر ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اپنے (مسلمان) بھائی کے سامنے عذر پیش کرے اور وہ اسے معذور نہ سمجھے یا وہ اس کا عذر قبول نہ کرے تو اس پر ٹیکس وصول کرنے والے کی مثل گناہ ہوتا ہے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔ یہ دونوں روایتیں امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کی ہیں ، اور فرمایا : ((المکاس)) سے عشر لینے والا مراد ہے ۔