مشکوۃ

Mishkat

دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان

ڈرانے اور نصیحت کرنے کا بیان

بَاب الْإِنْذَار والتحذير

عَن عِيَاض بن حمَار الْمُجَاشِعِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي خُطْبَتِهِ: أَلَا إِنَّ رَبِّي أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا: كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حلالٌ وإِني خلقت عبَادي حنفَاء كلهم وَإنَّهُ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا وَإِنَّ اللَّهَ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ إِلَّا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَقَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ وَأَنْزَلَتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانَ وَإِنَّ الله أَمرنِي أَن أحرقَ قُريْشًا فَقلت: يَا رَبِّ إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً قَالَ: اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا أَخْرَجُوكَ وَاغْزُهُمْ نُغْزِكَ وَأَنْفِقْ فَسَنُنْفِقُ عَلَيْكَ وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةً مِثْلَهُ وَقَاتِلْ بِمن أطاعك من عصاك . رَوَاهُ مُسلم

عیاض بن حمار مجاشعی ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا :’’ سن لو ! میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اس سے ، جو اس نے مجھے آج تعلیم دی ہے ، وہ چیزیں سکھاؤں جو تم نہیں جانتے ، وہ تمام مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا ہے وہ حلال ہے ، میں نے اپنے تمام بندوں کو حنفا (باطل سے دور رہنے والے اور حق قبول کرنے کے لیے تیار رہنے والے) پیدا کیا ہے ، بے شک شیاطین ان کے پاس آتے ہیں اور وہ انہیں ان کے دین سے دور کر دیتے ہیں ، اور میں نے ان کے لیے جو حلال کیا تھا وہ ان چیزوں کو ان پر حرام کر دیتے ہیں ، اور وہ انہیں حکم دیتے ہیں کہ وہ میرے ساتھ شریک کریں جس کی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری ، بے شک اللہ نے اہل زمین کی طرف دیکھا تو اس نے اہل کتاب کے کچھ لوگوں کے سوا ان کے عرب و عجم کو مبغوض ٹھہرا دیا ، اور فرمایا : میں نے آپ کو صرف اس لیے مبعوث کیا ہے تا کہ میں آپ کو آزماؤں اور آپ کے ذریعے (آپ کی قوم کو) آزماؤں ، میں نے آپ پر کتاب اتاری جسے پانی نہیں دھو سکتا (ناقابل تنسیخ ہے) ، آپ اسے سوتے جاگتے پڑھیں گے ، بے شک اللہ نے مجھے قریش کو ہلاک کرنے کا حکم فرمایا تو میں نے عرض کیا : میرے پروردگار ! وہ میرا سر کچل دیں گے اور اسے روٹی بنا دیں گے ، فرمایا : آپ انہیں نکال دیں جیسے انہوں نے آپ کو نکال دیا تھا آپ ان سے جہاد کریں ، ہم آپ کو تیار کریں گے ، آپ خرچ کریں ، آپ پر خرچ کیا جائے گا ، آپ لشکر بھیجیں ، ہم بھی اس کی مثل (فرشتوں کے) پانچ لشکر بھیجیں گے ، اور آپ ﷺ اپنے اطاعت گزاروں کے ساتھ نافرمانوں کے خلاف قتال کریں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (وَأَنْذِرْ عشيرتك الْأَقْرَبين) صَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفَا فَجَعَلَ يُنَادِي: «يَا بَنِي فِهْرٍ يَا بَنِي عَدِيٍّ» لِبُطُونِ قُرَيْشٍ حَتَّى اجْتَمَعُوا فَقَالَ: «أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِالْوَادِي تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ؟ » قَالُوا: نَعَمْ مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ إِلَّا صِدْقًا. قَالَ: «فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٌ شَدِيدٌ» . فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمَ أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا؟ فَنَزَلَتْ: (تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ) مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ نَادَى: «يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ فَانْطَلَقَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ فَخَشِيَ أَنْ يسبقوه فَجعل يَهْتِف يَا صَبَاحَاه»

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب یہ آیت :’’ اپنے قریبی رشتے داروں کو ڈرائیں ۔‘‘ نازل ہوئی تو نبی ﷺ صفا پہاڑی پر چڑھ کر آواز دینے لگے : بنو فہر ! بنو عدی ! (جو کہ قریش کے قبیلے ہیں) حتیٰ کہ وہ اکٹھے ہو گئے ، تو فرمایا :’’ مجھے بتاؤ اگر میں تمہیں خبر دوں کہ وادی میں ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے ؟‘‘ انہوں نے کہا : جی ، ہم نے آپ کو سچا ہی پایا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں عذاب شدید سے پہلے تمہیں آگاہ کرنے والا ہوں ۔‘‘ ابولہب نے کہا : باقی ایام میں تیرے لیے ہلاکت ہو ، کیا تم نے اس لیے ہمیں جمع کیا تھا ، تب سورت (تَبَّتْ يَدَآ اَبِيْ لَهَبٍ وَّتَبَّ ) ’’ ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ تباہ و برباد ہو جائے ۔‘‘ نازل ہوئی ۔ ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ نے آواز دی ’’ بنو عبد مناف ! میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے دشمن کو دیکھا تو وہ اپنے اہل و عیال کو بچانے چلا تو اسے اندیشہ ہوا کہ وہ (دشمن) اس پر سبقت لے جائیں گے تو وہ (دشمن کی اطلاع دینے کے لیے) زور زور سے کہتا ہے : یا صبا حاہ ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (وَأَنْذِرْ عشيرتك الْأَقْرَبين) دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا فَاجْتَمَعُوا فَعَمَّ وَخَصَّ فَقَالَ: «يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ. يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ من النَّار يَا بني عبد منَاف أَنْقِذُوا أَنفسكُم من النَّار. با بَنِي هَاشِمٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ. يَا بني عبد الْمطلب أَنْقِذُوا أَنفسكُم من النَّار. يَا فَاطِمَةُ أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفَى الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ قَالَ: «يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَيَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا. وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِينِي مَا شِئْتِ مِنْ مَالِي لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب یہ آیت :’’ اپنے قریبی رشتے داروں کو ڈراؤ ۔‘‘ نازل ہوئی تو نبی ﷺ نے قریش کو آواز دی ، وہ سب جمع ہو گئے تو آپ ﷺ نے عام و خاص سبھی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : اے بنی کعب بن لؤی ! اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے آزاد کرا لو ، اے بنو مرہ بن کعب ! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ ، اے بنو عبد شمس ! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ ، بنو عبد المطلب ! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ ، فاطمہ ! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ ۔ میں اللہ کے ہاں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ، البتہ جو حق قرابت ہے میں اسے احسان کے ساتھ نبھاؤں گا ۔‘‘ اور صحیح بخاری و صحیح مسلم کی روایت میں ہے : آپ ﷺ نے فرمایا :’’ قریش کی جماعت ! اپنی جانوں کو (ایمان کے ساتھ آگ سے) بچاؤ ، میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا ، بنو عبد مناف ! میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا ، عباس بن عبد المطلب ! میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا ، رسول اللہ کی پھوپھی صفیہ ! میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا ، فاطمہ بنت محمد ! میرے مال میں سے جو چاہو لے لو ، میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا ۔‘‘ رواہ مسلم و البخاری ۔

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمَّتِي هَذِهِ أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ لَيْسَ عَلَيْهَا عَذَابٌ فِي الْآخِرَةِ عَذَابُهَا فِي الدُّنْيَا: الْفِتَنُ وَالزَّلَازِلُ وَالْقَتْلُ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری یہ امت ، امت مرحومہ (جس پر رحم کیا گیا) ہے ، اس پر آخرت میں (شدید) عذاب نہیں ، دنیا میں اس کا عذاب فتنوں ، زلزلوں اور قتل کی صورت میں ہو گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ بَدَأَ نُبُوَّةً وَرَحْمَةً ثُمَّ يَكُونُ خِلَافَةً وَرَحْمَةً ثُمَّ مُلْكًا عَضُوضًا ثُمَّ كَانَ جَبْرِيَّةً وَعُتُوًّا وَفَسَادًا فِي الْأَرْضِ يَسْتَحِلُّونَ الْحَرِيرَ وَالْفُرُوجَ وَالْخُمُورَ يُرْزَقُونَ عَلَى ذَلِكَ وَيُنْصَرُونَ حَتَّى يَلْقَوُا اللَّهَ» رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»

ابو عبیدہ اور معاذ بن جبل ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس دین کا آغاز نبوت و رحمت سے ہوا ، پھر خلافت و رحمت ہو گی ، پھر ظالم بادشاہ ہوں گے ، پھر زمین میں جبر ، زیادتی اور فساد ہو گا ، وہ ریشم ، شرم گاہوں (زنا) اور شراب کو حلال سمجھیں گے ، انہیں اسی حالت پر رزق دیا جائے گا اور ان کی مدد کی جاتی رہے گی حتیٰ کہ وہ اللہ سے جا ملیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ بَدَأَ نُبُوَّةً وَرَحْمَةً ثُمَّ يَكُونُ خِلَافَةً وَرَحْمَةً ثُمَّ مُلْكًا عَضُوضًا ثُمَّ كَانَ جَبْرِيَّةً وَعُتُوًّا وَفَسَادًا فِي الْأَرْضِ يَسْتَحِلُّونَ الْحَرِيرَ وَالْفُرُوجَ وَالْخُمُورَ يُرْزَقُونَ عَلَى ذَلِكَ وَيُنْصَرُونَ حَتَّى يَلْقَوُا اللَّهَ» رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»

ابو عبیدہ اور معاذ بن جبل ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس دین کا آغاز نبوت و رحمت سے ہوا ، پھر خلافت و رحمت ہو گی ، پھر ظالم بادشاہ ہوں گے ، پھر زمین میں جبر ، زیادتی اور فساد ہو گا ، وہ ریشم ، شرم گاہوں (زنا) اور شراب کو حلال سمجھیں گے ، انہیں اسی حالت پر رزق دیا جائے گا اور ان کی مدد کی جاتی رہے گی حتیٰ کہ وہ اللہ سے جا ملیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ أَوَّلَ مَا يُكْفَأُ - قَالَ زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الرَّاوِيُّ: يَعْنِي الْإِسْلَامَ - كَمَا يُكْفَأُ الْإِنَاءُ يَعْنِي الْخَمْرَ. قِيلَ: فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ بَيَّنَ اللَّهُ فِيهَا مابين؟ قَالَ: «يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا فَيَسْتَحِلُّونَهَا» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک سب سے پہلے الٹا دیا جائے گا ، زید بن یحیی راوی نے بیان کیا ، یعنی اسلام ، جیسے برتن الٹا دیا جاتا ہے ، یعنی شراب ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! اللہ نے اس کے متعلق تو وضاحت فرما دی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا : وہ اس کا نام بدل لیں گے اور پھر اسے حلال جانیں گے ۔‘‘ حسن ، رواہ الدارمی ۔

عَن النُّعْمَان بن بشير عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًّا فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ نُبُوَّةٍ» ثُمَّ سَكَتَ قَالَ حَبِيبٌ: فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبْتُ إِلَيْهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ أُذَكِّرُهُ إِيَّاهُ وَقُلْتُ: أَرْجُو أَنْ تَكُونَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بَعْدَ الْمُلْكِ الْعَاضِّ وَالْجَبْرِيَّةِ فَسُرَّ بِهِ وَأَعْجَبَهُ يَعْنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ. رَوَاهُ أَحْمد وَالْبَيْهَقِيّ فِي «دَلَائِل النُّبُوَّة»

نعمان بن بشیر ، حذیفہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تک اللہ چاہے گا تم میں نبوت (کے اثرات) باقی رکھے گا ، پھر اللہ تعالیٰ اسے اٹھا لے گا ، پھر جب تک اللہ چاہے گا ، خلافت نبوت کے انداز پر ہو گی ، پھر اللہ تعالیٰ اسے بھی اٹھا لے گا ، پھر جس قدر اللہ چاہے گا کاٹنے والے بادشاہ ہوں گے پھر اللہ تعالیٰ اسے بھی اٹھا لے گا ، پھر جبریہ بادشاہت ہو گی اور یہ بھی جب تک اللہ چاہے گا رہے گی ، پھر اللہ تعالیٰ اسے بھی اٹھا لے گا ، پھر خلافت نبوت کی طرز پر ہو گی ۔‘‘ پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے ۔ حبیب بیان کرتے ہیں ، جب عمر بن عبد العزیز ؒ نے خلافت سنبھالی تو میں نے ان کی یاد دہانی کے لیے انہیں یہ حدیث لکھی ، اور کہا : میں امید کرتا ہوں کہ ظالم بادشاہ اور جبریہ بادشاہت کے بعد آپ امیر المومنین ہیں ۔ وہ اس سے خوش ہوئے اور انہیں اچھا لگا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔