نبی ﷺ کے ایک صحابی سے روایت ہے ، انہوں نے کہا :’’ تم حبشیوں کو چھوڑے رکھو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھیں اور (اسی طرح) جب تک ترک تمہیں چھوڑے رکھیں تم بھی ان کو چھوڑے رکھو ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
بریدہ ؓ نبی ﷺ سے اس حدیث میں روایت کرتے ہیں ، جس میں ہے :’’ چھوٹی آنکھوں والے یعنی ترک تم سے قتال کریں گے ۔‘‘ فرمایا :’’ تم تین مرتبہ انہیں دھکیلو گے حتیٰ کہ تم انہیں جزیرۂ عرب تک پہنچا دو گے ، پہلی مرتبہ دھکیلنے کے موقع ، بھاگ جانے والے بچ جائیں گے ، دوسری مرتبہ بعض بچ جائیں گے اور بعض ہلاک ہو جائیں گے ، جبکہ تیسری مرتبہ وہ ہلاک کر دیے جائیں گے ۔‘‘ یا جیسے آپ ﷺ نے فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت کے کچھ لوگ نہر کے پاس ہموار نشیبی زمین پر پڑاؤ ڈالیں گے جسے وہ بصرہ کے نام سے موسوم کریں گے ، اور اس نہر کو دجلہ کے نام سے یاد کیا جائے گا ، اس پر ایک پل ہو گا ، اسکے رہنے والے بہت ہوں گے ، اور وہ مسلمانوں کے شہروں میں سے ہو گا ، اور جب آخری دور ہو گا تو بنو قنطورا آئیں گے ، جو چوڑے چہروں اور چھوٹی آنکھوں والے ہوں گے ، حتیٰ کہ وہ نہر کے کنارے پڑاؤ ڈالیں گے اور وہ (بصرہ والے) تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے ، ایک گروہ گائے کی دُمیں پکڑ لے گا اور وہ جنگلوں میں (کھیتی باڑی کریں) گے ، اور وہ ہلاک ہو جائیں گے ، ایک گروہ اپنی جانوں کے لیے امان حاصل کر لیں گے اور وہ بھی ہلاک ہو جائیں گے ، اور ایک گروہ اپنی اولاد کو اپنی پشت کے پیچھے کر لیں گے اور وہ ان سے قتال کریں گے اور یہی شہداء ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ انس ! لوگ شہر آباد کریں گے اور ان میں سے ایک شہر ہے جسے بصرہ کہا جائے گا ، اگر تم وہاں سے گزرو یا تم وہاں جاؤ تو اس کی شور والی زمین ، گھاس والی زمین ، اس کے نخلستان ، اس کے بازاروں اور اس کے حکمرانوں کے دروازوں سے بچتے رہنا (مذکورہ جگہوں پر نہ جانا)، اور تم اس کے اطراف میں رہنا کیونکہ اس میں زمین کا دھنسنا ہو گا ، آندھیاں اور زلزلے آئیں گے ، وہاں لوگ رات کو سوئیں گے تو صبح کے وقت وہ بندر اور خنزیر بن جائیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
صالح بن درہم بیان کرتے ہیں ، ہم حج کے لیے روانہ ہوئے ، تو ایک آدمی نے ہمیں کہا : تمہارے پاس ایک بستی ہے جسے ابلہ کہا جاتا ہے ؟ ہم نے کہا : ہاں ! اس نے کہا : تم میں سے کون مجھے ضمانت دیتا ہے کہ وہ میری خاطر مسجد عشار میں دو یا چار رکعتیں پڑھے گا ، اور وہ کہے گا کہ یہ (رکعتیں) ابوہریرہ کے لیے ہیں ، میں نے اپنے دوست ابو القاسم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک اللہ عزوجل روز قیامت مسجد عشار سے شہداء اٹھائے گا ، ان کے علاوہ شہدائے بدر کے ساتھ کوئی اور کھڑا نہیں ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔ ابوداؤد اور انہوں نے فرمایا : یہ مسجد نہر کے کنارے واقع ہے ، اور ہم ابودرداء ؓ سے مروی حدیث :’’ کہ مسلمانوں کے خیمے ...... ‘‘ باب ذکر الیمن و الشام میں ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے ۔
شقیق ، حذیفہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : ہم عمر ؓ کے پاس تھے تو انہوں نے فرمایا :’’ تم میں رسول اللہ ﷺ سے فتنے کے متعلق مروی حدیث کون یاد رکھتا ہے ؟ میں نے کہا : میں یاد رکھتا ہوں جس طرح آپ ﷺ نے فرمایا تھا ۔ عمر ؓ نے فرمایا : سناؤ ! تم تو بڑے دلیر ہو ، اور آپ ﷺ نے کیسے فرمایا تھا ؟ میں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ آدمی کے لیے اس کے اہل و عیال ، اس کا مال ، اس کی جان ، اس کی اولاد اور اس کا پڑوسی فتنہ و آزمائش ہیں ، جبکہ روزہ ، نماز ، صدقہ اور نیکی کا حکم کرنا ، برائی سے روکنا اس کا کفارہ ہے ۔‘‘ (اس پر) عمر ؓ نے فرمایا : میری یہ مراد نہیں تھی ، میری مراد تو وہ (فتنہ) ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح امڈ آئے گا ، وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، امیر المومنین ! آپ کو اس سے کیا سروکار ؟ کیونکہ اس کے اور آپ کے درمیان بند دروازہ ہے ، انہوں نے کہا : وہ دروازہ کھول دیا جائے گا یا توڑ دیا جائے گا ؟ وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے کہا : نہیں ، بلکہ وہ توڑ دیا جائے گا ، انہوں نے فرمایا : پھر یہ اس کے زیادہ لائق ہے کہ وہ کبھی بند نہ کیا جائے گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، ہم نے حذیفہ ؓ سے پوچھا : کیا عمر ؓ اس دروازے کے متعلق جانتے تھے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، جیسے رات کے بعد دن آنے کا علم ہوتا ہے ، بے شک میں نے اسے حدیث بیان کی جس میں کوئی غلطی و ابہام نہیں ، راوی بیان کرتے ہیں ، ہم نے خوف کی وجہ سے حذیفہ ؓ سے اس دروازے کے متعلق دریافت نہیں کیا ، ہم نے مسروق سے کہا کہ آپ حذیفہ ؓ سے پوچھیں ، انہوں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا : وہ عمر ہیں ۔ متفق علیہ ۔
انس ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : قسطنطنیہ کی فتح ، قیامت کے ساتھ (یعنی قریب) ہو گی ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔