مشکوۃ

Mishkat

فتنوں کا بیان

جنگوں کا بیان

بَاب الْمَلَاحِم

وَعَنْ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «دَعُوا الْحَبَشَةَ مَا وَدَعُوكُمْ وَاتْرُكُوا التُّرْكَ مَا تَرَكُوكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

نبی ﷺ کے ایک صحابی سے روایت ہے ، انہوں نے کہا :’’ تم حبشیوں کو چھوڑے رکھو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھیں اور (اسی طرح) جب تک ترک تمہیں چھوڑے رکھیں تم بھی ان کو چھوڑے رکھو ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

وَعَنْ بُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثٍ: «يُقَاتِلُكُمْ قَوْمٌ صِغَارُ الْأَعْيُنِ» يَعْنِي التّرْك. قَالَ: «تسوقونهم ثَلَاث مَرَّات حَتَّى تلحقوهم بِجَزِيرَة الْعَرَب فَأَما السِّيَاقَةِ الْأُولَى فَيَنْجُو مَنْ هَرَبَ مِنْهُمْ وَأَمَّا الثَّانِيَة فينجو بعض وَيهْلك بعض وَأما الثَّالِثَةِ فَيُصْطَلَمُونَ» أَوْ كَمَا قَالَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

بریدہ ؓ نبی ﷺ سے اس حدیث میں روایت کرتے ہیں ، جس میں ہے :’’ چھوٹی آنکھوں والے یعنی ترک تم سے قتال کریں گے ۔‘‘ فرمایا :’’ تم تین مرتبہ انہیں دھکیلو گے حتیٰ کہ تم انہیں جزیرۂ عرب تک پہنچا دو گے ، پہلی مرتبہ دھکیلنے کے موقع ، بھاگ جانے والے بچ جائیں گے ، دوسری مرتبہ بعض بچ جائیں گے اور بعض ہلاک ہو جائیں گے ، جبکہ تیسری مرتبہ وہ ہلاک کر دیے جائیں گے ۔‘‘ یا جیسے آپ ﷺ نے فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَن أبي بكرَة أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَنْزِلُ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي بِغَائِطٍ يُسَمُّونَهُ الْبَصْرَةَ عِنْدَ نَهْرٍ يُقَالُ لَهُ: دِجْلَةُ يَكُونُ عَلَيْهِ جِسْرٌ يَكْثُرُ أَهْلُهَا وَيَكُونُ مِنْ أَمْصَارِ الْمُسْلِمِينَ وَإِذَا كَانَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ جَاءَ بَنُو قَنْطُورَاءَ عِرَاضُ الْوُجُوهِ صِغَارُ الْأَعْيُنِ حَتَّى يَنْزِلُوا عَلَى شَطِّ النَّهْرِ فَيَتَفَرَّقُ أَهْلُهَا ثَلَاثَ فِرَقٍ فِرْقَةٌ يَأْخُذُونَ فِي أَذْنَابِ الْبَقَرِ وَالْبَرِّيَّةِ وَهَلَكُوا وَفِرْقَةٌ يَأْخُذُونَ لِأَنْفُسِهِمْ وَهَلَكُوا وَفِرْقَةٌ يَجْعَلُونَ ذَرَارِيَّهُمْ خَلْفَ ظُهُورِهِمْ وَيُقَاتِلُونَهُمْ وَهُمُ الشُّهَدَاءُ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت کے کچھ لوگ نہر کے پاس ہموار نشیبی زمین پر پڑاؤ ڈالیں گے جسے وہ بصرہ کے نام سے موسوم کریں گے ، اور اس نہر کو دجلہ کے نام سے یاد کیا جائے گا ، اس پر ایک پل ہو گا ، اسکے رہنے والے بہت ہوں گے ، اور وہ مسلمانوں کے شہروں میں سے ہو گا ، اور جب آخری دور ہو گا تو بنو قنطورا آئیں گے ، جو چوڑے چہروں اور چھوٹی آنکھوں والے ہوں گے ، حتیٰ کہ وہ نہر کے کنارے پڑاؤ ڈالیں گے اور وہ (بصرہ والے) تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے ، ایک گروہ گائے کی دُمیں پکڑ لے گا اور وہ جنگلوں میں (کھیتی باڑی کریں) گے ، اور وہ ہلاک ہو جائیں گے ، ایک گروہ اپنی جانوں کے لیے امان حاصل کر لیں گے اور وہ بھی ہلاک ہو جائیں گے ، اور ایک گروہ اپنی اولاد کو اپنی پشت کے پیچھے کر لیں گے اور وہ ان سے قتال کریں گے اور یہی شہداء ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا أَنَسُ إِنَّ النَّاسَ يمصِّرون أمصاراً فَإِن مِصْرًا مِنْهَا يُقَالُ لَهُ: الْبَصْرَةُ فَإِنْ أَنْتَ مَرَرْتَ بِهَا أَوْ دَخَلْتَهَا فَإِيَّاكَ وَسِبَاخَهَا وَكَلَأَهَا ونخيلها وَسُوقَهَا وَبَابَ أُمَرَائِهَا وَعَلَيْكَ بِضَوَاحِيهَا فَإِنَّهُ يَكُونُ بهَا خَسْفٌ وقذفٌ ورجْفٌ وقومٌ يبيتُونَ ويصبحون قردة وَخَنَازِير رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ انس ! لوگ شہر آباد کریں گے اور ان میں سے ایک شہر ہے جسے بصرہ کہا جائے گا ، اگر تم وہاں سے گزرو یا تم وہاں جاؤ تو اس کی شور والی زمین ، گھاس والی زمین ، اس کے نخلستان ، اس کے بازاروں اور اس کے حکمرانوں کے دروازوں سے بچتے رہنا (مذکورہ جگہوں پر نہ جانا)، اور تم اس کے اطراف میں رہنا کیونکہ اس میں زمین کا دھنسنا ہو گا ، آندھیاں اور زلزلے آئیں گے ، وہاں لوگ رات کو سوئیں گے تو صبح کے وقت وہ بندر اور خنزیر بن جائیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَن صَالح بن دِرْهَم يَقُولُ: انْطَلَقْنَا حَاجِّينَ فَإِذَا رَجُلٌ فَقَالَ لَنَا: إِلَى جَنْبِكُمْ قَرْيَةٌ يُقَالُ لَهَا: الْأُبُلَّةُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: مَنْ يَضْمَنُ لِي مِنْكُمْ أَنْ يُصَلِّيَ لِي فِي مَسْجِدِ الْعَشَّارِ رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَرْبَعًا وَيَقُولُ هَذِهِ لِأَبِي هُرَيْرَةَ؟ سَمِعْتُ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُ مِنْ مَسْجِدِ الْعَشَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُهَدَاءَ لَا يَقُومُ مَعَ شُهَدَاءِ بَدْرٍ غَيْرُهُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَقَالَ: هَذَا الْمَسْجِدُ مِمَّا يَلِي النَّهْرَ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أَبِي الدَّرْدَاءِ: «إِنَّ فُسْطَاطَ الْمُسْلِمِينَ» فِي بَابِ: «ذِكْرِ الْيَمَنِ وَالشَّامِ» . إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى

صالح بن درہم بیان کرتے ہیں ، ہم حج کے لیے روانہ ہوئے ، تو ایک آدمی نے ہمیں کہا : تمہارے پاس ایک بستی ہے جسے ابلہ کہا جاتا ہے ؟ ہم نے کہا : ہاں ! اس نے کہا : تم میں سے کون مجھے ضمانت دیتا ہے کہ وہ میری خاطر مسجد عشار میں دو یا چار رکعتیں پڑھے گا ، اور وہ کہے گا کہ یہ (رکعتیں) ابوہریرہ کے لیے ہیں ، میں نے اپنے دوست ابو القاسم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک اللہ عزوجل روز قیامت مسجد عشار سے شہداء اٹھائے گا ، ان کے علاوہ شہدائے بدر کے ساتھ کوئی اور کھڑا نہیں ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔ ابوداؤد اور انہوں نے فرمایا : یہ مسجد نہر کے کنارے واقع ہے ، اور ہم ابودرداء ؓ سے مروی حدیث :’’ کہ مسلمانوں کے خیمے ...... ‘‘ باب ذکر الیمن و الشام میں ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے ۔

عَن شَقِيق عَن حُذَيْفَة قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ؟ فَقُلْتُ: أَنَا أَحْفَظُ كَمَا قَالَ: قَالَ: هَاتِ إِنَّكَ لِجَرِيءٌ وَكَيْفَ؟ قَالَ: قُلْتُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ «فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَنَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ يُكَفِّرُهَا الصِّيَامُ وَالصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ» فَقَالَ عُمَرُ: لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ إِنَّمَا أُرِيدُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْر. قَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا. قَالَ: فَيُكْسَرُ الْبَابُ أويفتح؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ يُكْسَرُ. قَالَ: ذَاكَ أَحْرَى أَنْ لَا يُغْلَقَ أَبَدًا. قَالَ: فَقُلْنَا لحذيفةَ: هَل كَانَ عمر يعلم مَنِ البابُ؟ قَالَ: نَعَمْ كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ لَيْلَةٌ إِنِّي حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ قَالَ: فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ مَنِ الْبَابُ؟ فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ: سَلْهُ. فَسَأَلَهُ فَقَالَ: عُمَرُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

شقیق ، حذیفہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : ہم عمر ؓ کے پاس تھے تو انہوں نے فرمایا :’’ تم میں رسول اللہ ﷺ سے فتنے کے متعلق مروی حدیث کون یاد رکھتا ہے ؟ میں نے کہا : میں یاد رکھتا ہوں جس طرح آپ ﷺ نے فرمایا تھا ۔ عمر ؓ نے فرمایا : سناؤ ! تم تو بڑے دلیر ہو ، اور آپ ﷺ نے کیسے فرمایا تھا ؟ میں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ آدمی کے لیے اس کے اہل و عیال ، اس کا مال ، اس کی جان ، اس کی اولاد اور اس کا پڑوسی فتنہ و آزمائش ہیں ، جبکہ روزہ ، نماز ، صدقہ اور نیکی کا حکم کرنا ، برائی سے روکنا اس کا کفارہ ہے ۔‘‘ (اس پر) عمر ؓ نے فرمایا : میری یہ مراد نہیں تھی ، میری مراد تو وہ (فتنہ) ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح امڈ آئے گا ، وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، امیر المومنین ! آپ کو اس سے کیا سروکار ؟ کیونکہ اس کے اور آپ کے درمیان بند دروازہ ہے ، انہوں نے کہا : وہ دروازہ کھول دیا جائے گا یا توڑ دیا جائے گا ؟ وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے کہا : نہیں ، بلکہ وہ توڑ دیا جائے گا ، انہوں نے فرمایا : پھر یہ اس کے زیادہ لائق ہے کہ وہ کبھی بند نہ کیا جائے گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، ہم نے حذیفہ ؓ سے پوچھا : کیا عمر ؓ اس دروازے کے متعلق جانتے تھے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، جیسے رات کے بعد دن آنے کا علم ہوتا ہے ، بے شک میں نے اسے حدیث بیان کی جس میں کوئی غلطی و ابہام نہیں ، راوی بیان کرتے ہیں ، ہم نے خوف کی وجہ سے حذیفہ ؓ سے اس دروازے کے متعلق دریافت نہیں کیا ، ہم نے مسروق سے کہا کہ آپ حذیفہ ؓ سے پوچھیں ، انہوں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا : وہ عمر ہیں ۔ متفق علیہ ۔

وَعَن أنسٍ قَالَ: فَتْحُ القسطنطينة مَعَ قِيَامِ السَّاعَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

انس ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : قسطنطنیہ کی فتح ، قیامت کے ساتھ (یعنی قریب) ہو گی ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔