مشکوۃ

Mishkat

فتنوں کا بیان

عیسیٰ ؑ کے نزول کا بیان

بَاب نزُول عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ليوشكَنَّ أَن ينزلَ فِيكُم ابنُ مَرْيَم حكَمَاً عَدْلًا فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ حَتَّى تكون السَّجْدَة الْوَاحِدَة خيرامن الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا» . ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: فاقرؤا إِن شئْتم [وإِنْ من أهل الْكتاب إِلاّ ليُؤْمِنن بِهِ قبل مَوته] الْآيَة. مُتَّفق عَلَيْهِ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! البتہ قریب ہے کہ ابن مریم (عیسیٰ ؑ) تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کے طور پر نازل ہوں گے ، وہ صلیب توڑ دیں گے ، خنزیر کو مار ڈالیں گے ، جزیہ موقوف کر دیں گے اور مال کی اتنی ریل پیل ہو گی کہ اسے لینے والا کوئی نہیں ملے گا ، حتی کہ ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہو گا ۔‘‘ پھر ابوہریرہ ؓ فرماتے : اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو :’’ اہل کتاب کا ہر فرد ان (عیسیٰ ؑ) کی موت سے پہلے ان پر ضرور ایمان لے آئے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعنهُ قا ل: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ لَيَنْزِلَنَّ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَادِلًا فَلَيَكْسِرَنَّ الصَّلِيبَ وَلَيَقْتُلَنَّ الْخِنْزِيرَ وَلَيَضَعَنَّ الْجِزْيَةَ وَلَيَتْرُكَنَّ الْقِلَاصَ فَلَا يسْعَى عَلَيْهَا ولتذهبن الشحناء وَالتَّحَاسُدُ وَلَيَدْعُوَنَّ إِلَى الْمَالِ فَلَا يَقْبَلُهُ أَحَدٌ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا قَالَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُم»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! ابن مریم (عیسیٰ ؑ) حکمِ عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے ، وہ صلیب توڑ دیں گے ، خنزیر کو قتل کر ڈالیں گے ، جزیہ موقوف کر دیں گے ، جوان اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی ان سے کوئی کام نہیں لیا جائے گا ، عداوت و رنجش اور باہمی بغض و حسد جاتا رہے گا ، وہ مال کی طرف بلائیں گے لیکن اسے کوئی لینے والا نہیں ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور صحیحین کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ تمہاری اس وقت کیا حالت ہو گی جب ابن مریم ؑ تمہارے درمیان نزول فرمائیں گے ، اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہو گا ۔‘‘

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة» . قا ل: فَينزل عِيسَى بن مَرْيَمَ فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ: تَعَالَ صَلِّ لَنَا فَيَقُولُ: لَا إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ تَكْرِمَةَ الله هَذِه الْأمة . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّانِي

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قتال کرتا رہے گا وہ (قرب) قیام قیامت تک غالب آتے رہیں گے ۔‘‘ فرمایا :’’ ابن مریم ؑ نازل ہوں گے تو ان کا امیر کہے گا : تشریف لائیں اور ہمیں نماز پڑھائیں ، وہ فرمائیں گے ، نہیں ، اللہ نے اس امت کو جو عزت بخشی ہے اس وجہ سے تم خود ہی ایک دوسرے کے امام ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

عَن عبد الله بن عَمْرو قا ل: قا ل رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَنْزِلُ عِيسَى بن مَرْيَمَ إِلَى الْأَرْضِ فَيَتَزَوَّجُ وَيُولَدُ لَهُ وَيَمْكُثُ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ يَمُوتُ فَيُدْفَنُ مَعِي فِي قَبْرِي فأقوم أَنا وَعِيسَى بن مَرْيَمَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ بَيْنَ أَبَى بَكْرٍ وَعُمَرَ» . رَوَاهُ ابْنُ الْجَوْزِيِّ فِي كِتَابِ الْوَفَاءِ

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عیسیٰ بن مریم ؑ زمین پر نازل ہوں گے ، شادی کریں گے اور ان کی اولاد ہو گی ، وہ پینتالیس سال رہیں گے پھر فوت ہو جائیں گے ۔ انہیں میری قبر کے ساتھ ہی میرے قریب دفن کر دیا جائے گا ۔ میں اور عیسیٰ بن مریم ، ابوبکر و عمر کے درمیان سے ایک ہی قبر سے کھڑے ہوں گے ۔‘‘ ابن جوزی نے اسے کتاب الوفا میں ذکر کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن جوزی فی کتاب الوفاء ۔