مشکوۃ

Mishkat

قیامت کے احوال اور دوبارہ اٹھائے جانے کا بیان

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

بَاب صفةالنار وَأَهْلهَا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَارُكُمْ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً قَالَ: «فُضِّلَتْ عَلَيْهِنَّ بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا كُلُّهُنَّ مِثْلُ حَرِّهَا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ. وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: «نَارُكُمُ الَّتِي يُوقِدُ ابْنُ آدَمَ» . وَفِيهَا: «عَلَيْهَا» و «كلهَا» بدل «عَلَيْهِنَّ» و «كُلهنَّ»

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہاری (یہ دنیا کی) آگ جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے ۔‘‘ عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! اگر (یہ دنیا کی آگ ہی) ہوتی تو وہی کافی تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس (جہنم کی آگ) کو ان (آگ کی اقسام) پر انہتر درجے فضیلت و برتری دی گئی ہے ، وہ سب اس (دنیا کی آگ) کی حرارت و تپش کی طرح ہے ۔‘‘ اور الفاظ حدیث صحیح بخاری کے ہیں ۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے :’’ تمہاری وہ آگ جو انسان جلاتا ہے ۔‘‘ اور صحیح مسلم کی روایت میں : ((علیھن)) اور ((کلھن)) کے بجائے ((علیھا)) اور ((کلھا)) کے الفاظ ہیں ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ زِمَامٍ مَعَ كُلِّ زِمَامٍ سبعونَ ألفَ مَلَكٍ يجرُّونها» . رَوَاهُ مُسلم

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم کو لایا جائے گا ، اس روز اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلَانِ وَشِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ مَا يُرَى أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا وَإِنَّهُ لَأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا» . مُتَّفق عَلَيْهِ

نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم والوں میں سے جس شخص کو سب سے ہلکا عذاب ہو گا ، وہ شخص وہ ہو گا جس کے جوتے اور تسمے آگ کے ہوں گے ، جن کی وجہ سے اس کا دماغ اس طرح کھولتا ہو گا جس طرح ہنڈیا کھولتی ہے ،‘‘ وہ یہ خیال کرے گا کہ کسی شخص کو اس سے زیادہ عذاب نہیں ہو رہا حالانکہ وہ سب سے ہلکے عذاب میں مبتلا ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ وَهُوَ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ يغلي مِنْهُمَا دماغه» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم والوں میں سے سب سے ہلکا عذاب ابو طالب کو ہو گا ، اس نے آگ کے دو جوتے پہنے ہوں گے ، ان سے اس کا دماغ کھولے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُؤْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُصْبَغُ فِي النارِ صَبْغَةً ثمَّ يُقَال: يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُصْبَغُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ فَيُقَالُ لَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ وَهَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ. فَيَقُولُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا مَرَّ بِي بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَيْتُ شدَّة قطّ . رَوَاهُ مُسلم

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت جہنم والوں میں سے اس شخص کو لایا جائے گا جسے دنیا میں سب سے زیادہ نعمتیں میسر تھیں ، اسے آگ میں ایک غوطہ دیا جائے گا ، پھر کہا جائے گا : اے انسان ! کیا تم نے کبھی کوئی خیر و نعمت دیکھی تھی ؟ کیا کسی نعمت کا تیرے پاس سے کبھی گزر ہوا تھا ؟ وہ عرض کرے گا : رب جی ! اللہ کی قسم ! نہیں ، (پھر) اہل جنت میں سے ایسے شخص کو لایا جائے گا جس نے دنیا میں سب سے زیادہ بدحالی دیکھی ہو ، اسے جنت میں ایک بار گھما کر اس سے پوچھا جائے گا : اے انسان ! کیا تو نے کبھی کوئی بدحالی دیکھی تھی ؟ یا کبھی کوئی شدت و تنگی تیرے پاس سے گزری تھی ؟ وہ عرض کرے گا : رب جی ! اللہ کی قسم ! نہیں ، نہ تو کبھی بدحالی میرے پاس سے گزری اور نہ میں نے کبھی کوئی شدت و تنگی دیکھی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَكَنْتَ تَفْتَدِي بِهِ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ. فَيَقُولُ: أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي . مُتَّفق عَلَيْهِ

انس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت اللہ ، جہنم والوں میں سے سب سے ہلکے عذاب میں گرفتار شخص سے فرمائے گا : اگر زمین کی تمام چیزیں تیری ملکیت ہوں تو کیا تو انہیں اس (عذاب کے) بدلے میں بطورِ فدیہ دے دے گا ؟ وہ عرض کرے گا : جی ہاں ، وہ فرمائے گا : میں نے تجھ سے ، جبکہ تو آدم ؑ کی پشت میں تھا ، اس سے بھی معمولی چیز کا مطالبہ کیا تھا کہ تو میرے ساتھ شریک نہ ٹھہرائے گا ، لیکن تو نے انکار کیا ، اور میرے ساتھ شرک کیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى حُجْزَتِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّار إِلَى ترقوته» . رَوَاهُ مُسلم

سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کچھ ایسے لوگ ہوں گے جنہیں آگ ان کے ٹخنوں تک پکڑے گی ، ان میں سے کسی کے گھٹنوں تک پہنچی ہو گی ، ان میں سے کسی کے ازار بند تک پہنچی ہو گی اور ان میں سے کسی کی گردن کو دبوچے ہوئے ہو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَيْنَ مَنْكِبَيِ الْكَافِرِ فِي النَّارِ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِلرَّاكِبِ الْمُسْرِعِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «ضِرْسُ الْكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ وَغِلَظُ جِلْدِهِ مَسِيرَةُ ثَلَاثٍ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَذِكْرُ حَدِيث أبي هُرَيْرَة: «إِذا اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا» . فِي بَابِ «تَعْجِيلِ الصَّلَوَات»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم میں کافر کے دو کندھوں کا درمیانی فاصلہ تیز رفتار سوار کی تین روز کی مسافت جتنا ہو گا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ کافر کی داڑھ احد (پہاڑ) کی مثل ہو گی ، اور اس کی جلد کی موٹائی تین رات کی مسافت جتنی ہو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث :’’ آگ نے اپنے رب سے شکایت کی .....۔‘‘ باب تعجیل الصلوات میں ذکر کی گئی ہے ۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُوقِدَ عَلَى النَّارِ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى احْمَرَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى ابْيَضَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى اسْوَدَّتْ فَهِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم کی آگ ہزار برس جلائی گئی تو وہ سرخ ہو گئی ، پھر اسے ہزار برس جلایا گیا تو وہ سفید ہو گئی ، پھر اسے ہزار برس جلایا گیا تو وہ سیاہ ہو گئی ، وہ سیاہ ترین ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضِرْسُ الْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلُ أُحُدٍ وَفَخِذُهُ مِثْلُ الْبَيْضَاءِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ مسيرَة ثَلَاث مثل الربذَة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت کافر کی داڑھ احد پہاڑ جیسی ہو گی ، اس کی ران بیضاء (پہاڑ /مقام) کی طرح ہو گی ، اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ تین رات کی مسافت ، جیسے (مدینہ سے) ربذہ ہے ، کے برابر ہو گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ غِلَظَ جِلْدِ الْكَافِرِ اثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا وَإِنَّ ضِرْسَهُ مِثْلُ أُحُدٍ وَإِنَّ مَجْلِسَهُ مِنْ جَهَنَّمَ مَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کافر کی جلد کی موٹائی بیالیس ہاتھ ہو گی ، اس کی داڑھ احد پہاڑ کی مثل ہو گی اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہو گی جس طرح مکہ اور مدینہ کے درمیان فاصلہ ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْكَافِرَ لَيُسْحَبُ لسانُه الفرسَخ والفرسخين يتوطَّؤُه النَّاس» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حَيْثُ غَرِيب

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کافر اپنی زبان کو فرسخ (تین میل) اور دو فرسخ گھسیٹے گا اور لوگ اس کو پاؤں تلے روندیں گے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔

وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الصَّعُودُ جَبَلٌ مِنْ نَارٍ يُتَصَعَّدُ فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا وَيُهْوَى بِهِ كَذَلِكَ فِيهِ أَبَدًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِي

ابوسعید ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ الصعود جہنم میں ایک پہاڑ ہے جس پر (کافر) کو ستر سال تک مسلسل چڑھایا جائے گا اور اسی طرح (ستر سال تک) اسے مسلسل گرایا جائے گا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي قَوْله: (كَالْمهْلِ) أَيْ كَعَكَرِ الزَّيْتِ فَإِذَا قُرِّبَ إِلَى وَجْهِهِ سَقَطت فَرْوَة وَجهه فِيهِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيّّّّّّّ

ابوسعید ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے (کالمھل) کی تفسیر میں فرمایا :’’ وہ تل چھٹ کی طرح ہو گا ۔ جب اس کو اس کے چہرے کے قریب کیا جائے گا تو اس کے چہرے کی جلد اس میں گر جائے گی ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْحَمِيمَ لَيُصَبُّ عَلَى رؤوسهم فَينفذ الْحَمِيم حَتَّى يخلص إِلَى جَوْفه فسلت مَا فِي جَوْفِهِ حَتَّى يَمْرُقَ مِنْ قَدَمَيْهِ وَهُوَ الصَّهْرُ ثُمَّ يُعَادُ كَمَا كَانَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کھولتا ہوا پانی ان (جہنم والوں) کے سروں پر ڈالا جائے گا تو وہ کھولتا ہوا پانی داخل ہو جائے گا حتی کہ وہ اس کے پیٹ کے اند تک پہنچ جائے گا اور اس کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے اسے کاٹ ڈالے گا حتی کہ وہ اس کے قدموں سے نکل جائے گا ، اور یہ وہ صہر (گلا دینا) ہے پھر اسے اس کی پہلی ہی حالت پر لوٹا دیا جائے گا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: (يُسْقَى مِنْ مَاءٍ صديد يتجرَّعُه) قَالَ: يُقَرَّبُ إِلَى فِيهِ فَيَكْرَهُهُ فَإِذَا أُدْنِي مِنْهُ شَوَى وَجْهَهُ وَوَقَعَتْ فَرْوَةُ رَأْسِهِ فَإِذَا شَرِبَهُ قَطَّعَ أَمْعَاءَهُ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ دُبُرِهِ. يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: (وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أمعاءهم) وَيَقُولُ: (وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوه بئس الشَّرَاب) رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوامامہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان :’’ اسے پیپ پلائی جائے گی تو وہ اسے گھونٹ گھونٹ پیئے گا ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ اس کے منہ کے قریب کیا جائے گا تو وہ اسے ناپسند کرے گا ، جب اسے اس کے قریب کیا جائے گا تو اس کا چہرہ جل جائے گا ، اس کے سر کی جلد گر پڑے گی ، جب وہ اسے پیئے گا تو اس کی انتڑیاں کٹ جائیں گی حتی کہ وہ اس کی دبر (پیٹھ) کے راستے باہر نکل آئے گا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔’’ انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو وہ ان کی انتڑیاں کاٹ ڈالے گا ۔‘‘ اور وہ فرماتا ہے :’’ اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو تل چھٹ کی طرح ہو گا ، چہروں کو بھون ڈالے گا ، برا پینا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِسُرَادِقِ النَّارِ أَرْبَعَةُ جُدُرِ كِثَف كل جِدَار مسيرَة أَرْبَعِينَ سنة . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوسعید ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم کی آگ کا چار دیواروں سے احاطہ کیا گیا ہے ، اور ہر دیوار کی موٹائی چالیس سال کی مسافت ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاقٍ يَهَرَاقُ فِي الدُّنْيَا لَأَنْتَنَ أَهْلُ الدُّنْيَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر (جہنمیوں کے زخموں کی) پیپ کا ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو دنیا والے بدبو دار بن جاتے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: (اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُم مُسلمُونَ) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَو أَن قَطْرَة من الزقوم قطرات فِي دَارِ الدُّنْيَا لَأَفْسَدَتْ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ مَعَايِشَهُمْ فَكَيْفَ بِمَنْ يَكُونُ طَعَامَهُ؟» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اللہ سے ایسے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہاری موت اس حال میں آئے کہ تم مسلمان ہو ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر زقوم (تھوہر) کا ایک قطرہ دنیا میں گرا دیا جائے تو وہ زمین والوں پر ان کے اسبابِ زندگانی خراب کر دے ، تو اس شخص کی کیا حالت ہو گی جس کا کھانا ہی وہی ہو گا ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: (وهم فِيهَا كَالِحُونَ) قَالَ: «تَشْوِيهِ النَّارُ فَتَقَلَّصُ شَفَتُهُ الْعُلْيَا حَتَّى تَبْلُغَ وَسْطَ رَأْسِهِ وَتَسْتَرْخِي شَفَتُهُ السُّفْلَى حَتَّى تضرب سُرَّتَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوسعید ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اور وہ اس (جہنم) میں اس طرح ہوں گے کہ ان کے ہونٹ سکڑ کر اوپر چڑھ گئے ہوں گے اور دانت کھل گئے ہوں گے ۔‘‘ فرمایا :’’ آگ انہیں جلا دے گی تو ان کے اوپر والے ہونٹ سکڑ جائیں گے حتی کہ وہ ان کے سر کے وسط میں پہنچ جائیں گے اور ان کے نچلے ہونٹ لٹک جائیں گے حتی کہ وہ ان کی ناف تک پہنچ جائیں گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔