مشکوۃ

Mishkat

قیامت کے احوال اور دوبارہ اٹھائے جانے کا بیان

مخلوق کی ابتدا اور انبیا علیھم السلام کے ذکر کا بیان

(بَاب بدءالخلق وَذِكْرِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ)


وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا فَخَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ فَنَادَاهُ رَبُّهُ: يَا أَيُّوبُ أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى؟ قَالَ: بَلَى وَعِزَّتِكَ وَلَكِن لَا غنى بِي عَن بركتك . رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایوب ؑ عریاں حالت میں غسل کر رہے تھے کہ ان پر سونے کی ٹڈیاں گریں تو ایوب ؑ انہیں کپڑے میں جمع کرنے لگے تو ان کے رب نے انہیں آواز دی ، ایوب ! کیا میں نے تجھے مال عطا کر کے ان (ٹڈیوں) سے بے نیاز نہیں کر دیا ؟ انہوں نے عرض کیا ، تیری عزت کی قسم ! کیوں نہیں ، لیکن میں تیری برکت سے کیسے بے نیاز رہ سکتا ہوں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
رواہ البخاری (۲۷۹) ۔