مشکوۃ

Mishkat

قیامت کے احوال اور دوبارہ اٹھائے جانے کا بیان

مخلوق کی ابتدا اور انبیا علیھم السلام کے ذکر کا بیان

(بَاب بدءالخلق وَذِكْرِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ)


وَعَن زُرَارَة بن أوفى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجِبْرِيلَ: هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟ فَانْتَفَضَ جِبْرِيلُ وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سَبْعِينَ حِجَابًا مِنْ نُورٍ لَوْ دَنَوْتُ مِنْ بَعْضِهَا لاحترقت «. هَكَذَا فِي» المصابيح

زرارہ بن اوفی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبریل ؑ سے پوچھا :’’ کیا تم نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟‘‘ (اس سوال سے) جبریل ؑ لرز گئے اور فرمایا : محمد ! میرے اور اس کے درمیان نور کے ستر پردے ہیں ، اگر میں ان میں سے کسی کے قریب چلا جاؤں تو میں جل جاؤں ۔‘‘ المصابیح میں اس طرح ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی مصابیح السنہ ۔

Status: Zaeef
حکمِ حدیث: ضعیف
Reference
حوالہ حکم
(ضَعِيف)
Conclusion
تخریج
اسنادہ ضعیف ، و ذکرہ البغوی فی مصابیح السنۃ (۴ / ۳۰) [و ابو الشیخ فی العظمۃ (۲ / ۶۷۷ ۔ ۶۷۸) و الدارمی (فی الرد علی المریسی ص ۱۷۲)] * السند صحیح الی زرارۃ رحمہ اللہ و لکنہ : مرسل ۔