مشکوۃ

Mishkat

فضائل اور خصائل کا بیان

رسول اللہ ﷺ کے اسمائے مبارک اور صفات کا بیان

بَابِ أَسْمَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاته


وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ غُلَامًا يَهُودِيًّا كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَوَجَدَ أَبَاهُ عِنْدَ رَأْسِهِ يَقْرَأُ التَّوْرَاةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا يَهُودِيٌّ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى هَلْ تَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ نَعْتِي وَصِفَتِي وَمَخْرَجِي؟» . قَالَ: لَا. قَالَ الْفَتَى: بَلَى وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَجِدُ لَكَ فِي التَّوْرَاة نعتك وَصِفَتَكَ وَمَخْرَجَكَ وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: «أَقِيمُوا هَذَا مِنْ عِنْدِ رَأْسِهِ وَلُوا أَخَاكُمْ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «دَلَائِل النُّبُوَّة»

انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی لڑکا ، نبی ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا ، وہ بیمار ہو گیا تو نبی ﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے آپ نے اس کے والد کو اس کے سر کے پاس تورات پڑھتے دیکھ کر فرمایا :’’ اے یہودی ! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسی ؑ پر تورات نازل فرمائی ، (بتاؤ) کیا تم تورات میں میری ذات و صفات کے متعلق کچھ لکھا ہوا پاتے ہو ؟‘‘ اس نے کہا : نہیں لیکن وہ لڑکا کہنے لگا ، اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول ! ہم آپ ﷺ کی ذات و صفات اور آپ کی تشریف آوری کے متعلق تورات میں لکھا ہوا پاتے ہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، نبی ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا :’’ اس کو اس (لڑکے) کے سرہانے سے اٹھا دو اور تم اپنے (اسلامی) بھائی کی (تجہیز و تکفین کے متعلق) سر پرستی کرو ۔‘‘ حسن ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
حسن ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ (۶ / ۲۷۲ و سندہ حسن) * فیہ مؤمل بن اسماعیل حسن الحدیث و ثقہ الجمھور ولہ شواھد عند البیھقی فی الدلائل (۶ / ۲۷۲ ۔ ۲۷۳) وغیرہ فالحدیث حسن ۔