مشکوۃ

Mishkat

فضائل اور خصائل کا بیان

رسول اللہ ﷺ کے اسمائے مبارک اور صفات کا بیان

بَابِ أَسْمَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاته

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إنَّ لي أَسْمَاءً: أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِي الْكُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِبُ . وَالْعَاقِب: الَّذِي لَيْسَ بعده شَيْء. مُتَّفق عَلَيْهِ

جبیر بن مطعم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میرے بہت سے نام ہیں : میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں ماحی ہوں اللہ میرے ذریعے کفر کو مٹا دے گا ، میں حاشر ہوں کہ تمام لوگ میرے بعد اٹھائے جائیں گے ، اور میں عاقب ہوں ۔‘‘ اور عاقب اسے کہتے ہیں جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو ۔ متفق علیہ ۔

وَعَن أبي مُوسَى الْأَشْعَرِيّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّي لَنَا نَفْسَهُ أَسْمَاءً فَقَالَ: «أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَالْمُقَفِّي وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَنَبِيُّ الرَّحْمَة» . رَوَاهُ مُسلم

ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ اپنی ذات مبارکہ کے نام ہمیں بتایا کرتے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں آخر پر آنے والا ہوں ، (میرے بعد کوئی نبی نہیں) ، میں حاشر ہوں ، میں نبی توبہ ہوں (اللہ کے حضور بہت زیادہ رجوع کرنے والا) اور نبی رحمت ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ وَلَعْنَهُمْ؟ يَشْتُمُونَ مُذَمَّمًا وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم تعجب نہیں کرتے کہ اللہ قریش کے سب و شتم اور ان کے لعن طعن کرنے کو کس طرح مجھ سے دور کرتا ہے ؟ وہ مذمم (نعوذ باللہ جس کی مذمت کی گئی ہو) کہہ کر سب و شتم اور لعن طعن کرتے ہیں ، جبکہ میں محمد (ﷺ) ہوں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَمِطَ مُقَدَّمُ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ وَكَانَ إِذَا ادَّهَنَ لَمْ يَتَبَيَّنْ وَإِذَا شَعِثَ رَأْسُهُ تَبَيَّنَ وَكَانَ كَثِيرَ شَعْرِ اللِّحْيَةِ فَقَالَ رَجُلٌ: وَجْهُهُ مِثْلُ السَّيْفِ؟ قَالَ: لَا بَلْ كَانَ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَكَانَ مُسْتَدِيرًا وَرَأَيْتُ الْخَاتَمَ عِنْدَ كَتِفِهِ مِثْلَ بَيْضَة الْحَمَامَة يشبه جسده . رَوَاهُ مُسلم

جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک اور داڑھی کے اگلے حصے کے کچھ بال سفید ہو چکے تھے ، جب آپ تیل لگاتے تھے تو وہ نظر نہیں آتے تھے ، اور جب آپ کے سر کے بالوں میں کنگھی نہیں کی ہوتی تھی تو وہ نظر آ جاتے تھے ، آپ کی داڑھی کے بال گھنے تھے ، کسی آدمی نے کہا : آپ کا چہرہ مبارک (چمک کے لحاظ سے) تلوار کی طرح تھا ، جابر ؓ نے فرمایا : نہیں ، بلکہ سورج اور چاند کی طرح چمکتا تھا ، رخ انور گول تھا ، میں نے آپ کے کندھے کے پاس مہر نبوت دیکھی جو کہ کبوتری کے انڈے کی طرح تھی اور وہ آپ کے جسم اطہر (کے رنگ) کے مشابہ تھی ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَن عبدِ الله بن سرجسٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْتُ مَعَهُ خُبْزًا وَلَحْمًا - أَوْ قَالَ: ثَرِيدًا - ثُمَّ دُرْتُ خَلْفَهُ فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ عِنْدَ نَاغِضِ كَتِفِهِ الْيُسْرَى جُمْعًا عَلَيْهِ خيلال كأمثال الثآليل. رَوَاهُ مُسلم

عبداللہ بن سرجس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو دیکھا اور آپ کے ساتھ گوشت روٹی کھائی ، یا کہا : ثرید کھائی ، پھر میں گھوم کر آپ کے پچھلی جانب گیا اور میں نے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان بائیں کندھے کی نرم ہڈی کے پاس مہر نبوت دیکھی ، وہ بند مٹھی کی طرح تھی اس پر دو تل تھے ، جیسے مسّے ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثِيَابٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ صَغِيرَةٌ فَقَالَ: «ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ» فَأُتِيَ بِهَا تُحْمَلُ فَأَخَذَ الْخَمِيصَةَ بِيَدِهِ فَأَلْبَسَهَا. قَالَ: «أَبْلِي وَأَخْلِقِي ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِقِي» وَكَانَ فِيهَا عَلَمٌ أَخْضَرُ أَوْ أَصْفَرُ. فَقَالَ: «يَا أُمَّ خَالِدٍ هَذَا سِنَاهْ» وَهِيَ بالحبشيَّةِ حسنَة. قَالَت: فذهبتُ أَلعبُ بخاتمِ النبوَّةِ فز برني أُبَيٍّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دعها» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

ام خالد بنت خالد بن سعید ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ کے پاس کچھ کپڑے لائے گئے ان میں ایک چھوٹی سی کالی چادر تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ام خالد کو میرے پاس لاؤ ، اسے اٹھا کر لایا گیا ، آپ نے اپنے دست مبارک سے وہ چادر پکڑی اور اسے پہنا دی ، اور فرمایا :’’ تم اسے بوسیدہ کرو اور تم اسے پرانا کرو (دیر تک جیتی رہو) ، تم اسے بوسیدہ کرو اور اسے پرانا کرو ۔‘‘ اس (چادر) میں سبز یا زرد رنگ کے نشانات تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ام خالد ! یہ ’’سناہ‘‘ ہے ۔‘‘ اور یہ (سناہ) حبشی زبان کا لفظ ہے یعنی خوبصورت ؟ وہ بیان کرتی ہیں ، میں مہر نبوت کے ساتھ کھیلنے لگی تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے چھوڑ دو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ وَلَيْسَ بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ وَلَا بِالْآدَمِ وَلَيْسَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبْطِ بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وبالمدينة عشر سِنِين وتوفَّاه الله على رَأس سِتِّينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ وَفِي رِوَايَةٍ يَصِفُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ أَزْهَرَ اللَّوْنِ. وَقَالَ: كَانَ شَعْرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ: بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ قَالَ: كَانَ ضَخْمَ الرَّأْسِ وَالْقَدَمَيْنِ لَمْ أَرَ بَعْدَهُ وَلَا قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَكَانَ سَبْطَ الكفَّينِ. وَفِي أُخْرَى لَهُ قَالَ: كَانَ شئن الْقَدَمَيْنِ وَالْكَفَّيْنِ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ زیادہ لمبے قد کے تھے نہ چھوٹے قد کے نہ بالکل سفید تھے اور نہ گندمی رنگ کے ، آپ کے بال نہ بہت زیادہ گھنگریالے تھے نہ سیدھے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں مبعوث فرمایا ، آپ نے مکہ میں دس سال قیام فرمایا اور مدینہ میں بھی دس سال قیام فرمایا ، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ساٹھ سال کی عمر میں وفات دی اور (اس وقت) آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں تھے ۔ ایک دوسری روایت میں انس ؓ نے نبی ﷺ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا : آپ کا قد درمیانہ تھا نہ لمبا تھا اور نہ چھوٹا ، کھلتا اور چمکتا ہوا رنگ تھا ، اور رسول اللہ ﷺ کے بال کانوں کے نصف تک تھے ، ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ ﷺ کے بال دونوں کانوں اور کندھوں کے درمیان تھے ۔ اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے : آپ ﷺ کا سر اور پاؤں ضخیم تھے ، میں نے آپ کے بعد یا پہلے آپ جیسا کوئی دوسرا شخص نہیں دیکھا ، آپ ﷺ کی ہتھیلیاں کشادہ تھیں ، صحیح بخاری کی دوسری روایت میں ہے : آپ ﷺ کے پاؤں اور ہاتھ موٹے تھے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنِ الْبَرَّاءِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْبُوعًا بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ لَهُ شَعْرٌ بَلَغَ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ رَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ لَمْ أَرَ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرُهُ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدٌ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ

براء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ درمیانے قد کے تھے ، آپ کی چھاتی کشادہ تھی ، آپ کے سر کے بال کانوں کی لو تک تھے ، میں نے آپ کو سرخ جوڑے میں دیکھا ، میں نے آپ سے زیادہ حسین کسی کو نہیں دیکھا ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے ، میں نے کانوں کی لو تک بالوں والے اور سرخ جوڑے میں ملبوس کسی شخص کو رسول اللہ ﷺ سے زیادہ حسین نہیں دیکھا آپ کے بال آپ کے کندھوں پر پڑتے تھے ، آپ کی چھاتی کشادہ تھی ، اور آپ نہ زیادہ لمبے تھے اور نہ چھوٹے تھے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوشَ الْعَقِبَيْنِ قِيلَ لَسِمَاكٍ: مَا ضَلِيعُ الْفَمِ؟ قَالَ: عَظِيمُ الْفَمِ. قِيلَ: مَا أَشْكَلُ الْعَيْنَيْنِ؟ قَالَ: طَوِيلُ شَقِّ الْعَيْنِ. قِيلَ: مَا مَنْهُوشُ الْعَقِبَيْنِ؟ قَالَ: قليلُ لحم الْعقب. رَوَاهُ مُسلم

سماک بن حرب ، جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ ضلیع الفم ، اشکل العین اور منھوش العقبین تھے ۔ سماک ؒ سے پوچھا گیا ، ضلیع الفم سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے کہا : کشادہ چہرے والے ، پوچھا گیا ، اشکل العین سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : آپ ﷺ کی آنکھیں بڑی اور طویل تھیں ، پھر پوچھا گیا : منھوش العقبین سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے کہا : آپ ﷺ کی ایڑھیاں پتلی تھیں ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَبْيَضَ مَلِيحًا مقصدا . رَوَاهُ مُسلم

ابو طفیل ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے آپ کی رنگت سرخی مائل سفید تھی اور آپ کا قد درمیانہ تھا ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ ثَابِتٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ خِضَابِ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَبْلُغْ مَا يُخْضَبُ لَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتِهِ فِي لِحْيَتِهِ - وَفِي رِوَايَةٍ: لَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتٍ كُنَّ فِي رَأسه - فعلت. مُتَّفق عَلَيْهِ

ثابت ؓ بیان کرتے ہیں کہ انس ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے خضاب کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : آپ کے بال اس قدر سفید نہیں تھے کہ انہیں خضاب کیا جاتا ، اگر میں آپ کی داڑھی کے سفید بال گننا چاہتا ، تو گن سکتا تھا ۔ ایک دوسری روایت میں ہے : اگر میں آپ ﷺ کے سر کے سفید بال گننا چاہتا تو گن سکتا تھا ۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے ، آپ ﷺ کے عنفقہ (نچلے ہونٹ اور تھوڑی کے درمیان) میں ، آپ کی کن پٹیوں میں اور آپ کے سر میں چند سفید بال تھے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْهَرَ اللَّوْنِ كَانَ عَرَقُهُ اللُّؤْلُؤُ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ وَمَا مَسَسْتُ دِيبَاجَةً وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا شمَمتُ مسكاً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کی رنگت میں چمک دمک تھی آپ کے پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح تھے ، جب آپ چلتے تو آگے کی طرف جھک کر چلتے تھے ، میں نے رسول اللہ ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم ، دیباج اور ریشم کو بھی نہیں پایا اور نبی ﷺ کے بدن اطہر سے زیادہ معطر ، کستوری یا عنبر کی خوشبو نہیں سونگھی ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِيهَا فَيَقِيلُ عِنْدَهَا فَتَبْسُطُ نِطْعًا فَيَقِيلُ عَلَيْهِ وَكَانَ كَثِيرَ الْعَرَقِ فَكَانَتْ تَجْمَعُ عَرَقَهُ فَتَجْعَلُهُ فِي الطِّيبِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا؟» قَالَتْ: عَرَقُكَ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا قَالَ: «أصبت» . مُتَّفق عَلَيْهِ

ام سلیم ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ان کے ہاں تشریف لایا کرتے اور وہیں قیلولہ فرمایا کرتے تھے ، وہ چمڑے کی چٹائی بچھا دیتیں اور آپ اس پر قیلولہ فرماتے ، آپ کو پسینہ بہت آتا تھا ، وہ آپ کا پسینہ جمع کر لیتیں اور پھر اسے خوشبو میں شامل کر لیتیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ام سلیم ! یہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : آپ کا پسینہ ہے ، ہم اسے اپنی خوشبو کے ساتھ ملا لیتے ہیں ، آپ کا پسینہ ایک بہترین خوشبو ہے ، ایک دوسری روایت میں ہے ۔ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم اس کے ذریعے اپنے بچوں کے لیے برکت حاصل کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے ٹھیک کیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْأُولَى ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَهْلِهِ وَخَرَجْتُ مَعَهُ فَاسْتَقْبَلَهُ وِلْدَانٌ فَجَعَلَ يَمْسَحُ خَدَّيْ أَحَدِهِمْ وَاحِدًا وَاحِدًا وَأَمَّا أَنَا فَمَسَحَ خَدِّي فَوَجَدْتُ لِيَدِهِ بردا وريحاً كَأَنَّمَا أَخْرَجَهَا مِنْ جُؤْنَةِ عَطَّارٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَذَكَرَ حَدِيثَ جَابِرٍ: «سَمُّوا بِاسْمِي» فِي «بَابِ الْأَسَامِي» وَحَدِيثُ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ: نَظَرْتُ إِلَى خاتمِ النبوَّةِ فِي «بَاب أَحْكَام الْمِيَاه»

جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز اولی (فجر یا ظہر) پڑھی ، پھر آپ اپنے اہل خانہ کی طرف تشریف لے گئے ، میں بھی آپ کے ساتھ ہی (مسجد سے) نکل آیا ، راستے میں کچھ بچے آپ سے ملے تو آپ نے باری باری ان کے رخساروں پر دست شفقت پھیرا جبکہ آپ نے میرے دونوں رخساروں پر دستِ شفقت پھیرا ۔ میں نے آپ ﷺ کے دست مبارک کی ٹھنڈک اور خوشبو ایسے محسوس کی گویا آپ نے اسے عطار کے ڈبے سے نکالا ہے ۔ رواہ مسلم ۔ جابر ؓ سے مروی حدیث : ((سموا باسمی .....)) ’’باب الاسامی‘‘ میں اور سائب بن یزید ؓ سے مروی حدیث ((نظرت الیٰ خاتم النبوۃ .....)) ’’باب احکام المیاہ‘‘ میں بیان کی گئی ہے ۔

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بالطويل وَلَا بالقصير ضخم الرَّأْس واللحية شئن الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ مُشْرَبًا حُمْرَةً ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ طَوِيلَ المَسْرُبَةِ إِذا مَشى تكفَّأ تكفُّأً كَأَنَّمَا يَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

علی بن ابی طالب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ لمبے قد کے تھے نہ چھوٹے قد کے ، سر مبارک ضخیم تھا ، داڑھی گھنی تھی ، ہاتھ اور پاؤں بھاری تھے ، سرخ و سفید رنگ تھا ، ہڈیوں کے جوڑ مضبوط تھے ، آپ کے سینے سے ناف تک بالوں کی لمبی لکیر تھی ، جب آپ چلتے تو آگے کو جھکے ہوتے گویا آپ بلندی سے نیچے اتر رہے ہیں ، اور میں نے آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں آپ جیسا کوئی دیکھا نہ آپ کے بعد ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْهُ كَانَ إِذَا وَصَفَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمْ يَكُنْ بِالطَّوِيلِ الْمُمَّغِطِ وَلَا بِالْقَصِيرِ الْمُتَرَدِّدِ وَكَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبْطِ كَانَ جَعْدًا رَجِلًا وَلَمْ يَكُنْ بِالْمُطَهَّمِ وَلَا بِالْمُكَلْثَمِ وَكَانَ فِي الْوَجْهِ تَدْوِيرٌ أَبْيَضُ مُشْرَبٌ أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ أَهْدَبُ الْأَشْفَارِ جَلِيلُ الْمَشَاشِ وَالْكَتَدِ أَجْرَدُ ذُو مَسْرُبةٍ شئن الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ إِذَا مَشَى يَتَقَلَّعُ كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صَبَبٍ وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ مَعًا بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ وَهُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ أَجْوَدُ النَّاسِ صَدْرًا وَأَصْدَقُ النَّاسِ لَهْجَةً وَأَلْيَنُهُمْ عَرِيكَةً وَأَكْرَمُهُمْ عَشِيرَةً مَنْ رَآهُ بَدِيهَةً هَابَهُ وَمَنْ خَالَطَهُ مَعْرِفَةً أَحَبَّهُ يَقُولُ نَاعِتُهُ: لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

علی بن ابی طالب ؓ جب نبی ﷺ کے اوصاف بیان کرتے تو فرماتے : آپ ﷺ زیادہ لمبے تھے نہ زیادہ چھوٹے تھے بلکہ آپ درمیانہ قد تھے ، آپ کے بال بالکل گھنگریالے تھے نہ بالکل سیدھے بلکہ ان دونوں صورتوں کے درمیان تھے ، آپ کا چہرہ مبارک بالکل گول نہیں تھا ، بلکہ قدرے گولائی میں تھا ، آپ کا رنگ سرخی مائل سفید تھا ، آنکھیں سیاہ ، دراز پلکیں ، جوڑوں کی ہڈیاں اٹھی ہوئی مضبوط تھیں ، کندھوں کا درمیانی حصہ بھی بڑا اور مضبوط تھا ، آپ کے بدن پر بال نہیں تھے ، بس سینے اور ناف تک ایک لکیر تھی ، ہاتھ اور پاؤں بھاری تھے ، جب آپ چلتے تو پاؤں اٹھا کر رکھتے گویا آپ بلندی سے اتر رہے ہیں ، جب آپ کسی کی طرف التفات فرماتے تو مکمل توجہ فرماتے ، آپ کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی ، اور آپ خاتم النبیین ہیں ، آپ سب سے بڑھ کر دل کے سخی تھے ، سب سے زیادہ صاف گو تھے ، سب سے زیادہ نرم مزاج تھے ، قبیلے کے لحاظ سے سب سے زیادہ معزز تھے ، جو آپ کو اچانک دیکھتا تو وہ ہیبت زدہ ہو جاتا ، جو آپ کی صحبت اختیار کرتا اور واقفیت حاصل کر لیتا تو وہ آپ سے والہانہ محبت کرنے لگتا ، اور آپ کے وصف بیان کرنے والا (آخر پر) یہ کہتا : میں نے آپ ﷺ جیسا آپ کی حیات مبارکہ میں کوئی دیکھا نہ آپ کے بعد ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْلُكْ طَرِيقًا فَيَتْبَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا عرفَ أَنه قد سلكه من طيب عرقه - أَوْ قَالَ: مِنْ رِيحِ عَرَقِهِ - رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جس راہ سے گزر جاتے تو آپ کے بعد اس راہ سے گزرنے والا آپ کی خوشبو سے یا آپ کے معطر پسینے سے پہچان لیتا کہ آپ ﷺ یہاں سے گزرے ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔

وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قُلْتُ لِلرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ: صِفِي لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ لَوْ رأيتَه رأيتَ الشَّمسَ طالعة. رَوَاهُ الدَّارمِيّ

ابو عبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر بیان کرتے ہیں ، میں نے ربیع بنت معوذ بن عفراء ؓ سے کہا : آپ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے اوصاف سے آگاہ کریں ، انہوں نے فرمایا : بیٹے ! اگر تم انہیں دیکھتے تو تم (ان کے چہرے مبارک کو) چمکتا ہوا سورج دیکھتے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ إِضْحِيَانٍ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى الْقَمَرِ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ فَإِذَا هُوَ أَحْسَنُ عِنْدِي مِنَ الْقَمَرِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي

جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے چاندنی رات میں نبی ﷺ کو دیکھا تو میں (باری باری) رسول اللہ ﷺ اور چاند کی طرف دیکھنے لگا ، آپ نے سرخ جوڑا زیب تن کیا ہوا تھا ، اور اس وقت میری نظر میں آپ چاند سے بھی زیادہ خوبصورت تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَن الشَّمْس تجْرِي على وَجْهِهِ وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مَشْيِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا الْأَرْضُ تُطْوَى لَهُ إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا وَإنَّهُ لغير مكترث. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ حسین چیز کوئی نہیں دیکھی ، گویا آپ کے چہرے مبارک پر سورج جلوہ ریز ہے ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ تیز رفتار کسی کو نہیں دیکھا گویا آپ کے لیے زمین لپیٹی جا رہی ہے ، ہم پوری طرح تیز چلنے کی کوشش کرتے لیکن آپ ﷺ پروا کیے بغیر چلتے رہتے (پھر بھی ہم آپ تک نہیں پہنچ سکتے تھے) ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔