مشکوۃ

Mishkat

كتاب المناقب

حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان

بَابِ مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَينا رجل يَسُوق بقرة إِذْ أعيي فَرَكِبَهَا فَقَالَتْ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْنَا لِحِرَاثَةِ الْأَرْضِ. فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ بَقَرَةٌ تَكَلَّمُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنِّي أومن بِهَذَا أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ» . وَمَا هُمَا ثَمَّ وَقَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمٍ لَهُ إِذْ عدا الذِّئْب فَذهب عَلَى شَاةٍ مِنْهَا فَأَخَذَهَا فَأَدْرَكَهَا صَاحِبُهَا فَاسْتَنْقَذَهَا فَقَالَ لَهُ الذِّئْبُ: فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبْعِ يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي؟ فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ الله ذِئْب يتَكَلَّم؟ . قَالَ: أُومِنُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمَا هما ثمَّ. مُتَّفق عَلَيْهِ

ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس اثنا میں کہ ایک آدمی گائے ہانک رہا تھا ، جب وہ تھک جاتا تو وہ اس پر سوار ہو جاتا ، اس نے کہا : ہمیں اس لیے نہیں پیدا کیا گیا ، ہمیں تو کھیت جوتنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے ، لوگوں نے کہا : سبحان اللہ : گائے کلام کرتی ہے ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اس پر ایمان رکھتا ہوں ابوبکر اور عمر ؓ بھی اس پر ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ اور وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہیں تھے ، اور فرمایا :’’ ایک آدمی بکریاں چرا رہا تھا کہ بھیڑیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اسے پکڑ لیا ، اس کے مالک نے اسے جا لیا اور اسے چھڑا لیا ، بھیڑیے نے اسے کہا : جس دن درندے ہی درندے رہ جائیں گے اور اس دن میرے سوا بکریوں کو چرانے والا کون ہو گا ؟ لوگوں نے کہا : سبحان اللہ ! بھیڑیا کلام کرتا ہے ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اس پر ایمان رکھتا ہوں اور ابوبکر و عمر ؓ اس پر ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ اور وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہیں تھے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنِّي لَوَاقِفٌ فِي قَوْمٍ فَدَعَوُا اللَّهَ لِعُمَرَ وَقَدْ وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ إِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلَفِي قد وضع مِرْفَقُهُ عَلَى مَنْكِبِي يَقُولُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ لِأَنِّي كَثِيرًا مَا كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُنْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَفَعَلْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَانْطَلَقْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَدَخَلْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَخَرَجْتُ وَأَبُو بكر وَعمر» . فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. مُتَّفق عَلَيْهِ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ان لوگوں میں کھڑا تھا جو عمر ؓ کے لیے دعائیں کر رہے تھے ، اور ان کا جنازہ ان کی چار پائی پر رکھا ہوا تھا ، کہ اچانک ایک آدمی نے میرے پیچھے سے اپنی کہنی میرے کندھوں پر رکھ دی ، اور وہ کہہ رہے تھے : اللہ آپ ؓ پر رحم فرمائے ، مجھے امید ہے کہ اللہ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ (دفن) کرائے گا ۔ کیونکہ میں اکثر رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کرتا تھا :’’ میں ، ابوبکر اور عمر تھے ، میں ، ابوبکر اور عمر نے کلام کیا ، میں ، ابوبکر اور عمر گئے ، میں ، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے ، میں ، ابوبکر اور عمر باہر نکلے ۔‘‘ میں نے جو مڑ کر دیکھا تو وہ علی بن ابی طالب ؓ تھے ۔ متفق علیہ ۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِن أهل الْجنَّة ليراءون أهلَ عِلِّيِّينَ كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا» . رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» وَرَوَى نَحْوَهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جنت والے مقام علیین والوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم آسمان کے افق میں چمک دار ستارے کو دیکھتے ہو ، اور ابوبکر و عمر انہی میں سے ہیں ، اور وہ کیا خوب ہیں ۔‘‘ شرح السنہ ، ابوداؤد ، ترمذی اور ابن ماجہ نے اسی طرح روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ و ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيين وَالْمُرْسلِينَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوبکر اور عمر ؓ اہل جنت کے اولین و آخرین کے عمر رسیدہ لوگوں کے سردار ہوں گے البتہ انبیا ؑ اور رسول اس سے مستثنیٰ ہوں گے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ

امام ابن ماجہ ؒ نے اسے علی ؓ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَا أَدْرِي مَا بَقَائِي فِيكُمْ؟ فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي: أَبِي بكر وَعمر . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نہیں جانتا کہ میں تم میں کتنی دیر باقی رہوں گا ، میرے بعد تم ابوبکر اور عمر دونوں کی اقتدا کرنا ۔‘‘ حسن ، راہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ لَمْ يَرْفَعْ أَحَدٌ رَأْسَهُ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانَا يَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ وَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ جب مسجد میں تشریف لاتے تو ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کے سوا کوئی اپنا سر نہ اٹھاتا وہ دونوں آپ کی طرف دیکھ کر مسکراتے اور آپ ان دونوں کی طرف دیکھ کر مسکراتے تھے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ وَهُوَ آخِذٌ بِأَيْدِيهِمَا. فَقَالَ: «هَكَذَا نُبْعَثُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز نبی ﷺ (گھر سے) باہر نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے ۔ اور ابوبکر و عمر ؓ میں سے ایک آپ کے دائیں طرف تھا اور ایک آپ کے بائیں طرف تھا ، آپ ان دونوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت ہم اسی طرح اٹھائے جائیں گے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ: «هَذَانِ السَّمْعُ وَالْبَصَرُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مُرْسلا

عبداللہ بن حنطب ؒ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ابوبکر اور عمر ؓ کو دیکھا تو فرمایا :’’ یہ دونوں سمع و بصر (کی طرح) ہیں ۔‘‘ امام ترمذی نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَلَهُ وَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ وَوَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ فَجِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ وَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر نبی کے آسمان والوں سے دو وزیر ہیں اور زمین والوں سے دو وزیر ہیں ۔ آسمان والوں سے میرے دو وزیر جبریل ؑ اور میکائیل ؑ ہیں ، اور زمین والوں میں سے ابوبکر اور عمر ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

إِن سلم من عنعنة الْحسن الْبَصْرِيّ) وَعَن أبي بكرَة أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحْتَ أَنْتَ وَوُزِنَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ وَوُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَحَ عُمَرُ ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ فَاسْتَاءَ لَهَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَسَاءَهُ ذَلِكَ. فَقَالَ: «خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ، میں نے (خواب میں) دیکھا کہ گویا ایک ترازو آسمان سے اترا ہے ، آپ ﷺ کا ابوبکر ؓ سے وزن کیا گیا تو آپ بھاری رہے ، ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کا وزن کیا گیا تو ابوبکر ؓ بھاری رہے ، عمر ؓ اور عثمان ؓ کا وزن کیا گیا تو عمر ؓ بھاری رہے ، پھر ترازو اٹھا لی گئی ۔ اس سے رسول اللہ ﷺ غمگین ہوئے ، یعنی اس (خواب) نے آپ کو غمگین کر دیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نبوت کا خلافت کی جانب اشارہ ہے ، پھر اللہ جسے چاہے گا بادشاہت عطا فرمائے گا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَطَّلِعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» . فَاطَّلَعَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ: «يَطَّلِعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَاطَّلَعَ عُمَرُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب

ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اہل جنت میں سے ایک آدمی تمہارے پاس ظاہر ہو گا ۔‘‘ ابوبکر ؓ تشریف لائے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اہل جنت میں سے ایک آدمی تمہارے پاس ظاہر ہو گا ۔‘‘ عمر ؓ تشریف لائے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: بَيْنَا رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حجري لَيْلَةٍ ضَاحِيَةٍ إِذْ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ يَكُونُ لِأَحَدٍ مِنَ الْحَسَنَاتِ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ؟ قَالَ: «نَعَمْ عُمَرُ» . قُلْتُ: فَأَيْنَ حَسَنَاتُ أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَ: «إِنَّمَا جَمِيعُ حَسَنَاتِ عُمَرَ كَحَسَنَةٍ وَاحِدَةٍ مِنْ حَسَنَاتِ أَبِي بَكْرٍ» رَوَاهُ رزين

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں چاندنی رات میں رسول اللہ ﷺ کا سر مبارک میری گود میں تھا کہ اچانک میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا کسی شخص کی آسمان کے ستاروں کے برابر نیکیاں ہوں گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، عمر ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، ابوبکر ؓ کی نیکیاں کہاں گئیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عمر کی ساری نیکیاں ، ابوبکر کی نیکیوں کے مقابلے میں ایک نیکی کی مانند ہیں ۔‘‘ اسنادہ موضوع ، رواہ رزین ۔