مشکوۃ

Mishkat

كتاب المناقب

ان تینوں کے مناقب کا بیان

بَاب مَنَاقِب هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَة

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ فَقَالَ: «اثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ احد پہاڑ پر چڑھے ، ابوبکر و عمر اور عثمان ؓ بھی آپ کے ساتھ تھے ، اس نے حرکت کی تو آپ نے اس پر اپنا پاؤں مار کر فرمایا :’’ احد ! ٹھہر جاؤ ، تم پر ایک نبی ہے ، ایک صدیق اور دو شہید ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» فَفَتَحْتُ لَهُ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ فَبَشَّرْتُهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» . فَفَتَحْتُ لَهُ فَإِذا هُوَ عُمَرُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ فَقَالَ لِي: «افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ» فَإِذَا عُثْمَانُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ ثمَّ قَالَ: الله الْمُسْتَعَان. مُتَّفق عَلَيْهِ

ابوموسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مدینہ کے ایک باغ میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا ، ایک آدمی آیا اور اس نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اس کے لیے دروازہ کھول دو ، اور اسے جنت کی بشارت دو ۔‘‘ چنانچہ میں نے اس شخص کے لیے دروازہ کھول دیا تو وہ ابوبکر ؓ تھے ، میں نے رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق انہیں جنت کی بشارت سنائی تو انہوں نے اللہ کی حمد بیان کی ، پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے بھی دروازہ کھولنے کا کہا تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اس کے لیے بھی دروازہ کھول دو ، اور اسے بھی جنت کی بشارت سناؤ ۔‘‘ چنانچہ میں نے اس کے لیے دروازہ کھولا تو وہ عمر ؓ تھے ، میں نے نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق انہیں بھی جنت کی بشارت سنائی تو انہوں نے اللہ کی حمد بیان کی ، پھر ایک اور آدمی نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ اس کے لیے دروازہ کھول دو اور اسے بھی جنت کی بشارت سنا دو ، ان مصائب کے بعد جن سے ان کا واسطہ پڑے گا ۔‘‘ تو وہ عثمان ؓ تھے ، میں نے نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق انہیں بتایا تو انہوں نے اللہ کی حمد بیان کی ۔ پھر فرمایا : اللہ ہی سے مدد درکار ہے ۔ متفق علیہ ۔

عَن ابْن عمر قَالَ: كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ: أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِي الله عَنْهُم. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنھم کہا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

عَن جابرن أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُرِيَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ صَالِحٌ كَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ نِيطَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنِيطَ عُمَرُ بِأَبِي بَكْرٍ وَنِيطَ عُثْمَانُ بِعُمَرَ» قَالَ جَابِرٌ: فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: أَمَّا الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَرَسُولُ اللَّهِ وَأَمَّا نَوْطُ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ فَهُمْ وُلَاةُ الْأَمْرِ الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ رات مجھے خواب میں ایک مرد صالح دکھایا گیا گویا وہ ابوبکر ؓ ہیں ، جو کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ معلق ہیں ، عمر ابوبکر کے ساتھ معلق ہیں ، اور عثمان عمر کے ساتھ معلق ہیں ۔‘‘ جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سے اٹھے تو ہم نے کہا : مرد صالح سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں ، اور دوسرے جو ایک دوسرے کے ساتھ معلق ہیں ، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اس دین کے والی ہیں ، جس کے ساتھ اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو مبعوث فرمایا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔