مشکوۃ

Mishkat

كتاب المناقب

علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان

بَاب مَنَاقِب عَليّ بن أبي طَالب


وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ بِغَدِيرِ خُمٍّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قَالُوا: بَلَى قَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟» قَالُوا: بَلَى قَالَ: «اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» . فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ: هَنِيئًا يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كلَّ مُؤمن ومؤمنة. رَوَاهُ أَحْمد

براء بن عازب اور زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب غدیر خم پر پڑاؤ ڈالا تو آپ ﷺ نے علی ؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :’’ کیا تم نہیں جانتے کہ میرا مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق ہے ؟‘‘ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ! ضرور ہے ، پھر فرمایا :’’ کیا تم نہیں جانتے کہ میرا ہر مومن پر اس کی جان سے بھی زیادہ حق ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، کیوں نہیں ! ضرور ہے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! میں جس شخص کا دوست ہوں علی اس کے دوست ہیں ، اے اللہ ! جو شخص اس کو دوست بنائے تو اسے دوست بنا ، اور جو شخص اس سے دشمنی رکھے تو انہیں دشمن بنا ۔‘‘ اس کے بعد عمر ؓ علی سے ملے تو انہوں نے علی ؓ سے کہا : ابن ابی طالب ! آپ کو مبارک ہو آپ صبح و شام (ہر وقت) ہر مومن اور ہر مومنہ کے دوست بن گئے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

Status: Zaeef
حکمِ حدیث: ضعیف
Reference
حوالہ حکم
(ضَعِيف)
Conclusion
تخریج
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۴ / ۲۸۱ ح ۱۸۶۷۱ من حدیث البراء بن عازب رضی اللہ عنہ) * فیہ علی بن زید بن جدعان : ضعیف ، و رواہ احمد (۴ / ۳۶۸ ، ۳۷۰ ، ۳۷۲) من طرق عن زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بہ دون قول عمر رضی اللہ عنہ و المرفوع صحیح ۔